مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کا تعزیتی پیغام

 

نئی دہلی : مولانا سید سلمان حسینی  ندویؒ کے انتقال پر جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔اپنے تعزیتی  پیغام میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ سید سلمان حسینی ندوی صاحبؒ کے اچانک انتقال کی خبر سے گہرا صدمہ ہوا۔ وہ دور حاضر کے ممتاز عالم دین، معروف مصنف، ماہر تعلیم اور دانشور تھے۔ ان کا انتقال نہ صرف ان کے اہلِ خانہ اور شاگردوں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور عالمِ اسلام کے علمی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ نے اپنی پوری زندگی تعلیم، تحقیق، دعوتِ دین، فکری رہنمائی اور علمی و تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی کے ذریعے اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ قرآن، حدیث، سیرت رسولؐ اور اسلامی فقہ کے ایک ممتاز استاد کی حیثیت سے انہوں نے ہندوستان اور بیرونِ ملک ہزاروں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی۔ ان کی تصانیف، مقالات، خطبات اورعلمی خدمات ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جس سے امتِ مسلمہ طویل عرصے تک استفادہ کرتی رہے گی۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء اور جامعہ سید احمد شہید سے ان کی طویل وابستگی، جمعیت شباب الاسلام کی قیادت اور متعدد تعلیمی و طبی اداروں کے قیام میں اپنے کلیدی کردار نیز علم دین کی اشاعت، کردار سازی اور سماجی خدمات میں اپنی سرگرمی کے لیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سید سلمان حسینی ندوی نے دینی علوم کی گہری بصیرت کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ہندوستان اور عالمی سطح پر اسلامی فکر و دانش کو نئی جہت عطا کی۔

سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ بڑے سے بڑا مفکر بھی غلطیوں اور لغزشوں سے مکمل پاک نہیں ہوسکتا۔مولانا سلمان ندوی صاحب کے بعض خیالات، مواقف اور بیانات سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے ان کی ہمہ جہت گراں قدر خدمات کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے میں ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، رفقائے کار، عقیدت مندوں اور پوری ملت اسلامیہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

ہم اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مولانا مرحوم کی لغزشوں کو معاف فرمائے، اسلام کے لیے ان کی تمام عمر کی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، انہیں صالحین کے اعلیٰ درجات میں جگہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب فرمائے۔ نیز اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو ایسے باکردار اور باصلاحیت علماء عطا فرمائے جو دین کی خدمت کے اس عظیم مشن کو آگے بڑھاتے رہیں۔

 

 

0 comments

Leave a Reply