ادبی اچکا صاحب کتاب

عظیم اختر

 

 

حرف نیم کش 

 

ممکن ہے دہلی والوں کے استاد یعنی جناب استاد رسا کسی زمانے میں یہاں کے شعری، ادبی حلقوں اور مشاعروں میں رسا دہلوی کے نام سے جانے پہچانے جاتے رہے ہوں لیکن ہماری عمر کے لوگوں نے جب ہوش سنبھالا تو استاد کا سابقہ ان کے نام کے ساتھ لازم و ملزوم ہی نظر آیا اور وہ دہلی کے ایک کونے سے دوسرے کون تک استاد رسا کے نام سے ہی مشہور نظر آئے۔ ہر چھوٹا بڑا محض ان کو استاد یا حضرت استاد رسا کہتا۔ مشاعروں کے پوسٹروں، دعوت ناموں میں بھی اہتمام کے ساتھ استاد رسا ہی لکھا جاتا تھا۔ دہلی کے ادبی اور سماجی زندگی میں استاد کا لفظ ان کی پہچان بن گیا تھا۔ ان کے اکثر ہم عصر شعراءبھی انھیں استاد کہہ کر مخاطب کرتے تھے، مشاعروں اور ادبی نشستوں میں جب ان کے ہم عصر انھیں استاد کہہ کر مخاطب کرتے تو ان کے چہرے پر طمانیت کی ایک لہر دوڑ جاتی اور وہ سراپا انکسار بن کر متوجہ ہوتے۔ استاد رسااپنے کچھ ہم عصروں کے دل سے عزت کرتے تھے اور انھیں یوم بیخود کے سالانہ مشاعروں میں ضرور مدعو کرتے، لیکن کچھ ایسے ہم عصر شعراءبھی تھے جو انھیں صرف رسا صاحب کہتے اور بھولے سے کبھی بھی استاد کا سابقہ نہ جوڑتے۔ استاد کے یہاں ایسے ہم عضروں کی کوئی قدر و منزلت نہیں تھی۔

پرسوں ایک ہفتے کے لیے کوئمبٹور جارہا ہوں 

ایسے ہم عصر عام طور پر استاد رسا سے تفریح لینے یا ان کو چڑانے کے لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر کوئی نہ کوئی حرکت ضرور کرتے اور پھر استاد رسا کا نثری قصیدہ شروع ہوجاتا جو ان ہم عصروں کے خاندانی عادات وخصائل پر ہی جاکر ختم ہوتا۔ ایک شام استاد رسا حسب معمول اردو بازار کی ایک بند دکان کے تھڑے پر اپنے چند شاگردوں اور نیازمندوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک اردو کے ایک لیکچرر تشریف لائے جو شاعری بھی کرتے تھے اور استاد کی درپردہ مخالفت کرنے کے لیے بھی مشہور تھے۔ رسمی سلام و دعا کے بعد استاد نے حال چال پوچھا تو بڑی بے نیازی سے بولے، بھئی رسا صاحب مشاعروں اور کانفرنسوں سے بہت پریشان ہوں۔ آئے دن سفر میں رہتا ہوں، پچھلے دنوں سنگاپور کا سفر رہا۔ وہاں تین مشاعرے تھے۔ منتظمین کے اصرار پر نہ چاہتے ہوئے بھی جانا پڑا۔ دو تین پاکستانی شاعر اور بھی تھے لیکن سامعین نے دل کھول کر داد دی تو بس اس دہلی والے کو دی۔ پرسوں ایک ہفتے کے لیے کوئمبٹور جارہا ہوں۔ وہاں ایک بین الاقوامی علمی ادبی کانفرنس ہے۔ اس میں شرکت بہت ضروری ہے۔ اگلے ماہ دبئی کے عالمی مشاعرے میں شرکت کرنے ہے۔ مشاعرہ کے منتظمین اور وہاں کے اردو نواز حضرات میرے زبردست مداح ہیں ان کی محبت میں جانا ہی پڑے گا۔ موصوف بڑے فخر و مباہات سے اپنی مصروفیات گنا رہے تھے اور استاد رسا حیرت سے ان کو تک رہے تھے۔ استاد کی حیرت میں اور اضافہ کرنے کے لیے موصوف نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا اور بولے ”میاں رسا صاحب اتنی مصروفیات کے باوجود لکھنے پڑھنے کا سلسلہ بہ دستور جاری ہے۔ پچھلے ہفتے میری یہ نئی کتاب مارکیٹ میں آئی ہے اور اب تک نو کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔“

