ٹی ایم ضیاء الحق ! فکر، تہذیب، صحافت اور روحانی شعور کا معتبر حوالہ
سَیِّد آصف امام کاکوی
اردو ادب اور صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنے قلم سے نہیں بلکہ اپنے فکری وقار، روحانی وابستگی اور تہذیبی شعور سے ایک مستقل شناخت قائم کر لیتی ہیں۔ ٹی ایم ضیاء الحق انہی معتبر شخصیات میں شامل ہیں، جنہوں نے صحافت کو محض خبر رسانی نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی ذمہ داری کے طور پر اختیار کیا۔ ان کی تحریروں میں ادب کی لطافت، تصوف کی روحانیت، صحافت کی سنجیدگی اور تہذیب کی خوشبو ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ ٹی ایم ضیاء الحق، جن کا اصل نام طیب محمد ضیاء الحق ہے، یکم جنوری 1975 کو بہار کے تاریخی شہر گیا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد طیب محمد انعامُ الحق اور والدہ عائشہ خاتون ہے، جن کی دینی تربیت، اخلاقی اقدار اور تہذیبی ماحول نے ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ علمی، ادبی اور روحانی ماحول میں پرورش پانے والی اس شخصیت نے ابتدا ہی سے مطالعہ، صحافت اور تہذیبی فکر سے گہرا تعلق قائم کر لیا تھا۔ آج وہ دہلی میں مقیم ہیں، مگر ان کی تحریروں میں آج بھی بہار کی مٹی کی خوشبو، اس کی تہذیبی لطافت اور اس کے روحانی نقوش پوری شدت کے ساتھ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ٹی ایم ضیاء الحق کی تحریریں محض معلوماتی مضامین نہیں بلکہ ایک فکری و تہذیبی مکالمہ ہیں۔ ان کے صوفیانہ مضامین میں روحانی وابستگی، فکری سنجیدگی اور تہذیبی شعور نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ تصوف کو صرف خانقاہی روایت یا رسمی عقیدت تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے انسانی اخلاق، سماجی رشتوں، زبان، تہذیب اور دعوتی شعور سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں قاری کو صرف معلومات نہیں دیتیں بلکہ اسے اپنی روحانی اور تہذیبی جڑوں کی طرف متوجہ بھی کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں کا ایک اہم پہلو “تہذیبی یادداشت” کا تحفظ ہے۔ وہ اُن محفلوں، روایتوں، شخصیات اور سماجی قدروں کو قلم بند کرتے ہیں جو جدید دور کی تیز رفتار زندگی میں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ “خواتین کی مجلسِ میلاد”، “ہم بچوں کی مجلسِ میلاد ﷺ”، “مکتب، اُردو اور تہذیب”، “گیا جو ایک شہر ہے” اور “ہمارے بچپن کا رمضان” جیسے مضامین اس کی روشن مثالیں ہیں۔
ان تحریروں میں صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی روحانی، سماجی اور تہذیبی فضا محفوظ ہو گئی ہے۔ “خواتین کی مجلسِ میلاد” میں ٹی ایم ضیاء الحق نے برِّصغیر کے مسلم معاشرے کی اُن روحانی روایتوں کو یاد کیا ہے جہاں خواتین کی محفلیں صرف مذہبی رسم نہ تھیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ، دعا، اصلاحِ نفس اور اجتماعی سکون کا ذریعہ تھیں۔ “میلاد اکبر” اور “مولود سعیدی” جیسے میلادی رسائل، خواتین کا درد بھرا اندازِ دعا، اور عقیلہ خاتون مرحومہ جیسی شخصیات کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ یہ محفلیں گھروں اور محلّوں میں روحانیت، محبت اور سماجی ربط پیدا کرتی تھیں۔ مصنف نے کورونا وبا کے تناظر میں ذکرِ رسول ﷺ اور درود و سلام کو روحانی سکون اور امید کا وسیلہ قرار دے کر اپنے داخلی یقین اور صوفیانہ وابستگی کو نہایت خلوص سے پیش کیا ہے۔ خصوصی طور پر “ہم بچوں کی مجلسِ میلاد ﷺ” ایک نہایت مؤثر اور دل نشیں مضمون ہے، جس میں مصنف نے اپنے بچپن کی ایک سادہ مگر بامعنی یاد کے ذریعے ایک بڑے دعوتی اور تربیتی تصور کو اجاگر کیا ہے۔ مٹی کے چُکّے میں پیسے جمع کرنا، دوستوں کو بلا کر محفلِ میلاد کا اہتمام کرنا، بندیا خریدنا اور ایک کمسن دوست سے تقریر کروانا یہ تمام مناظر قاری کے ذہن میں ایک زندہ تصویر قائم کر دیتے ہیں۔ اس مضمون میں یہ پیغام خوبصورتی سے ابھرتا ہے کہ نبوت ختم ہوئی ہے مگر “کارِ نبوت” یعنی دعوت و اصلاح کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اسی طرح “مکتب، اُردو اور تہذیب” ایک ایسا مضمون ہے جو محض ایک یادداشت نہیں بلکہ ایک تہذیبی نوحہ اور فکری دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ گیا کے محلہ نیو کریم گنج کی مسجد، حضرت مولانا حکیم سید محمد امین الدین قادریؒ کا مکتب، فجر کے بعد بچوں کا قرآن، اُردو اور فارسی پڑھنے کے لیے جمع ہونا یہ سب ایک ایسے تعلیمی و تہذیبی نظام کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں تعلیم صرف نصاب نہیں بلکہ تربیت، تہذیب اور روحانی شعور کا ذریعہ تھی۔
