مولانا جلال الدین عمری کی ولادت 1935ء میں جنوبی ہند تمل ناڈو کے ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گاؤں پتّگرم میں ہوئی، والد صاحب کا نام سید حسین تھا، ۔
مولانا کا شمار عصر حاضر کے بڑے عالم دین میں ہوتا تھا ، فی الوقت جماعت اسلامی ہند کی شرعیہ کونسل کے چیئر مین تھے،
مرحوم کئی روز سے اسپتال میں داخل تھے ، ڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں انہیں انتہائی نگہداشت والی یوٹ آئی سی یو میں رکھا گیا تھا ۔
آپ 50 سے زائد کتابوں کے مصنف و بہترین مقرر تھے ۔
ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر 1954ء میں فضیلت کا کورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے (اونلی انگلش) پرائیوٹ سے پاس کیا۔
لگاتار تین میقات جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے ، پہلی بار 2007 میں ان کا بطور امیر جماعت اسلامی ہند انتخاب ہوا ۔ اس سے قبل نائب امیر کی ذمہ داری رہی ، مولانا کی پوری زندگی تحریک اسلامی کی ابیاری میں گزری ۔اپ کا وطنی تعلق تمل ناڈو سے تھا لیکن زندگی کا بڑا حصہ شمالی ہند میں گزرا ۔ طویل عرصہ تک تصنیفی اکیڈمی علی گڑھ میں خدمات انجام دیں ۔آپ نرم دم گفتگو اور گرم دم جتسجو کی بہترین مثال تھے ۔
Shees Ahmad
Maulana Ki kami koi Pur nahi kar sakta
Aj ham ne Tahrike Islami ka ek Alim Aur Danishwar kho diya hai
Allah Unki Magfirat kar Jannat ul Firdous main Ala Maqam Ata Farmaye
Ameen.