حضرت مولانا قاضی قاسم مظفر پوری: حیات و خدمات ایک نظرمیں

تحریر :انوار الحق قاسمی نیپالی
 
    قدرے درازقد،نہ ہی زیادہ فربہ اور نہ ہی زیادہ لاغر، سادگی پسند اور تواضع  کے پیکر، علم و عمل میں ہم آہنگی،بل کہ عمل علم پر غالب ،متانت وشرافت کامجسمہ،ہمہ وقت  خدمت خلق کے جذبہ سے معمور،پڑھنے لکھنے سے انتہائی دلچسپی،انتظامی امور میں ماہر،کبر کے جرثومہ سےیکسرخالی ،عمدہ اخلاق کےحامل ،بےمثال قاضی،فن خطابت کےشہسوار،انشاء پردازی میں اپنی مثال آپ،قاضی مجاہدالاسلام-علیہ الرحمہ-کامعتمدعلیہ، سابق امیر شریعت حضرت مولانا سید ولی رحمانی صاحب کا دایاں ہاتھ, اکابر دیوبند کاخوشہ چیں، دارالعلوم/ دیوبند کاہونہار فرزند، مدرسہ رحمانیہ سپول کے سابق شیخ الحدیث، امارت شرعیہ پٹنہ کے عہدہ  قضاپر فائز،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی، مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپوراگنواں،ججوارہ مظفر پورکےناظم اعلی،کئی اداروں کے بانی وسرپرست حضرت مولانا مفتی وقاضی  قاسم صاحب مظفر پوری بھی طویل علالت کےبعد تراسی سال کی عمر میں،مورخہ یکم ستمبر ۲۰۲۰ء سہ شنبہ کوطلوع آفتاب سےقبل ہی اپنی حیات مستعار کی آخری سانس لیتےہوئےاپنےخالق ومالک سےجاملے،انا للہ و انا الیہ راجعون۔
     حضرت قاضی صاحب کے علم و فضل اور زہد و تقوی کا چرچا پورے ملک ہندوستان اور ملک  نیپال میں عموما اور صوبہ بہار کے کونے کونے اور گوشے گوشے میں خصوصاعام تھا؛ باوجود اس کے ناچیز کو حضرت- علیہ الرحمہ -کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے اور ان سے کچھ سیکھنے کا موقع نہیں مل سکا،جب کہ احقر الوری ایک عرصہ دراز تک صوبہ بہار کے سب سے مقبول و معروف ادارہ" الجامعة العربية  اشرف العلوم کنہواں،ضلع  سیتامڑھی بہار"( اگراسے بہار کا "دارالعلوم" کہہ دیا جائے، تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہو گا؛ بل کہ لوگ اسے بہار کا دارلعلوم ہی کہتے ہیں) میں از درجہ اعدادیہ تادرجہ عربی پنجم متعلم  رہا ہے، مگر اس دوران ایک دفعہ بھی ان کی علمی محفل و مجلس میں معمولی دقیقہ بھی بیٹھ کر کسب فیض کا موقع نہیں ملا، اس کاقلق اور صدمہ تادم زیست رہے گا، البتہ سن ۱۹۳۹ء میں دارالعلوم دیوبند میں جب  رابطہ مدارس عربیہ کا جلسہ بڑےہی  شان وشوکت کےساتھ منعقد ہوا تھا،جس میں ہندو نیپال کے مربوط مدارس عربیہ کے ذمہ داران حضرات شریک ہوئے تھے، حسن اتفاق یہ کہ  اس میں حضرت قاضی- علیہ الرحمہ- بھی شریک ہوئے تھے ،اسی موقعےسے دارالعلوم کےمہمان خانہ کے پاس حضرت -علیہ الرحمۃ- سے علیک سلیک اور مصافحہ کا موقع ملا تھا، حضرت سے مل کر دل کو بہت ہی سکون و اطمینان میسر ہوا تھا، اس معمولی ملاقات ہی میں ان کی محبت ناچیز کے دل و دماغ میں پہلے سے مضاعف  ہوگئی اور اسی وقت سے احقر حضرت- علیہ الرحمہ- کے لیے دعائیں کرتا رہا کہ قادرمطلق حضرت کے سائے عاطفت کو ہم خردوں پر تادیر قائم رکھے۔
      حضرت کے انتقال سے قبل مسلسل کئی دنوں تک سوشل میڈیا پر حضرت کے سخت علیل ہونے کی خبر اور دعاء صحت کی درخواست گردش کر رہی تھی، اس موقعےسے ہر ایک نے اور ناچیز نے بھی حضرت کے لیے صحت یابی کی دعائیں کی تھیں؛ مگراجل موعود  کو نہ ہی  ایک ہی ساعت  آگے اور نہ ہی ایک ساعت  پیچھے کون ٹال سکتا ہے؟ بالآخر وہی ہوا جو ہر جاندارومتنفس کے ساتھ اس کےوقت موعود پر ہوتا ہے: یعنی مورخہ یکم ستمبر سن ۲۰۲۰ء کی صبح حضرت کے انتقال پر ملال کی خبر نا چیز کی کانوں سے ٹکرائی اور بڑے ہی رنج والم  کے ساتھ کہنا پڑا:انا للہ وانا الیہ راجعون۔

