کیا مسلم تنظیموں کے معنیٰ صرف اظہارِ تشویش، اظہارِ افسوس، اظہارِ اطمینان، حیرانی، اپیل اور مذمت رہ گئے ہیں؟

آپ یہ کہہ سکتے ہی کہ ملت اسلامیہ ہند، ملی تنظیموں کے بوجھ تلے ڈوب رہی ہے

اشرف علی بستوی

چھبیس جولائی کو آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس کے بعد اردو اخبارات کے لیے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی، جس کی خبر بھی شائع ہوئی۔ اسے پڑھتے ہوئے بے اختیار پانچ سال پہلے، یعنی 2021، کی مجلسِ عاملہ کی میٹنگ یاد آگئی۔ اس وقت بھی اجلاس کے بعد ایک پریس ریلیز جاری ہوئی تھی، جس کا مرکزی تاثر بھی اظہارِ افسوس ہی تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت جناب نوید حامد صدر تھے، آج ایڈووکیٹ فیروز احمد صدر ہیں، مگر بیانیہ تقریباً وہی ہے۔

بدقسمتی سے ہماری بیشتر ملی تنظیموں کی سرگرمیاں اب چند رسمی دائروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ذرا زیادہ متحرک ہوئے تو پریس کلب میں پریس کانفرنس کر لی، اس سے آگے بڑھے تو کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد کر لیا، اور اگر مزید سرگرمی دکھانی ہوئی تو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ایک آل انڈیا کانفرنس کر دی۔ پھر قراردادیں منظور ہوئیں، پریس ریلیز جاری ہوئی، اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں، اور معاملہ ختم۔

مجھے مسلم پرسنل لا بورڈ کی وقف پر وہ پریس کانفرنس بھی ذہن میں تازہ جس میں بورڈ کے ذمہ داران نے پریس کلب میں ایک میگا پریس کانفرنس کی ،اور ایک زبان یہ اعلان کیا کہ ہم جیل بھر دیں گے ،لیکن زیادہ بڑے ذمہ داران نے پریس کانفرنس ختم ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا میڈیا کے سوالات کے جوابات دینے کے بجائےاپنی اپنی تقریر کرکے ہوٹل کی راہ لی .

اس پورے عرصے میں اگر کوئی تنظیم اپنے متعین مینڈیٹ کے مطابق مسلسل اور عملی طور پر میدان میں نظر آتی ہے تو وہ اے پی سی آر ہے۔ جہاں بھی ملک میں کسی شہری کے ساتھ قانونی زیادتی یا آئینی خلاف ورزی سامنے آئی، وہاں اس تنظیم نے فوری رسائی حاصل کی، زمینی سطح پر کام کیا، قانونی امداد فراہم کی اور متاثرین کے ساتھ کھڑی دکھائی دی۔اگر آپ کو ان سے کوئی اختلافِ ہے تو رکھیں ، لیکن لسی

کے عملی کام کو تسلیم کرنا دیانت داری کا تقاضا ہے۔

صرف جولائی کے اسی ہفتے پر نظر ڈال لیجیے۔ 24 جولائی کو آئی ایم سی آر کی کانسٹی ٹیوشن کلب میں بڑی مشاورتی میٹنگ ہوئی، سابق ایم پی محمد ادیب ہر بار یہی کہتے سنے جاتے ہیں کہ اب پانی سر سے اوپر ہو گیا ہے ، ہم میں سے وہ لوگ جو دیہات سے آتے ہیں بخوبی جانتے ہیں کہ تالاب میں نہاتے وقت جب پانی سر سے اوپر ہو جائے تو آدمی ڈوب جاتا ہے. اس لیے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملت اسلامیہ ہند، ملی تنظیموں کے بوجھ تلے ڈوب رہی ہے.

اسی ماہ 26 جولائی کی شام مولانا عبیداللہ خان اعظمی صاحب کی قیادت میں امپیک کا ہوٹل ریویو میں دانشوروں کا اجلاس منعقد ہوا۔ میں ان اجتماعات کے منتظمین کی نیت پر ہرگز سوال نہیں اٹھاتا، لیکن ایک سوال ضرور کرتا ہوں کہ کیا ان اجلاسوں میں منظور ہونے والی قراردادوں، کیے گئے اعلانات اور بلند بانگ دعوؤں پر کبھی سنجیدگی سے عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے؟ کیا کبھی یہ احتساب ہوتا ہے کہ پچھلے اجلاس میں جو فیصلے ہوئے تھے، ان میں سے کتنے عملی صورت اختیار کر سکے؟

اسی ہوٹل میں لگ بھگ پانچ سال قبل ملی اتحاد کی بڑی میٹنگ مرحوم ڈاکٹر منظور عالم صاحب نے منعقد کیا تھا اور اتحاد کا فریم ورک اخبارات کی زینت بنا لیکن اگلا اپڈیٹ کا آج تک ہمیں انتظار ہے .

میں برسوں سے اس ایک اجلاس کا انتظار کر رہا ہوں جس کا عنوان ہو: "اپنے کاموں، اپنی قراردادوں اور اپنی ناکامیوں کا احتساب"۔ افسوس کہ ایسی میٹنگ آج تک دیکھنے کو نہیں ملی۔

سوال یہ ہے کہ کیا آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت اور ہماری دوسری ملی تنظیموں کا کردار صرف بیانات جاری کرنے، اظہارِ تشویش، اظہارِ افسوس، اپیلیں کرنے اور مذمتی قراردادیں منظور کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر وقت آ گیا ہے کہ بیانیے سے آگے بڑھ کر نتائج پر مبنی، منظم اور جواب دہ عملی جدوجہد کی جائے۔ قوم کو اب صرف الفاظ نہیں، عمل بھی درکار ہے۔

مضمون نگار سے رابطہ 9891568632

 

0 comments

Leave a Reply