مصنف نے نہایت درد مندی کے ساتھ اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جدید تعلیمی نظام، پرائیویٹ اسکولوں کے بڑھتے رجحان اور بدلتے سماجی حالات نے نئی نسل کو مکتب، اُردو اور اپنی تہذیبی روایت سے دور کر دیا ہے۔ “گیا جو ایک شہر ہے” میں ٹی ایم ضیاء الحق نے اپنے آبائی شہر گیا کی تاریخ، روحانیت، ادب اور سماجی زندگی کو نہایت محبت اور اپنائیت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ رامائن، مہابھارت، بودھ گیا، خانقاہوں، ادبی رسائل، مشاعروں، لائبریریوں اور ادبی نشستوں کے ذکر کے ذریعے انہوں نے گیا کو محض ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں اور روایتوں کے سنگم کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں ایک طرف تاریخ اور روحانیت کی جھلک ملتی ہے تو دوسری طرف نئی نسل کے کتابوں سے دور ہونے پر ایک فکری تشویش بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ وہیں “ہمارے بچپن کا رمضان” میں مصنف نے رمضان کو صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی اور روحانی تجربہ قرار دیا ہے۔ کریم گنج کی گلیاں، افطاری کی رونقیں، سحری کے قافلے، چاند شاہ کی آواز، تراویح کی محفلیں اور یوتھ لائبریری کے نوجوانوں کی سرگرمیاں یہ سب مناظر قاری کے دل میں ایک پورے عہد کی اجتماعی زندگی کو زندہ کر دیتے ہیں۔ اس مضمون میں رمضان کے ذریعے نظم، صبر، محبت اور اجتماعیت کا جو تصور پیش کیا گیا ہے، وہ نہایت مؤثر اور فکری ہے۔ ٹی ایم ضیاء الحق کی نثر میں صحافتی سادگی اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
وہ پیچیدہ فکری اور صوفیانہ موضوعات کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں تصنع نہیں بلکہ خلوص، وقار اور داخلی حرارت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ ادب، تاریخ اور تہذیب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ آج جبکہ صحافت اکثر سطحی خبروں اور وقتی موضوعات تک محدود ہوتی جا رہی ہے، ایسے دور میں ٹی ایم ضیاء الحق جیسے اہلِ قلم کا وجود ایک نعمت محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے قلم کو سچائی، دیانتداری اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ وہ صرف خبریں نہیں لکھتے بلکہ معاشرے کی نبض کو محسوس کرتے ہیں اور اپنے لفظوں کے ذریعے فکری بیداری پیدا کرتے ہیں۔ ان دنوں وہ اپنی اہم کتاب “گیا جو ایک شہر ہے” پر کام کر رہے ہیں، جس سے ادبی حلقوں کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ توقع ہے کہ یہ کتاب نہ صرف بہار کی تہذیب، اُردو زبان، روحانی روایت اور علمی تاریخ کی ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی بلکہ اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ بھی سمجھی جائے گی۔ اس کتاب میں ایسے موضوعات شامل کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف موجودہ دور کے لیے اہم ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کریں گے۔ ٹی ایم ضیاء الحق کی سب سے بڑی خوبی ان کا اخلاص، سادگی اور تہذیبی وقار ہے۔ ان کی گفتگو میں سنجیدگی بھی ہوتی ہے اور محبت بھی۔ وہ محض لفظوں کے خالق نہیں بلکہ احساسات کے امین ہیں۔ وہ صرف قلم کے مسافر نہیں بلکہ تہذیب کے نگہبان ہیں۔ ان کی شخصیت میں جو درد، جو وابستگی اور جو روحانی حرارت ہے، وہ آج کے اس مادّی دور میں ایک چراغ کی مانند محسوس ہوتی ہے ایسا چراغ جو اندھیروں میں بھی روشنی بانٹتا رہتا ہے۔ کبھی کبھی زندگی کے سفر میں کچھ شخصیات ایسی مل جاتی ہیں جو محض ملاقات نہیں ہوتیں، بلکہ ایک احساس بن کر دل کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہیں۔
