بریکنگ نیوز: اردو فروغ پا رہی ہے؛ قومی اردو کونسل کے رسائل کی اشاعت میں گزشتہ دو سال میں 85 فیصد کمی
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پرنٹ رن میں یہ گراوٹ کیا کہتی ہے ؟ اتنی بڑی تعداد میں اردو کے قاری کا اچانک گھٹ جانا کسی سانحہ سے کم نہیں ہے ۔ اس کی تحقیق ہونی چاہیے ۔
اشرف علی بستوی کی رپورٹ
نئی دہلی ( ایشیا ٹائمز نیوز) حالیہ برسوں میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اپنے مختلف ڈائریکٹروں کی کارکردگی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مسلسل موضوعِ بحث رہی ہے۔ خصوصاً کونسل کے زیرِ اشاعت رسائل کی تعداد اور ان کے پرنٹ رن کو لے کر مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جس کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا کہ آخر حقیقت کیا ہے اور مختلف ادوار میں اردو کے فروغ کے لیے کونسل کی کارکردگی کا اصل پیمانہ کیا رہا؟ اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم نے یکم اپریل 2012 سے 31 مارچ 2026 تک کونسل کے رسائل ’اردو دنیا‘، ’فکر و تحقیق‘، ’بچوں کی دنیا‘ اور ’خواتین دنیا‘ کے پرنٹ رن اور انہیں خریدنے والے ڈسٹری بیوٹرز و پبلشرز کی تفصیلات جاننے کے لیے آر ٹی آئی دائر کی، جس کے جواب میں این سی پی یو ایل نے جو اعداد و شمار فراہم کیے ہیں، وہ کئی دلچسپ اور قابلِ غور پہلو سامنے لاتے ہیں۔
پہلا سوال : یکم اپریل 2012 تا 31 مارچ 2026 اردو کے رسائل ،فکر و تحقیق ،اردو دنیا ،بچوں کی دنیا خواتین دنیا کا پرنٹ رن دیا جائے ۔
دوسرا سوال : ان ڈسٹری بیوٹرس،پبلشرز کے نام پرنٹ رن کے ساتھ بتائےجائیں جنھوں نے ان رسائل کی خریداری کی ۔
آپ بھی ملاحظہ فرمائیں اور اب آپ ہی یہ طے کیجیے کہ کس ڈائریکٹر نے کتنا اردو کا فروغ کیا ہے ؟
مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ کرونا کے ایام میں بھی یہ رسائل پابندی سے چھپتے رہے بلکہ بڑی تعداد میں شائع ہوتے رہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں ملک میں اس دوران تو ڈاک کا نظام لگ بھگ ٹھپ ہو گیا تھا۔
مجھے یاد ہے آج سے کوئی 6 سال قبل مجھے مہاراشٹر کے ایک کتب فروش دہلی میں ملے وہ جا بجا یہ کہتے دیکھے جاتے تھے وہ اکیلے ایسے خریدار ہیں جو 50 ہزار کاپی بچوں کی دنیا خرید کر فروخت کردیتے ہیں میں بھی بڑا متاثر ہوا ۔میں نے ان سے کہا بچوں کے دیگر رسالے بھی تو ہیں جو مہاراشٹر، دہلی سمیت دیگر شہروں سے نکلتے ہیں آپ انہیں کتنا بیچتے ہیں ؟ اس سوال پر کنی کاٹ گئے تھے تبھی سے یہ سوال رہ رہ کر ذہن میں ابھرتا رہا کہ ماجرا کیا ہے۔ ہر شخص قاری کی کمی کا رونا روتا ہے اور پھر کونسل کے رسائل تو بڑی تعداد میں چھپ رہے ہیں ۔
قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اپنے ریکارڈ سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے اردو کے سرکاری فروغ کے دعووں کے درمیان ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے۔ ایشیا ٹائمز کو حقِ اطلاعات قانون کے تحت موصول جواب کے مطابق کونسل کے چار اہم رسائل—اردو دنیا، بچوں کی دنیا، خواتین کی دنیا اور فکر و تحقیق—کا مجموعی سالانہ پرنٹ رن 2023-24 میں 10,21,053 کاپیاں تھا، جو 2025-26میں گھٹ کر محض 1,50,120 کاپیاں رہ گیا۔
یعنی صرف دو مالی برس میں ان چاروں رسائل کی مجموعی طباعت میں تقریباً 85.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
قومی اردو کونسل وزارتِ تعلیم، محکمہ اعلیٰ تعلیم، حکومتِ ہند کے تحت کام کرتی ہے اور اپنی ویب سائٹ پر اردو زبان کے فروغ، رسائل، مطبوعات اور دیگر سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرتی ہے۔
سب سے بڑا سوال: ’اردو دنیا‘ کے ساتھ کیا ہوا؟
اعداد و شمار میں سب سے ڈرامائی تبدیلی کونسل کے اہم رسالے ’اردو دنیا‘ کے پرنٹ رن میں نظر آتی ہے۔
چاروں رسائل کی مجموعی تصویر
|
مالی سال |
مجموعی سالانہ پرنٹ رن |
ماہانہ اوسط |
|
2012-13 |
3,11,500 |
25,958 |
|
2013-14 |
5,47,000 |
45,583 |
|
2014-15 |
7,03,000 |
58,583 |
