ماب لنچنگ پر پہلی جامع دستاویز کی اشاعت
اس کی تدوین و ترتیب ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کی ہے
تحریر: ظل الرحمن حیدر
نئی دہلی: ایک دہائی پر محیط ہجومی قتل و تشدد کے بارے میں پہلی بار ایک جامع رپورٹ انگریزی زبان میں شائع ہوگئی ہے۔ ۷۴۴؍ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں زیرِ مطالعہ مدت کے دوران ہجومی قتل و تشدد کے ۱۷۴۳ واقعات کا جائزہ لیا گیا ہےاور ان کے بارے میں دستاویزی معلومات جمع کی گئی ہیں اور پہلی مرتبہ ماب لنچنگ کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ماب لنچنگ ہندوستان کے کچھ علاقوں میں پروان چڑھنےوالی دہشت گردی کی ایک منفرد شکل ہے اور اکیسویں صدی میں ہندوستان کے وسیع حصوں میں ایک ’’نئے معمول‘‘ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
اس رپورٹ کا نام ہے
Mob Lynching in India — A Record-2014-2024
یہ رپورٹ مئی ۲۰۱۴ سے مئی ۲۰۲۴ تک نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کی پہلی دو میعادوں کا احاطہ کرتی ہے اور اجتماعی نفرت پر مبنی جرائم کے ارتقا کا سراغ لگاتی ہے۔ محققین کے ایک مجموعے نے کئی سال کام کرکے اس کتاب کے لیے اعداد وشمار جمع کیے۔ اس کی تدوین و ترتیب ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کی ہے جو ایک تجربہ کار صحافی اور انسانی حقوق کے علم بردار ہیں اور دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ بھارت میں ہجومی تشدد کی تاریخی مثالیں موجود ہیں، مثلاً ۱۹۸۴ کے مخالفِ سکھ فسادات، ۲۰۰۲ کے گجرات فسادات اور نام نہاد ’’جادو گرنیوں‘‘ کے قتل۔ تاہم ۲۰۱۴ کے بعدعام ہونے والا ہجومی تشدد اپنی نوعیت میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ ماضی میں ہونے والے وقفے وقفے کے فرقہ وارانہ فسادات کے برعکس، جو چند دنوں کے بعد تھم جایا کرتے تھے، ہجومی قتل اب ایک مستقل اور روزمرہ کا معمول بن چکا ہے؛ یہاں تک کہ اب ایسے واقعات شاذونادر ہی اخبارات کے صفحۂ اول یا حتیٰ کہ اندرونی صفحات پر بھی جگہ پاتے ہیں۔ اگرچہ ان واقعات کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز جرائم پر مشتمل ہے، لیکن بالخصوص دیہی علاقوں میں ماورائے عدالت طریقے سے لوگوں کو قتل کرنا بھی ایک چلن بن گیا ہے، مثلاً بچوں اور مویشیوں کے اغوا، جادو ٹونے کے دعووں، سڑکوں پر معمولی جھگڑوں، پرانی دشمنی، مذہب کی تبدیلی اور بین ذات شادیوں وغیرہ کے معاملات میں بھی قتل کا یہ طریقہ عام ہوگیا ہے۔ پولیس کا غیر مؤثر اور بعض اوقات معاونانہ کردار بھی لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ کرتا ہے۔
اس مطالعے کے مطابق، ہجومی قتل و تشدد کی موجودہ لہر نے ابتدا میں گائے کی حفاظت کے نام پر زور پکڑا، جس کی بنیاد گائے کا گوشت کھانے، گائے ذبح کرنے اور مویشیوں کی تجارت کے الزامات تھے۔ تاہم اس مطالعے میں دستاویزی طور پر بتایا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیرِ اقتدار متعدد ریاستوں میں گائے کے خود ساختہ محافظ کس طرح ایک نیم پولیس فورس بن گئے، کس طرح انہوں نے مسلمانوں کو بے خوف ہوکر قتل کیا، مویشی لے جانے والے ٹرکوں پر بھاری من مانے جرمانے عائد کئے اور شمالی بھارت کی متعدد ریاستوں میں سرکاری ملی بھگت سے کھربوں روپے کی مالیت کے مویشی لوٹ لیے۔ زمین، مالی تنازعات اور بین ذات شادیوں سے متعلق جھگڑوں، بچوں کے اغوا کی افواہوں، مویشی چوری اور حتیٰ کہ مندر کے نلکوں سے پانی پینے جیسے واقعات میں ہجوم خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگا اور پولیس اور عدالت کے باہر ہی معاملات کے فیصلے کرنے لگا۔
