المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں دو روزہ میڈیا لٹریسی ورکشاپ، سو سے زائد فارغینِ مدارس کی شرکت
حیدرآباد: ملک کے معروف تربیتی و تحقیقی ادارے المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی سرپرستی میں دو روزہ میڈیا لٹریسی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے سو سے زائد فارغینِ مدارس نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد مدارس کے فارغین کو ذرائع ابلاغ کی بنیادی سمجھ، جدید ڈیجیٹل میڈیا کے مؤثر استعمال اور صحافتی اخلاقیات سے روشناس کرانا تھا۔
ورکشاپ میں صفا انسٹی ٹیوٹ فار میڈیا لٹریسی اینڈ جرنلزم، لکھنؤ کے ڈائریکٹر مفتی منور سلطان ندوی نے ذرائع ابلاغ کے فنی، سماجی اور شرعی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے عملی سیشن کے دوران شرکاء کو دینی، دعوتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال، معیاری مواد کی تیاری اور جدید میڈیا ٹولز سے استفادہ کے عملی طریقے بھی سکھائے۔
اختتامی نشست کی صدارت کرتے ہوئے حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ سے واقفیت وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے وہ فارغین جو ملت کی فکری و سماجی رہنمائی کی ذمہ داری سنبھالیں گے، ان کے لیے میڈیا کی بنیادی سمجھ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت کی جانب سے بہت سے مثبت اور تعمیری کام انجام دیے جا رہے ہیں، لیکن قومی میڈیا میں اکثر مسلمانوں کی تصویر مسخ کرکے پیش کی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں باصلاحیت، ذمہ دار اور دیانت دار مسلم صحافیوں کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ معاشرے کے سامنے حقائق کا درست رخ پیش کر سکیں۔
مہمانِ خصوصی مفتی منور سلطان ندوی نے ذرائع ابلاغ کے ارتقائی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کی سب سے بڑی خصوصیت سامعین اور ناظرین کی براہِ راست شرکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کو محدود وسائل کے باوجود میڈیا کے میدان میں جو مواقع حاصل ہیں، ماضی میں ان کی مثال نہیں ملتی، اس لیے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے ذرائع ابلاغ کی شرعی حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کے اصولوں اور مقاصد کی روشنی میں موجودہ حالات میں ذرائع ابلاغ کا قیام اور اس میں مؤثر کردار ادا کرنا فرضِ کفایہ کے دائرے میں آتا ہے، کیونکہ ملت کے اجتماعی مفادات کے تحفظ اور صحیح ترجمانی میں میڈیا کا کردار ناگزیر ہو چکا ہے۔
مفتی منور سلطان ندوی نے مزید کہا کہ ملی سطح پر میڈیا کے حوالے سے گفتگو عموماً اخبارات یا ٹیلی ویژن چینل کے قیام تک محدود رہتی ہے، لیکن عملی سطح پر مؤثر اقدامات کم نظر آتے ہیں، جبکہ موجودہ دور میں ایسے متعدد شعبے موجود ہیں جہاں کم وسائل کے ساتھ بھی نمایاں کام کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے میڈیا بیداری، مثبت اور مؤثر مواد کی تیاری، متبادل میڈیا پلیٹ فارمز کے قیام اور نوجوانوں کی صحافتی تربیت کو موجودہ دور کی اہم ضروریات قرار دیا۔
ورکشاپ کے عملی سیشن میں شرکاء کو دینی، دعوتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کے مؤثر استعمال کی مشق کرائی گئی، جبکہ سوشل میڈیا اور صحافت میں اخلاقی حدود، ذمہ دارانہ اظہار اور امانت و دیانت کی پاسداری پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔
واضح رہے کہ مفتی منور سلطان ندوی کی نگرانی میں قائم صفا انسٹی ٹیوٹ فار میڈیا لٹریسی اینڈ جرنلزم، لکھنؤ مدارس اور کالجوں کے طلبہ و فارغین کے لیے میڈیا لٹریسی، صحافت اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے موضوعات پر مختصر مدتی کورسز، ورکشاپس اور سیمینار منعقد کرتا ہے، جن سے اب تک بڑی تعداد میں نوجوان استفادہ کر چکے ہیں۔

0 comments