|
2015-16 |
8,38,700 |
69,892 |
|
2016-17 |
7,40,350 |
61,696 |
|
2017-18 |
7,55,400 |
62,950 |
|
2018-19 |
7,34,360 |
61,197 |
|
2019-20 |
6,68,300 |
55,692 |
|
2020-21 |
5,10,291 |
42,524 |
|
2021-22 |
8,02,602 |
66,884 |
|
2022-23 |
11,19,856 |
93,321 |
|
2023-24 |
10,21,053 |
85,088 |
|
2024-25 |
9,37,585 |
78,132 |
|
2025-26 |
1,50,120 |
12,510 |
اعداد بتاتے ہیں کہ 2022-23 میں مجموعی پرنٹ رن 11.20 لاکھ سے زیادہ تھا۔ اگلے سال یہ گھٹ کر تقریباً 10.21 لاکھ اور 2024-25 میں 9.38 لاکھ رہ گیا۔ لیکن 2025-26 میں اچانک یہ تعداد 1.50 لاکھ رہ گئی۔
یعنی صرف 2024-25 سے 2025-26 کے درمیان تقریباً 84 فیصد کمی۔
اردو دنیا کی
2025-26: صرف 18,074 کاپیاں
یعنی 2023-24 کے مقابلے میں 2025-26 میں اردو دنیا کی طباعت تقریباً 98.1 فیصد کم ہوگئی۔
اگر سالانہ تعداد کو 12 ماہ پر تقسیم کیا جائے تو 2023-24 میں اس کا اوسط ماہانہ پرنٹ رن تقریباً 77,661 کاپیاں بنتا ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ اوسط محض 1,506 کاپیاں ماہانہ رہ گیا۔
یہ کمی محض معمولی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ پرنٹ رن میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہے، جس کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔
کیا یہ قارئین کی کمی ہے یا اشاعت کی پالیسی میں تبدیلی؟ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ پرنٹ رن میں کمی کو براہ راست قارئین کی کمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
جواب نے ایک اور سوال پیدا کردیا
موصول جواب میں پہلے نکتے کے تحت چاروں رسائل کا سالانہ پرنٹ رن فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم درخواست میں مانگی گئی دیگر تفصیلات کے بارے میں کونسل نے کہا ہے کہ معلومات مختلف شعبوں میں موجود ہونے اور حجم میں زیادہ ہونے کی وجہ سے درخواست گزار دفتر آکر ریکارڈ کا معائنہ کرسکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بڑا سوال سامنے آتا ہے
2024-25 سے 2025-26 کے درمیان چاروں رسائل کی طباعت میں تقریباً 84 فیصد کمی کیوں آئی؟
اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال ‘اردو دنیا‘ کا پرنٹ رن ایک سال میں 4,48,846 سے گھٹ کر صرف 18,074 کیسے ہوگیا؟
2025-26 کا ڈیٹا خاص طور پر غیر معمولی
2025-26 کے اعداد سب سے زیادہ چونکانے والے ہیں۔
چاروں رسائل کو ملا کر پورے سال میں صرف 1,50,120 کاپیاں شائع ہوئیں، یعنی اوسطاً 12,510 کاپیاں ماہانہ۔
لیکن اگر صرف اردو دنیا کو دیکھا جائے تو پورے سال کی طباعت 18,074 ہے۔ اگر یہ تعداد واقعی پورے مالی سال کی کل طباعت ہے تو اوسطاً ہر ماہ تقریباً 1,506 کاپیاں بنتی ہیں۔ ایک ایسے ادارے کے مرکزی اردو رسالے کے لیے یہ تعداد کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
قومی اردو کونسل کا بنیادی مقصد
قومی اردو کونسل حکومتِ ہند کا وہ ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد ہی اردو زبان کا فروغ ہے۔ کونسل اپنی ویب سائٹ پر اردو رسائل، مطبوعات، اردو اخبارات و رسائل کی معاونت اور دیگر فروغی سرگرمیوں کو اپنی اہم سرگرمیوں میں شمار کرتی ہے۔
ایسے میں اس کے اپنے رسائل کی طباعت میں اتنی بڑی کمی محض ایک انتظامی عدد نہیں بلکہ اردو کی سرکاری سرپرستی، مطبوعہ صحافت و ادب اور اردو قارئین تک سرکاری مواد کی رسائی کے حوالے سے ایک اہم تحقیقی سوال بن جاتی ہے۔
اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پرنٹ رن میں یہ گراوٹ کیا کہتی ہے ؟ اتنی بڑی تعداد میں اردو کے قاری کا اچانک گھٹ جانا کسی سانحہ سے کم نہیں ہے ۔ اس کی تحقیق ہونی چاہیے ۔
مزید دو اور آر ٹی آئی کا انتظار کیجیے
اہم نوٹ : یہ رپورٹ قومی اردو کونسل کے 10 اگست 2026 کے آر ٹی آئی کے جواب میں فراہم کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ کونسل کا مو قف حاصل ہونے کی صورت میں اسے بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔

0 comments