اس مطالعے میں نفرتی جرائم کے ایک مخصوص طریقۂ واردات کو نمایاں کیا گیا ہے یعنی مسلمان ہونے کی نمایاں علامتیں رکھنے والے افراد، مثلاً داڑھی رکھنے یا ٹوپی پہننے والوں کو عوامی مقامات، بسوں، ٹرینوں اور سڑکوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ متاثرین کو اکثر ’’جے شری رام‘‘ جیسے مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انکار کرنے کی صورت میں انہیں جان لیوا جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اس ماحول نے عوامی نقل و حرکت کی صورتِ حال کو یکسر بدل دیا ہے اور ایک ایسی زمینی حقیقت پیدا کردی ہے جہاں مسلمان نظر آنے کی حیثیت سے سفر کرنا، بالخصوص غریب افراد کے لیے، پہلے سے کہیں زیادہ خطرات کا باعث بن گیا ہے۔
اس کام میں جدید ٹیکنالوجی کو تشدد کے لئے استعمال کرنے والوں کو حاصل چھوٹ پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ حملہ آور اکثر اپنے پُرتشدد اعمال کی ویڈیوز بناتے ہیں اور انہیں واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر کھلے عام شیئر کرتے ہیں۔ رپورٹ اس بے باکی کو حکومتی تحفظ کا نتیجہ قرار دیتی ہے اور نشاندہی کرتی ہے کہ ملزمان اکثر چند دنوں یا ہفتوں کے اندر ضمانت حاصل کرلیتے ہیں اور بعض اوقات ہیرو کے طور پر اپنی برادریوں میں واپس آتے ہیں۔ کتاب میں ایسی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں جہاں اعلیٰ سیاسی شخصیات نے، جن میں ایک مرکزی وزیر بھی شامل ہیں، ہجومی تشدد کے ملزم افراد کو سرِعام اعزاز دیا، انہیں ہار پہنائے اور ان کے قانونی اخراجات ادا کیے۔
سماجی و سیاسی و معاشی محرکات : رپورٹ ہجومی قتل کو روایتی فرقہ وارانہ فسادات کے ایک اسٹریٹیجک متبادل کے طور پر دیکھتی ہے۔ بڑے پیمانے کے فرقہ وارانہ فسادات کے برعکس، جہاں حملہ آوروں کو خود زخمی ہونے اور خود اپنی املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے، غریب اور نہتے افراد کا ہجومی قتل پُرتشدد ہجوم کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے لیے کم سے کم خطرے کے ساتھ متاثرین کو نشانہ بنائیں۔ رپورٹ ان کارروائیوں کو خوف پیدا کرنے، اطاعت پر مجبور کرنے اور اقلیتی برادریوں کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش قرار دیتا ہے اور اس سلسلے میں اس کا براہِ راست تاریخی موازنہ انیسویں صدی کے اواخر کے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں افریقی نژاد امریکیوں کو نشانہ بنانے والے ہجومی قتل کی مخالف کارکن ایڈا بی۔ ویلزبارنیٹ کی جدوجہد سے کرتا ہے کیونکہ دونوں ہجومی تشدد کے مقاصد یکساں تھے۔
رپورٹ نے پُرتشدد نیٹ ورکس کی پسِ پشت سیاسی معیشت کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ منظم پُرتشدد گروہ معاشرے کے نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کو غیر رسمی روزگار فراہم کرتے ہیں۔ گائے کے تحفظ کی آڑ میں شمالی ہندوستان بھر میں ان مسلح گروہوں نے کھربوں روپے مالیت کے مویشی اور املاک لوٹ لی ہیں اور مویشی لے جانے والے ٹرکوں سے بھاری ’’جرمانے‘‘ وصول کئے ہیں۔ مزید برآں، رپورٹ بتاتی ہے کہ یہ منظم ہجوم وسیع تر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور انتخابات سے قبل اور دورانِ انتخابات انہیں سیاسی حریفوں کو مرعوب کرنے اور اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کرنے کے لیے متحرک کیا جاتا ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ سرکاری تایید کی بدولت سنگھ سے وابستہ یہ تشدد ان ریاستوں تک بھی پھیل گیا ہے جہاں تاریخی طور پر یہ نایاب تھا، جن میں مغربی بنگال، گوا اور شمال مشرقی علاقے شامل ہیں۔