    جن سے خالق مطلق  کو نمایاں اور بڑا کام لینا مقصود ہوتا ہے، ان کی تخلیق کے لئے بھی غیر معمولی عزت صرف کے حامل اورپاک طینت انسان کے گھرانے کا انتخاب کیاجاتاہے، عام روش اور مشاہدہ بھی یہی ہے کہ "لڑکے "پر اس کے والدین کے اخلاق و کردار کا نمایاں اثر مرتب ہوتا ہے: یعنی اگر والدین نیک سیرت اور عمدہ اخلاق کے حامل ہوتے ہیں، تو"لڑکا"بھی  مستقبل میں خصائل حسنہ ہی سے متصف  ہوتاہے اور اگر والدین بد کردار و بد اخلاق ہوتے ہیں ہے،تو"لڑکا "بھی آنے والے دنوں میں اپنےوالدین کاٹوکاپی جانشین بنتاہے،الاماشاء اللہ ۔

    چناں چہ اسی عام روش کے مطابق خداوند عالم نے حضرت قاضی شریعت مولانا قاسم مظفر پوری کی تخلیق کے لیے ایک ایسے شخص کی صلب کا انتخاب کیا، جن کی عظمت و شرافت کا چرچا پورے علاقے میں تھا، جنہیں لوگ معین الحق کے نام سے جانتے تھے، اور آپ کی پیدائش سن ۱۹۳۷ءمیں صوبہ بہار کے ضلع مظفر پور کی بستی مادھو پور، ڈاک خانہ اگنواں،وایاججوارہ میں ہوئی۔

     حضرت مولانا قاضی قاسم مظفر پوری صاحب -علیہ الرحمہ- عمر کے اس دہلیز پر قدم رکھ دیے،جس میں علوم  دینیہ حاصل کیاجاتاہے، تو آپ ابتدائی تعلیم کے حصول کے لیے مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ  اور مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں یکے بعد دیگرے داخل ہوئے،ان اداروں کےآپ کے مشہور اساتذہ میں  حضرت مولانا مقبول احمد خان صاحب اور حضرت مولانا عبدالجبار صاحب ہیں۔

       پھر متوسطات اور اعلی تعلیم کے حصول کے لیے سن ۱۹۵۲ء میں  عالم اسلام کی ممتاز دینی واسلامی دانش گاہ ازہر ہند دارالعلوم /دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں آپ ہر فن مولی  کبار علمائے کرام سے مختلف علوم و فنون کی مختلف کتابیں پڑھیں اور پھر دین کا داعی اور اسلام کا سپاہی بن کرسن ۱۹۵۷ء میں سند فضیلت حاصل کی،  آپ اپنی ذہانت اور غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر اس وقت، جب کہ دارالعلوم /دیوبند کےہائی اور آخری نمبرات ۵۰ تھے،دورہ حدیث شریف کی تمام ہی کتابوں میں سوائےایک کے۵۰ سے زائد نمبرات :یعنی کسی میں ۵۳توکسی میں ۵۲ اور کسی میں ۵۴وغیرہ حاصل کیے، آپ اپنے درسی ساتھیوں میں اپنی ذہانت وذکاوت، کثرت محنت اور انتہائی کدوکاوش کی وجہ سے غیر معمولی فضیلت بھی  رکھتے تھے۔

