روس کے تیومن خطے میں 1822ء کی تاریخی مسجد مسلمانوں کو واپس مل گئی
کازاروو مسجد سوویت دور اور اس کے بعد اسکول کے طور پر استعمال ہوتی رہی، اب اس کی بحالی کی جائے گی، 1960ء کی دہائی میں منہدم کیا گیا مینار بھی دوبارہ تعمیر ہوگا
تیومن، روس (ایم این ٹی وی ): مغربی سائبیریا کے تیومن خطے میں 1822ء میں تعمیر کی گئی ایک تاریخی مسجد برسوں کی کوششوں کے بعد دوبارہ مسلم کمیونٹی کے حوالے کردی گئی ہے۔ روس کی مسلم روحانی انتظامیہ کے مطابق کازاروو مسجد کی واپسی کے بعد اب اس کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔
کازاروو مسجد ایک بخارا کے تاجر کی کوشش سے تعمیر کی گئی تھی اور ایک صدی سے زائد عرصے تک مقامی مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ تاہم سوویت دور میں 1929ء میں مسجد کو بند کرکے اسکول میں تبدیل کردیا گیا۔
مسجد کی عمارت 2020ء تک اسکول کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اسی سال طلبہ کو ایک نئی عمارت میں منتقل کیے جانے کے بعد مقامی مسلم کمیونٹی نے تاریخی مسجد کی واپسی کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا۔
مسجد کی واپسی کے مطالبے کی تائید ایک ماہرین کی رپورٹ سے بھی ہوئی، جس میں تصدیق کی گئی کہ عمارت بنیادی طور پر مذہبی مقاصد کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ رپورٹ میں عمارت کے اندر موجود محراب کی بھی نشاندہی کی گئی، جو قبلہ اور سمتِ مکہ کی علامت ہے۔ عمارت کی سمت بھی مکہ مکرمہ کی جانب ہے۔
مسلم کمیونٹی اب مسجد کے اندرونی حصے کی بڑے پیمانے پر تزئین و مرمت کے ساتھ اس کے تاریخی بیرونی ڈھانچے کو بھی بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بحالی کے منصوبے میں 1960ء کی دہائی میں منہدم کیے گئے تاریخی مینار کی دوبارہ تعمیر بھی شامل ہے۔
تعمیر و مرمت کا کام مکمل ہونے کے بعد کازاروو مسجد ایک بار پھر علاقے کے مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ کے طور پر آباد ہوجائے گی۔
رپورٹ: MAP | تدوین: ABQ

0 comments