رپورٹ نے عوامی بے حسی اور ذرائع ابلاغ کی غلط رپورٹنگ پر بھی روشنی ڈالی ہے اور نوٹ کیاہے کہ ٹی وی چینل اور آن لائن پلیٹ فارم—جہاں ہندوتوا کے آئی ٹی سیل متحرک ہیں—عملاً میڈیا کے ہجومی گروہوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔
اگرچہ مسلمان، نیز عیسائی اور دلت، ماب لنچنگ کے بنیادی اہداف ہیں لیکن ان برادریوں کے ردِعمل میں تفاوت ہے۔ دلت گروہوں میں اب بھی منظم عوامی احتجاج کرنے کی کچھ صلاحیت موجود ہے، جبکہ عیسائی وقتاً فوقتاً رپورٹس جاری کرتے ہیں۔اس کے برعکس مسلم فرقہ خاموشی سے منظم اور مسلسل تشدد کا سامنا کررہا ہے۔ ماب لنچنگ کے علاوہ اس میں عدالتی کارروائی کے بغیر مکانات ، مساجد، مدرسے اور درگاہوں کے منہدم کیے جانےکی کارروائیاں بھی شامل ہیں ۔
اس تشدد کو ممکن بنانے والی سیاسی فضا کی وضاحت کے لیے رپورٹ معروف صحافی تَوِلین سنگھ اور آر ایس ایس کے ایک سینئر عہدیدار کے درمیان ہونے والی ایک معنی خیز گفتگو کا حوالہ دیتی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ نہتے افراد پر حملہ کرنے والے ہجوم کو بہادری کی علامت کے طور پر کیوں سراہا جاتا ہے، تو عہدیدار نے جواب دیا: ’’کم از کم ہندوؤں نے جوابی مزاحمت کرنا تو سیکھ لیا ہے۔‘‘
طریقۂ کار کا دائرۂ کار اور شماریاتی حدود: رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اس کام میں پیش کیے گئے نتائج ۲۰۱۴ ۔ ۲۰۲۴ کے دوران ہونے والی تمام ماب لنچنگ کے واقعات کی مکمل لسٹ نہیں پیش کرتا ہے بلکہ ایک محتاط نمونے کی نمائندگی کرتاہے کیونکہ دستاویز سازی بنیادی طور پر دہلی سے شائع ہونے والے کچھ بڑے اخبارات، بعض نیوز پورٹلز اور سوشل میڈیا کے ریکارڈز میں شائع شدہ رپورٹس پر مبنی ہے۔وسائل کی محدودیت کی وجہ سے رپورٹ مقامی پولیس تھانوں کے روزنامچوں اور علاقائی پریس کی جامع چھان بین نہیں کرسکی۔اس لئے اصل واقعات کی تعداد موجودہ رپورٹ میں مذکور واقعات سے خاصے زیادہ ہوں گے ۔ اسی طرح رپورٹ میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والی مڈبھیڑ میں ہونے والی ہلاکتوں اور پولیس حراست میں ہونے والی اموات کو بھی شامل نہیں کیا گیا ہے کیونکہ یہ ماورائے عدالت تشدد کی ایک الگ قسم ہے جس کا مطالعہ آئندہ کسی رپورٹ میں کیا جائے گا۔
قانون سازی اور ساختی اصلاحات کا مطالبہ: رپورٹ ہندوستان کے موجودہ قانونی نظام کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ سیاسی عزم کے فقدان اور پولیس کی وسیع پیمانے پر ملی بھگت کے باعث عام فوجداری نظام ہجومی تشدد کی روک تھام میں ناکام رہا ہے ۔ رپورٹ نوٹ کرتی ہے کہ غیر بی جے پی ریاستی حکومتوں کے علاقوں میں بھی نیشنل سیکیوریٹی ایکٹ (NSA) اور UAPA جیسے سخت قوانین مبینہ گائے ذبح کرنے والوں کے خلاف نافذ کیے جاتے رہے ہیں اور ان علاقوںمیں بھی خود ساختہ گئو رکشک اپنی مرضی سے لوگوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے رپورٹ سینئر صحافی جی۔ سمپت کا حوالہ دیتی ہے، جو نفرت پر مبنی جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک سخت قانونی طریقۂ کار کی وکالت کرتے ہیں۔ کتاب۲۰۱۱ کے انسدادِ فرقہ وارانہ تشدد بل کو دوبارہ زندہ کرنے اور نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، جسے سابقہ یو پی اے حکومت نے زیرِ التوا رکھ دیا تھا، اور اس جرم پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی کمزور عدالتی کوششوں کے بجائے سخت انسدادِ ہجومی قتل قانون بنانے اور نافذ کرنے پر زور دیتی ہے۔