    آپ کے علم و فضل کے آفتاب و ماہتاب،بحر العلوم وجبل العلوم  اساتذہ کرام کے اسمائے مبارکہ درج ذیل ہیں:(۱) حضرت علامہ ابراہیم صاحب بلیاوی(۲) شیخ الحدیث حضرت مولانا فخر الدین صاحب مراد آبادی(۳) شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی(۴) شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب امروہوی اور دیگر شمس العلماء۔

       حضرت قاضی صاحب -علیہ الرحمہ- کے دل و دماغ اور جسم کے ہررگ وریشے میں اپنے علاقے کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور آپ اپنے علاقے سے جہل کے خاتمے کے لئے نیز ہر ایک کےسینے کوعلوم الہیہ اورعلوم نبویہ سے منور کرنےکےلیے اپنے تدریسی سلسلے کا آغاز مدرسہ امدادیہ لہیریاسرائے دربھنگہ بہار سے کیا، اس کے بعد آپ مستقل دلجمعی اور بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ مدرسہ رحمانیہ سپول میں چھیالیس سالوں تک تدریسی  خدمات کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا۔

     آپ کا انداز درس نہایت ہی نرالا تھا ،آپ کے شاگردوں کی تحریروں سے معلوم ہوتاہےکہ آپ دوران درس طلباء کے ذہنی معیار کے مطابق کلام کیا کرتے تھے، اگر طلبااعلی ذہن کے حامل ہوتے ؟تو پھر آپ کا کلام اعلی ہواکرتا تھا ،اگر طلبامعمولی ذہن کے حامل اور کند ذہن ہوتے ،تو پھر آپ کا کلام ادنیٰ ہوا کرتا تھا اور اگر آپ کے درس میں دونوں طرح کے طلبا ہوتے، تو پھر آپ ادنی کی رعایت کرتے ہوئے معمولی کلام کیا کرتے تھے، اس سے مقصد آپ کا یہ تھا کہ ہر طرح کے طلبہ کماحقہٗ عبارت کا مفہوم سمجھ جائے، اور الحمدللہ آپ کےانداز درس سے ہرایک طالبعلم خوش بھی رہتاتھا۔

     حضرت قاضی صاحب- علیہ الرحمۃ -بے مثال اور باکمال مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست قاضی بھی تھے، حضرت اپنی فراغت کے ابتدائی دور میں معاون قاضی کی حیثیت سے کارقضا بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے اور پھر باضابطہ سن ۱۹۷۶ء میں  عہدہ قضا پر فائز ہو گئے۔

      آپ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو چٹکیوں میں حل کر دیا کرتے تھے ،آپ ہرایک مقدمہ کو قرآن ،حدیث، اجماع، قیاس کی روشنی میں نہایت ہی جامع اسلوب میں حل  کیا کرتے تھے، جس سے فریقین بھی فرحاں وشاداں رہتے تھے،  کسی کی زبان پر کسی طرح کاکوئی شکوہ جاری نہیں ہوتا تھا۔

