ملت اسلامیہ سے درمندانہ اپیل ؛ اللہ کے واسطے عقل سلیم سے اب کام لینا شروع کریں

جمعہ کے خطبوں میں زکات کون کھا سکتا ہے اس پر تفصیل سے بیان کیا جائے۔ اور کس پر اس کا استعمال گناہ ہے ، یہ بھی بتایا جائے

نوراللہ خان 

 

السلام علیکم ، عزیزان گرامی !امید ہے کہ بخیر ہوں گے۔  افسوس کہ حالیہ عالمی وبا “کورونا وائرس “ جو کہ ایک نہایت ہی مہلک بیماری ہے، اس مرض نے ایک آزمائش کی شکل میں سب کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ 

 

موجودہ سماجی دوری ، قرنطینہ اور عزلت و گوشہ نشینی نے عالم انسانیت کے سامنے نہ صرف کئی مسائل کھڑے کئے ہیں بلکہ بیماری سے زیادہ لوگ فاقہ کشی سے پریشان ہورہے ہیں ۔ لیکن بہر حال اس سے نجات کا واحد عمومی ذریعہ جسمانی دوری بنانا ہی ہے۔ سماجی اجتماع سے دور رہ کر اس مصیبت کی گھڑی میں انسانی قربت اور اخلاقی اقدار کا اعلی ثبوت دینا ہمارا انسانی ، سماجی ، اخلاقی اور سب سے بڑھ کر ایک مذہبی فریضہ ہے۔ اسے ضرور یاد رکھیں اور ہر طرح سے طبی ہدایات کا پورا خیال رکھیں۔ 

 

رمضان سنہ ۲۰۲۰ ان شاء اللہ اپنی بے شمار نعتوں اور برکتوں کے ساتھ ۲۵/ اپریل سے شروع ہونے والا ہے۔ اللہ کرے یہ رمضان ہم سب بشمول تما م انسانیت کیلئے خیر و برکت کا ذریعہ بنے ۔آمین

 

رمضان میں حسب سابق سفراء مدارس سفر کیلئے تیار ہوں گے۔ لیکن اس وقت لاک ڈاؤن کی مدت ، طبی ہدایات اور حالات کے پیش نظر ان کا سفر خطرناک ہوسکتا ہے۔ دوران سفر عوامی غم و غصہ اور میڈیا کے خاص منفی لب و لہجہ کی وجہ سے شرپسند ان کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس لئے مکمل طور پر حکومت کی ہدایات کا خیال کرتے ہوئے اور عمومی اجازت کے بعد ہی سفر پر جائیں اور کوشش کریں کہ ادارے کی آئی ڈی اور اپنا شناختی کارڈ وغیرہ ساتھ رکھیں۔ 

 

اہل خیر حضرات سے گزارش ہے کہ اس سال بطور احتیاط اپنا تعاون اداروں کے اکاؤنٹ میں ڈالنے کی کوشش کریں یا کوئی اور ذریعہ اپنائیں جس سے شفافیت، بے جا سفر کے خرچ اور فرقہ وارانہ خدشات وغیرہ سے بچ کر موجودہ حالات  سے کچھ سیکھا جاسکے اور فراست مومن کا عملی اظہار  بھی ہو سکے۔اپنا تعاون جاری رکھیں تاکہ یہ  ادارے زندہ رہیں لیکن اللہ کے واسطے عقل سلیم سے اب کام لینا شروع کریں ۔

 

کچھ ضروری نکات ازراہ خیر خواہی پیش خدمت ہیں۔  

 

۱- صرف موجودہ روایتی چندہ پر انحصار سے بچیں۔ 

۲- خود کفالتی نظام لائیں

۳- دس بیس فیصد زکات کے مستحق ، محتاج طلبہ کے نام پر مکاتب اسلامیہ میں موجودہ  مفت تعلیمی سسٹم پر ازسر نو  غور کریں۔ محتاجوں کی ضرور مزید مدد کریں۔ 

 

۴- لیکن صاحب نصاب اور زکات جن پر بھی فرض ہے ان کو سمجھائیں اور ان سے فیس لی جائے تاکہ یہ نہ ہو کہ حساب و کتاب یا ایسی مصیبت کے ناطے چندہ نہ ہو سکے تو ادارے بند ہوجائیں۔