اہم سفارشات: رپورٹ کہتی ہے کہ مؤثر قانونی مداخلت کے لیے حکومت اور سول سوسائٹی کی تمام سطحوں پر متعینہ قانونی اقدامات ضروری ہیں۔ رپورٹ متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ ان جرائم کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں، ذرائع ابلاغ اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو فورا دیں، اور گواہی تبدیل کرنے یا مقدمات واپس لینے کے لیے کسی بھی دباؤ یا ترغیب کی مزاحمت کریں۔
رپورٹ ریاستی انتظامیہ سے تیز رفتار تحقیقات اور استغاثے کی کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ پولیس کی بے عملی کا ازالہ ہوسکے اور ماب لنچنگ کے واقعات میں زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کے اہلِ خانہ کو فوری مالی معاوضہ اور مفت قانونی امداد فراہم کی جا سکے؛ مویشیوں کی تجارت اور نقل و حمل پر عائد پابندیاں منسوخ کی جائیں اور ریاستی تحفظ کے قوانین میں ترمیم کی جائے تاکہ قانون کا نفاذ کرنے کا دعوی کرنے والے نجی گروہوں پر پابندی لگ سکے۔
رپورٹ سول سوسائٹی کے گروہوں پر زور دیتی ہے کہ وہ ملکی اور عالمی اداروں اور میڈیا کے لیے نفرت پر مبنی تشدد پردستاویزی رپورٹیں شائع کریں، انسدادِ نفرت قوانین کے لیے سماجی دباؤ کو فروغ دیں، اور کمزور طبقات کو قانونی آگاہی اور تربیت فراہم کریں۔
رپورٹ حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ایک مخصوص اور سخت انسدادِ ہجومی قتل قانون نافذ کرے، آن لائن نفرت اور اسلاموفوبیا کے خالف سخت قانون بنائے ، کرائم ریسرچ بیورو کے ذریعے نفرت پر مبنی جرائم کے تفصیلی اور الگ الگ اعداد و شمار شائع کرے، اور مجرموں کے لیے ضمانت کی مزید سخت شرائط لازمی قرار دے۔
رپورٹ عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ہندوستان میں نفرت پر مبنی جرائم کی باقاعدگی سے نگرانی کرے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی پابندی کی حوصلہ افزائی کرے، قانونی ڈھانچے میں اصلاحات کی حمایت کرے، اور ان انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی میں بھی مدد دے جو بیرونِ ملک منتقل ہو جائیں۔
رپورٹ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے ہجومی گروہوں کے پھیلاؤ سے ہندوستان کے آئینی ڈھانچے اور بین الاقوامی حیثیت کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔ یہ رپورٹ ادارہ جاتی بے حسی کے خلاف ایک باضابطہ انتباہ کے طور پر سامنے آتی ہے اور اس امر پر زور دیتی ہے کہ کوئی ملک اس وقت تک عالمی احترام کا حقدار نہیں ہوسکتا ہے یا داخلی استحکام حاصل نہیں کرسکتا ہےجب تک وہ اپنی حدود میں ماورائے عدالت تشدد کوسختی کے ساتھ کچل نہ دے۔
یہ رپورٹ محققین کے ایک گروہ نے کئی برسوں کی محنت سے نہایت عرق ریزی کے ساتھ تیار کی ہے اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق صدر اورسینئر صحافی ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے اسے مرتب اور مدون کیا ہے۔ بڑے فارمیٹ کے ۷۴۴؍ صفحات پر مشتمل یہ کتاب فاروس میڈیا (Pharos Media)نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۹۰۰ روپے ہے۔

0 comments