    مسائل فقہیہ میں آپ کے کامل مہارت کی ایک واضح دلیل حضرت مولانا مفتی ثناء الہدی صاحب قاسمی- زیدمجدہم-کاایک  قول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے  باضابطہ حضرت قاضی -علیہ الرحمہ -سے تو کوئی کتاب نہیں پڑھی ہے؛ البتہ حضرت قاضی صاحب جب کبھی بھی امارت شرعیہ پٹنہ تشریف لایا کرتے تھے تو حضرت سے ملنے جایا کرتا تھا،ایک دفعہ حضرت قاضی -علیہ الرحمہ -سے کہا کہ حضرت ایک مسئلہ  مجھے اب تک سمجھ میں نہیں آرہا ہے،  تو حضرت نے کہاکہ فرمائیں وہ کیامسئلہ ہے؟ تو میں نے کہا کہ حضرت اکراہ کی صورت میں اگر "مومن" کا قلب مطمئن ہو، تو کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے پر مومن کافر نہیں ہوتا ؛بل کہ مومن ہی رہتاہے،ارشاد باری ہے :وقلبه مطمئن بالايمان.اس کے برخلاف اگر شوہرحالت اکراہ میں طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کردیتا ہے تو "طلاق" واقع ہو جاتی ہے، یہ سمجھ سے بالاتر ہے، کہ ایمان جو درجے میں طلاق سے بڑھاہوا ہے اور طلاق جورتبے میں ایمان سے کمتر ہے،پھر بھی "مومن" کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے پر "کافر" نہیں ہوتا ہے اور "شوہر "کے طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کرنے پر اس کی" بیوی" مطلقہ ہو جاتی ہے، حضرت قاضی -علیہ الرحمہ - نے اس مسئلہ کو فقط دو لفظوں میں حل کر دیا، فرمایا :کہ حالت اکراہ میں کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے پر "مومن "کافر؛ اس لیے نہیں ہوتاہےکہ "ایمان"کاتعلق "دل"سے ہے نہ کہ "زبان"سے، اور حالت اکراہ میں" شوہر "کے طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کرنے پر بیوی؛ اس لیے مطلقہ ہو جاتی ہے کہ "طلاق" کا تعلق "زبان" سے ہے نہ "دل" سے ،حضرت کے اس جواب سے دل کو کافی سکون ملا، اس سے حضرت کے تبحرعلمی اور مسائل فقہیہ میں کامل مہارت کا پتہ چلتا ہے۔
       حضرت قاضی شریعت باکمال مدرس اور بےمثال قاضی ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست انشاءپرداز اور بڑے قلم کار بھی تھے حضرت کے اشہب  قلم سے کئی کتابیں منظر عام پر آئیں ہیں،  جن سے خواندہ طبقہ  نے خوب خوب استفادہ کیا،ان کتابوں کےاسماء مندرجہ ذیل ہیں :(۱)ادلة الحنفيه ( ۲)رہنمائےقاضی(۳)قرآنی سورتوں کاتعارف (۴)مکاتیب رحمانی (۵)تذکرہ عثمانی۔

      حضرت قاضی صاحب  جبل العلم  ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی متواضع بھی تھے، کبرو نخوت کس پرندے کا نام ہے حضرت کو کچھ پتہ نہیں تھا، اسی طرح حضرت چھوٹوں  پر انتہائی  شفقت کی نگاہ رکھتے تھے اور کام کرنے کے  مواقع فراہم کرتے تھے اور کسی کام پر خوب حوصلہ افزائی فرماتے تھے ،جس سے آگے بڑھنے کا راستہ ہموار ہوتا تھا۔
      حضرت بڑے متقی و پارسا انسان تھے حضرت کو دیکھ کر اولیاء اللہ کی یادیں تازہ ہو جایا کرتی تھیں، الغرض حضرت میں ہرچوٹی بڑی عمدہ خصلتیں موجود تھیں ۔

     بڑے ہی علم و فضل اور بے شمار اوصاف حسنہ سے متصف قاضی شریعت حضرت مولانا قاضی  قاسم مظفر پوری کا ہمارے مابین سے اٹھ جانا،یہ ہمارے لئے نہایت ہی غمگینی کا سامان ہے ،ان کے عظیم کارناموں کے ذریعے انہیں ہم صدیوں یاد رکھیں گے۔

     اخیر میں ہم دعا کرتے ہیں: کہ اللہ رب العالمین حضرت کی کلی مغفرت فرماۓ، ان کی قبر کو اپنےانوار وبرکات سے بھر دے، انہیں کروٹ کروٹ راحت نصیب فرمائے ،پس ماندہ گان  اور ان کے خوشہ چینوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امت کو حضرت  کانعم البدل عطا فرمائے آمین

واٹس ایپ نمبر :۹۷۷۹۸۱۱۱۰۷۶۸۲+

0 comments

Leave a Reply