میری یہ کتاب داغ اسکول پر ہے 

یہ کہہ کر موصوف نے اپنا بریف کیس کھولا، ایک کتاب نکال لی، اندر کے ایک صفحے پر کچھ لکھا اور استاد کو پیش کرتے ہوئے بولے، میری یہ کتاب داغ اسکول پر ہے۔ استاد بیخود کے تذکرے میں آپ کا حوالہ بھی موجود ہے۔ استاد نے کتاب ہاتھ میں لی، سرورق کو دیکھا، اندرونی صفحات پر نظر ڈالی، ایک ہنکاری بھری اور کتاب کو پہلو میں رکھتے ہوئے بولے، ”طباعت اچھی ہے اور جلد بھی مضبوط ہے“ یہ کہہ کر اپنے شاگرد سے بولے میاں ان کے لیے چائے وائے کا انتظام کرو انھیں اگلے ہفتے کوئمبٹور جانا ہے۔ یہ سن کر لیکچرر موصوف جلدی سے بولے نہیں نہیں رسا صاحب چائے کے تکلف کی ضرورت نہیں، اب میں چلتا ہوں۔ بہت سے ضروری کام باقی ہیں، دبئی کے سفر کے بعد آپ سے ضرور ملوں گا اور آپ سے چائے پیوں گا۔ آپ یہ کتاب ضرور پڑھیے، یہ میری نویں کتاب ہے۔ یہ کہہ کر موصوف چلے گئے، ان کے جانے کے بعد استاد نے کتاب کو ایک بار پھر الٹا پلٹا اندرونی صفحات کو غور سے دیکھا، کچھ پڑھا ایک ہنکاری بھری اور پھر کتاب بند کرکے پہلو میں رکھ لی۔

میری تین کتابیں کراچی میں چھپ کر بہت مقبول ہوچکی ہیں 

اس دن کے بعد وہ کتاب ہمہ وقت استاد کی بغل میں دبی ہوئی نظر آنے لگی۔ دس پندرہ دن ہی گذرے تھے ایک دن استاد کو وہ لیکچرر صاحب اردو بازار میں گھومتے ہوئے نظر آگئے۔ استاد شاید ایسے ہی کسی دن کے منتظر تھے اور ان کی کتاب ہمہ وقت بغل میں دبائے رکھتے تھے۔ چنانچہ آگے بڑھ کر نہایت انکساری کے ساتھ سلام کیا اور چائے کی دعوت دے ڈالی، اس دن شاید لیکچرر صاحب کے مت ماری گئی تھی یا کسی اور دھن میں تھے کہ بغیر کچھ سوچے سمجھے دعوت قبول کرلی۔ استاد موصوف کو لے کر مٹیامحل کے ایک چائے خانہ میں پہنچے۔ عزت و احترام سے ایک بینچ پر بٹھایا، چائے اور بسکٹ کا آڈر دیا۔ موصوف نے بیٹھتے ہی لن ترانیاں شروع کردیں۔ رسا صاحب میں نے نظم و نثر میں بڑا کام کیا ہے۔ بڑی گرنقدر ادبی خدمات انجام دی ہیں۔ شاعری کے حوالے سے تو سب جانتے ہی ہیں۔ لیکن نثر میں بھی اب میرا اعتراف کیا جانے لگا ہے۔ پاکستان میں تو مجھے دہلی پر اتھارٹی مانا جاتا ہے۔ میری تین کتابیں کراچی میں چھپ کر بہت مقبول ہوچکی ہیں۔ آپ لوگ صرف شاعری کرتے ہیں اور بسم اللہ کے گنبد میں بند رہتے رہتے ہیں۔ یہ کہہ کر لیکچرر موصوف استہزائیہ انداز میں بولے میاں رسا صاحب آپ کو کیا پتہ اس حقیر فقیر دہلی والے کے کیا جلوے ہیں۔ میری اس نئی کتاب نے ادبی حلقوں کو خاصا متا


