متحدہ عرب امارات کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر بھارت میں متحدہ عرب امارات کے سفیر کی صحافیوں سے بات چیت

اعلان کیا ہے۔ 6 اپریل 2021 سے 31 مارچ 2022 تک، متحدہ عرب امارات گزشتہ 50 سالوں میں اپنے شاندار سفر کا جشن منائے گا اور اگلے 50 برسوں کے سفر کی تیاری شروع کرے گا۔

 

 نئی دہلی : بھارت  میں میں متحدہ عرب امارات کے سفیر ڈاکٹر احمد البنا نے 24 نومبر 2021 کو سفارت خانے میں صحافیوں کے گروپ کے ساتھ بات چیت کی۔ اپنی بات چیت کے دوران، انہوں نے متحدہ عرب امارات کے قیام کی گولڈن جوبلی منانے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ سفیر البنا نے کہا کہیو اے ای کے صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے 50 سال مکمل ہونے کی یاد میں 2021 کو '50 ویں سال' کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ 6 اپریل 2021 سے 31 مارچ 2022 تک، متحدہ عرب امارات گزشتہ 50 سالوں میں اپنے شاندار سفر کا جشن منائے گا اور اگلے 50 برسوں کے سفر کی تیاری شروع کرے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے 1971 میں یونین کے اعلان کے بعد سے اہم سنگ میل حاصل کئے ہیں۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں متحدہ عرب امارات کی ترقی حیرت انگیز رہی ہے اور دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک کے طور پر ابھر رہی ہے۔

 

متحدہ عرب امارات کے سفیر نے کہا کہ، متحدہ عرب امارات نے اپنے قیام کے بعد سے متاثر کن اقتصادی اور شہری انقلابات کا مشاہدہ کیا ہے، جس نے ملک کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک اہم سیاحتی مقامات اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور قائم کیا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کی دوراندیش قیادت نے شہریوں اور رہائشیوں کی سماجی ترقی، اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی، خلائی اور تعلیم کے شعبوں میں ترقی کے حوالے سے جو مقام حاصل کیا ہے وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ابوظہبی نیشنل آئل کمپنیکا قیام، ابوظہبی فنڈ برائے ترقی کاکا قیام، دبئی کے نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا قیام، ہیپی نیس کی وزارت کا قیام، مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی کا آغاز، ایکسپو 2020 کی میزبانی، گزشتہ دہائیوں میں متحدہ عرب امارات کی اہم کامیابیاں ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے سفیر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات خاص طور پر عالمی سائنسی تحقیق اور خلائی تحقیق کے میدان میں نئے سنگ میل اور کامیابیوں کے سفر پر گامزن ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بنی نوع انسان کی خدمت میں خلائی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے میں کمال حاصل کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی کا آغاز اور مریخ پر پہلا عرب خلائی جہاز بھیجنا اس شعبے میں بڑی کامیابیاں ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ 1971 میں فیڈریشن کے قیام کے بعد سے متحدہ عرب امارات میں خواتین کی حیثیت ملکی ترقی کے ساتھ ساتھ پروان چڑھی ہے۔ یہ بات پورے یو اے ای میں عیاں ہے کہ خواتین آج متحدہ عرب امارات کی افرادی قوت کا ایک اہم حصہ ہیں اور ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

 

سفیر البنا نے میڈیا کے نمائندوں کو دبئی میں جاری ایکسپو 20202 کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایکسپو 2020 میں نمائش کے لیے ایک مستقل جگہ الاٹ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک نے ایکسپو کے مقام پر اپنے قومی دن کا اہتمام کیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دبئی پولیس بینڈ اور یو اے ای میں مقیم بھارتی گروپوں نے دیوالی کے موقع پر ایکسپو میں ثقافتی پروگرام پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم اکتوبر کو عوام کے لئے ایکسپو 2020 کے  کھولے جانے کے بعد سے اب تک 40 لاکھ سے زائد افراد ایکسپو 2020 کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورچوئل وزٹس کی تعداد کے لحاظ سے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایکسپو کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آن لائن جانے والوں کی تعداد اب تک 22 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو نے اب تک متحدہ عرب امارات کے متعدد اسکولوں کے 200,000 طلباء کو راغب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو کی تاریخ میں پہلی بار ایکسپو 2020 عالمی شطرنج چیمپئن شپ کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ شائقین 24 نومبر سے شروع ہو کر 16 دسمبر تک دبئی کے نمائشی ہال میں دو عالمی معیار کے کھلاڑیوں کو آمنے سامنے دیکھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ناروے سے میگنس کارلسن اور روس سے ایان نیپومنیاچی اس ہفتے 2.25 ملین ڈالر کے انعام کے کھیل کا آغاز کریں گے۔

 

سفیر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ایکسپو 2020 کے تھیم کے طور پر "مستقبل پر مربوط تخلیق کرنا" کو تین ذیلی تھیم - مواقع، نقل و حرکت اور پائیداری کے ساتھ منتخب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھیم 'موقع' کا مقصد سماجی مسائل کے حل کو تلاش کرنا ہے، نقل و حرکت ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے ذریعے نئے زاوئے تلاش کرنے کے راستے کھولے گی۔ تیسرا موضوع پائیداری کے تحت زمین کو محفوظ رکھنے کی کوششیں کرنے کے لئے خوراک، پانی اور صاف قابل تجدید توانائی کے متبادل ذرائع پر غور کرنا ہے۔

0 comments

Leave a Reply