 

۴- انفرادی اہل خیر اپنا تعاون جاری رکھیں لیکن سب کا تعاون لیا جائےتاکہ سب کو وابستہ کیا جائے اور کسی کی عدم حمایت اور عدم موجودگی میں ادارے کو بند ہونے  یا اچانک و ہنگامی حالات سے بچایا جاسکے۔ ورنہ اگر چندہ کم یا بالکل نہیں ہوا تو کچھ لوگ اس لئے تعاون نہیں دیں گے کہ جس خاندان نےاکیلے چلایا تھا وہ ذمے دار ہیں۔ کچھ لوگ طاقت ہوتے ہوئے بھی ایک زمانے سے مفت تعلیم پانے کی وجہ سے عادی ہوگئے ہیں اس لئے اعانت نہیں دیں گے۔ اس کی وجہ سے مدرس کم ہوں گے، اچھے مدرس چلے جائیں گے۔ یا چار چھ اساتذہ کے بجائے ایک دو ہی رہیں گے اور مالی حالت کی کم کمزوری سے با صلاحیت مدرسین کا تقرر بھی یقینی بنانا دشوار ہوجائیگا۔ نتیجتا غیر معیاری تعلیم ہوگی اور جس رفتار سے لوگ مکتب سے بھاگ رہے ہیں اس میں نہ صرف بڑا اضافہ ہوگا بلکہ اس ابتر صورت حال اور کم بچوں کی وجہ سے سیکڑوں مکاتب بند ہوجائیں گے جو ایک افسوس ناک صورت اختیار کرے گی ۔ 

۵- پچاس یا سو روپئے ہی سہی لوگوں سے مثبت اندا ز میں اپیل کی جائے، جمعہ کے خطبوں میں اس گناہ کا حوالہ دیا جائے۔ زکات کون کھا سکتا ہے اس پر تفصیل سے بیان کیا جائے۔ اور کس پر اس کا استعمال گناہ ہے ، یہ بھی بتایا جائے۔ ساتھ ہی اس کے سماجی اور تعلیمی و مذہبی اعتبار سے دوررس فوائد بتائے جائیں اور لاپرواہی کی صورت میں بند پڑے مدارس کی تاریخ اور منڈلاتے ہوئے خدشات سے بروقت آگاہ کیا جائے۔ 

 

۶- شہروں کی طرح اردو و اسلامیات کی کمی کیلئے مسجد کا استعمال کیسے ہو اس پر بھی زور دیاُجائے ۔ 

۷- بلا ضرور یا صرف انانیت میں آکر نئے ادارے کے بجائے قدیم اور پریشان حال مکاتب و مدارس کو مفید، بہتر اور مضبوط بنایا جائے۔ 

 

۸- مالی نظم ونسق کے ساتھ ان داروں کی بقا ان کے معیار سے وابستہ ہے۔ کمزور اور غیر موثر تعلیم اور قدیم نصاب

تعلیم کی وجہ سے لوگ سیلاب نما اسکولوں کے طوفان کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں نوے فیصد اردو اور اسلامیات کاُنظم نہیں ہے اور جہاں ہے وہ بھی قابل افسوس ہے۔ 

 

۹- تعلیم نسواں کو بھی معیاری بنائیں تاکہ نئی نسل کی تعمیر بہتر اور آسان ہوسکے۔ 

 

۱۰- اس کیلئے معیار بڑھاکر اور بلا مداخلت مناسب اضافہ کیا جائے تاکہ مکاتب کی روح اور قیام کے مقاصد پر ضرب نہ آئے اور عصری تقاضوں کا خیال بھی رکھا جاسکے۔ ساتھ کمیٹی بناکر ضروری دستاویزات ، رجسٹریشن اور حساب و کتاب کو شفافیت کے ساتھ رکھا جائے تاکہ قانونی طور پر ہم بہتر ہوں اور صدیوں سے ملک و ملت کی خدمت مزید جاری رہ سکے۔ اللہ مومنا نہ فراست عطاکرے۔ آمین 

 

مضمون نگارنوجوان سماجی کارکن اور گریٹ انڈیا ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین 

ہیں  

ان کا رابطہ نمبر موبائل: 9971841635

   

 

 

 

 

0 comments

Leave a Reply