¿ثر کیا ہے۔ موصوف ابھی یہی کہہ پائے تھے کہ چائے خانے میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے دیکھا کہ استاد نے ایک زوردار ہنکاری بھری اورپھر زوردار آواز میں بولے، حقیر فقیر صاحب آپ صحیح فرمارہے ہیں، آپ کے باہر بڑے جلوے ہیں، کچھ جلوے تو یہاں بھی ہوجائیں۔ یہ کہہ کر استاد نے پہلو میں رکھی ہوئی بغچی کھولی اور ایک کتاب نکال کر بولے ہاں تو حقیر فقیر پروفیسر صاحب یہ آپ کی نویں کتاب ہے جس نے ادبی حلقوں کو متا


¿ثر کیا ہے۔ لیکچرر موصوف فوراً بولے، ہاں بھئی یہ میری نویں کتاب ہے۔ استاد نے فہرست مضامیں کے صفحے پر انگلی رکھتے ہوئے کہا اگر یہ آپ کی کتاب ہے تو پھر یہاں دوسروں کے نام کیوں ہیں؟

 

میں تمھیں اس بدتمیزی کے لیے زندگی بھر معاف نہیں کروں گا 

لیکچرر موصوف استاد کے تیور بھانپ چکے تھے اس سے پہلے کہ استاد کچھ اور کہتے جلدی سے بولے میاں میں نے مشہور و ممتاز قلمکاروں کے مضامین یکجا کرکے ایک جامع مقدمہ قلمبند کیا ہے۔ اس مقدمے سے ان مضامین کی ادبی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ استاد ان کی بات کاٹتے ہوئے بولے اچھا تو آپ نے مقدمہ لکھ کر دوسروں کے مضامین کی ادبی اہمیت بڑھادی۔ یہ کہہ کر استاد نے جلدی سے مقدمے کے صفحات پھاڑے اور مٹھی میں موڑتوڑ کر باہر پھینکتے ہوئے پروفیسر صاحب اب آپ اس کتاب میں کہاں ہیں۔ لیکچرر صاحب اس صورت حال کے لیے تیار نہیں تھے۔ غصے میں بھناکر کھڑے ہوگئے اور بولے رسا تم میری ادبی خدمات اور مقبولیت سے جلتے ہو۔ میں تمھیں اس بدتمیزی کے لیے زندگی بھر معاف نہیں کروں گا۔ استاد نے برجستہ جواب دیا ”میاں پروفیسر صاحب دوسروں کے مضامین کو جمع کرکے اپنے نام سے کتاب چھاپنا اگر ادبی خدمت ہے تو پھر اچکاپن کیا ہے۔ بس دہلی والا سمجھ کر چھوڑدیا ورنہ دل تو چاہتا ہے کہ تمھاری اس نویں کتاب کی ایسے خبر لی جائے کہ تم شہر میں ادبی اچکا صاحب کتاب کے نام مشہور ہوجاو


¿ اور یہاں سے بھاگ کر صرف کوئمبٹور میں پناہ لو وہاں تو تمھارے بہت مداح ہیں۔

 

یہ سن کر لیکچر موصوف غصے میں بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے ”پتہ نہیں استاد نے اس کتاب کی خبر لی یا نہیں لیکن ادبی جلسوں اور شعری نشستوں میں لیکچرر موصوف جب بھی نظر آتے اکثر سامعین مسکر ا کردھیرے سے کہتے ادبی اچکا صاحب کتاب۔

0 comments

Leave a Reply