بریکنگ نیوز : قومی اردو کونسل کے رسائل کی اشاعت میں گزشتہ دو سال میں 85 فیصد کمی
سب سے بڑا سوال ’اردو دنیا‘ کے ساتھ کیا ہوا؟
اشرف علی بستوی کی رپورٹ
نئی دہلی ( ایشیا ٹائمز نیوز) قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) کے اپنے ریکارڈ سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے اردو کے سرکاری فروغ کے دعووں کے درمیان ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے۔ ایشیا ٹائمز انڈیا کو حقِ اطلاعات قانون کے تحت موصول جواب کے مطابق کونسل کے چار اہم رسائل—اردو دنیا، بچوں کی دنیا، خواتین کی دنیا اور فکر و تحقیق—کا مجموعی سالانہ پرنٹ رن 2023-24 میں 10,21,053 کاپیاں تھا، جو 2025-26 میں گھٹ کر محض 1,50,120 کاپیاں رہ گیا۔
یعنی صرف دو مالی برس میں ان چاروں رسائل کی مجموعی طباعت میں تقریباً 85.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
قومی اردو کونسل وزارتِ تعلیم، محکمہ اعلیٰ تعلیم، حکومتِ ہند کے تحت کام کرتی ہے اور اپنی ویب سائٹ پر اردو زبان کے فروغ، رسائل، مطبوعات اور دیگر سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کرتی ہے۔
سب سے بڑا سوال: ’اردو دنیا‘ کے ساتھ کیا ہوا؟
اعداد و شمار میں سب سے ڈرامائی تبدیلی کونسل کے اہم رسالے ’اردو دنیا‘ کے پرنٹ رن میں نظر آتی ہے۔
کونسل کے RTI جواب کے مطابق
2021-22: 5,42,067 کاپیاں
2022-23: 7,63,913 کاپیاں
2023-24: 9,31,929 کاپیاں
2024-25: 4,48,846 کاپیاں
2025-26: صرف 18,074 کاپیاں
یعنی 2023-24 کے مقابلے میں 2025-26 میں اردو دنیا کی طباعت تقریباً 98.1 فیصد کم ہوگئی۔
اگر سالانہ تعداد کو 12 ماہ پر تقسیم کیا جائے تو 2023-24 میں اس کا اوسط ماہانہ پرنٹ رن تقریباً 77,661 کاپیاں بنتا ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ اوسط محض 1,506 کاپیاں ماہانہ رہ گیا۔
یہ کمی محض معمولی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ پرنٹ رن میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہے، جس کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔
کیا یہ قارئین کی کمی ہے یا اشاعت کی پالیسی میں تبدیلی؟ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ پرنٹ رن میں کمی کو براہ راست قارئین کی کمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
جواب نے ایک اور سوال پیدا کردیا
ایشیا ٹائمز انڈیا کو موصول RTI جواب میں پہلے نکتے کے تحت چاروں رسائل کا سالانہ پرنٹ رن فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم درخواست میں مانگی گئی دیگر تفصیلات کے بارے میں کونسل نے کہا ہے کہ معلومات مختلف شعبوں میں موجود ہونے اور حجم میں زیادہ ہونے کی وجہ سے درخواست گزار دفتر آکر ریکارڈ کا معائنہ کرسکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بڑا سوال سامنے آتا ہے
2024-25 سے 2025-26 کے درمیان چاروں رسائل کی طباعت میں تقریباً 84 فیصد کمی کیوں آئی؟
اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال ‘اردو دنیا‘ کا پرنٹ رن ایک سال میں 4,48,846 سے گھٹ کر صرف 18,074 کیسے ہوگیا؟
2025-26 کا ڈیٹا خاص طور پر غیر معمولی
2025-26 کے اعداد سب سے زیادہ چونکانے والے ہیں۔
چاروں رسائل کو ملا کر پورے سال میں صرف 1,50,120 کاپیاں شائع ہوئیں، یعنی اوسطاً 12,510 کاپیاں ماہانہ۔
لیکن اگر صرف اردو دنیا کو دیکھا جائے تو پورے سال کی طباعت 18,074 ہے۔ اگر یہ تعداد واقعی پورے مالی سال کی کل طباعت ہے تو اوسطاً ہر ماہ تقریباً 1,506 کاپیاں بنتی ہیں۔ ایک ایسے ادارے کے مرکزی اردو رسالے کے لیے یہ تعداد کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
قومی اردو کونسل کا بنیادی مقصد
قومی اردو کونسل حکومتِ ہند کا وہ ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد ہی اردو زبان کا فروغ ہے۔ کونسل اپنی ویب سائٹ پر اردو رسائل، مطبوعات، اردو اخبارات و رسائل کی معاونت اور دیگر فروغی سرگرمیوں کو اپنی اہم سرگرمیوں میں شمار کرتی ہے۔
ایسے میں اس کے اپنے رسائل کی طباعت میں اتنی بڑی کمی محض ایک انتظامی عدد نہیں بلکہ اردو کی سرکاری سرپرستی، مطبوعہ صحافت و ادب اور اردو قارئین تک سرکاری مواد کی رسائی کے حوالے سے ایک اہم تحقیقی سوال بن جاتی ہے۔
اہم نوٹ : یہ رپورٹ قومی اردو کونسل کے 10 اگست 2026 کے
RTI جواب میں فراہم کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ کونسل کا مو قف حاصل ہونے کی صورت میں اسے بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔

0 comments