اسوہ اکیڈمی علی گڑھ کے سہ ماہی ترجمان "سہ ماہی اسوہ" کا اجرا، سماجی مسائل پر تحقیق اور رہنمائی کی نئی کاوش

نئی دہلی: اسوہ اکیڈمی، علی گڑھ کے سہ ماہی ترجمان "سہ ماہی اسوہ" کی افتتاحی تقریب نئی دہلی میں منعقد ہوئی، جہاں معروف علمی و سماجی شخصیت ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے رسالے کا اجرا کیا۔ تقریب میں علمی، تحقیقی اور صحافتی حلقوں سے وابستہ متعدد شخصیات نے شرکت کی۔

اسوہ اکیڈمی کے مطابق تیزی سے بدلتے سماجی حالات اور بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کے تناظر میں گزشتہ برس علی گڑھ میں اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد عصری سماجی مسائل پر تحقیق، تجزیہ اور قابلِ عمل حل پیش کرنا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 72 صفحات پر مشتمل سہ ماہی رسالہ "سہ ماہی اسوہ" شائع کیا گیا ہے۔

افتتاحی شمارے کے اداریے میں مدیرِ رسالہ اور صدر اسوہ اکیڈمی ڈاکٹر محمد اسماعیل اصلاحی نے اکیڈمی کے قیام، رسالے کے اغراض و مقاصد اور مستقبل کے تحقیقی منصوبوں پر روشنی ڈالی ہے۔

شمارے میں سماجی اور فکری موضوعات پر متعدد تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر محمد سلمان رضا علیمی نے غصے سے پیدا ہونے والے سماجی مسائل اور ان کے حل پر اظہارِ خیال کیا ہے، جبکہ مولانا انس مدنی نے نئی نسل (Gen Z) میں بڑھتی ہوئی اینزائٹی کے اسباب اور تدارک پر مضمون تحریر کیا ہے۔

ذیابیطس جیسے اہم طبی و سماجی مسئلے پر ڈاکٹر محمد اسماعیل اصلاحی نے تحقیقی سلسلے کی پہلی قسط پیش کی ہے، جب کہ ڈاکٹر خورشید عالم خان نے یوگا کے روحانی پہلوؤں اور ہندوستانی روایت میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔

شمارے میں معروف مفکر سید محمد نقیب العطاس کی علمی خدمات پر ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی کا خراجِ عقیدت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اہم کتابوں پر تبصرے، اسوہ اکیڈمی کی علمی و سماجی سرگرمیوں کی رپورٹیں اور دیگر تحقیقی مواد بھی رسالے کا حصہ ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ "سہ ماہی اسوہ عصر حاضر کی ایک اہم علمی و سماجی ضرورت کو پورا کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ امید ہے کہ یہ رسالہ عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگا اور سماجی مسائل کے حل میں مثبت رہنمائی فراہم کرے گا۔"

اس موقع پر سہ ماہی اسوہ کے نائب مدیر ڈاکٹر سیف اللہ اصلاحی، مجلسِ ادارت کے رکن دلشاد حسین اصلاحی، ایشیا ٹائمس کے بانی و چیف ایڈیٹر اشرف بستوی اور مولانا محمد نصیر اصلاحی سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ "سہ ماہی اسوہ" سماجی مسائل پر سنجیدہ علمی مکالمے کو فروغ دینے، تحقیقی ذوق بیدار کرنے اور معاشرے کی مثبت و تعمیری رہنمائی میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

 

0 comments

Leave a Reply