ٹی ایم ضیاء الحق بھی انہی نادر اور خوش نصیب شخصیات میں شامل ہیں، جن کا ذکر آتے ہی لفظ خاموش ہو جاتے ہیں اور دل خود اپنی کیفیت بیان کرنے لگتا ہے۔ پٹنہ کی سرزمین، جو ہمیشہ سے علم و ادب، تہذیب و شائستگی اور محبت و خلوص کی امین رہی ہے، اُس دن کچھ اور ہی رنگ میں نظر آ رہی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سی لطافت تھی، جیسے وقت ٹھہر گیا ہو اور لمحے اپنی معنویت خود بیان کر رہے ہوں۔ جب ٹی ایم ضیاء الحق صاحب ہمارے گھر تشریف لائے، تو یہ محض ایک رسمی آمد نہ تھی، بلکہ اُردو ادب کی خوشبو سے مہکتی ایک روحانی محفل کا آغاز تھا۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی گھر کا ہر گوشہ ایک خاص نور سے بھر گیا۔ ان کا مسکراتا چہرہ، آنکھوں میں شفقت کی چمک، اور گفتگو میں خلوص کی مٹھاس یہ سب کچھ دل میں اترتا چلا گیا۔
وہ صرف ایک صحافی نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری شخصیت ہیں جو اُردو ادب، تہذیب اور روحانی شعور کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ جب وہ لب کشا ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ میں زندگی دوڑ گئی ہو۔ ان کی گفتگو میں ادب کی لطافت، تاریخ کی گہرائی، اور معاشرے کی نبض کو سمجھنے کی غیر معمولی بصیرت جھلکتی ہے۔ ہر جملہ ایک فکر کو جنم دیتا ہے اور ہر بات دل کے کسی نہ کسی گوشے کو روشن کر دیتی ہے۔ اسی نشست میں جب انہوں نے اپنی زیرِ تصنیف کتاب کا ذکر کیا، تو یہ لمحہ ایک نئی خوشی اور امید کا پیامبر بن گیا۔ ان کے لہجے میں جو یقین، جو محبت، اور جو وابستگی تھی، اس سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کتاب محض تحریروں کا مجموعہ نہیں ہوگی، بلکہ بہار کی اُردو تہذیب، اس کی روایتوں اور اس کے علمی سرمائے کا ایک روشن آئینہ ہوگی۔ یہ سن کر دل خوشی سے لبریز ہو گیا، جیسے کسی نے تاریکی میں چراغ روشن کر دیا ہو۔ یہ ملاقات صرف ایک خوشگوار لمحہ نہ تھی، بلکہ اس نے ماضی کی اُن سادہ مگر خلوص بھری محفلوں کی یاد تازہ کر دی، جہاں رشتے لفظوں سے نہیں بلکہ احساسات سے جڑے ہوتے تھے۔ سوشل میڈیا کی دوری کے بعد جب یہ ملاقات حقیقت کا روپ دھار گئی، تو یوں محسوس ہوا جیسے ایک ادھورا خواب مکمل ہو گیا ہو۔ ٹی ایم ضیاء الحق صاحب جیسے لوگ حقیقت میں صرف فرد نہیں ہوتے، بلکہ ایک کارواں ہوتے ہیں محبت کا، اخلاق کا، اور انسانیت کا۔ ان کی شخصیت میں جو وقار ہے، وہ کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے، اور ان کے دل میں اُردو کے لیے جو درد اور تڑپ ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس زبان کو صرف بولتے نہیں، بلکہ جیتے ہیں۔ انہوں نے بڑے واضح انداز میں کہا کہ اُردو صرف ماضی کی ایک حسین یادگار نہیں، بلکہ آنے والے وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اگر ہمیں اپنی تہذیب، اپنی شناخت اور اپنی فکری میراث کو زندہ رکھنا ہے، تو ہمیں عملی میدان میں آ کر اس کی حفاظت کرنی ہوگی۔ ان کے الفاظ دل میں یوں اترتے چلے گئے جیسے روشنی کی کرن اندھیروں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہو۔ واقعی، ان کی موجودگی نے اس ملاقات کو ایک ناقابلِ فراموش لمحہ بنا دیا۔
یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ ان کی آمد ہمارے لیے ایک نعمت تھی۔ ان کی شخصیت، ان کی گفتگو، اور ان کا خلوص سب نے ہمارے گھر کو ایک ادبی اور روحانی فضا میں ڈھال دیا۔ دل آج بھی دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سلامتی اور درازیٔ عمر عطا فرمائے، اور ان کے قلم کو مزید اثر اور طاقت بخشے تاکہ وہ اسی طرح اُردو ادب کی خدمت کرتے رہیں۔ آخر میں، میں سَیِّد آصف امام کاکوی دل کی گہرائیوں سے یہ دعا کرتا ہوں کہ ان کی آنے والی کتاب نہ صرف کامیاب ہو بلکہ اُردو ادب میں ایک نئی تاریخ رقم کرے۔ یہ کتاب ان کے نام کو مزید روشن کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ایسی ملاقاتیں محض لمحے نہیں ہوتیں، یہ زندگی کا اصل سرمایہ ہوتی ہیں۔ یہ لمحہ یہ ملاقات یہ احساس ہمیشہ دل میں زندہ رہے گا۔ بلاشبہ ٹی ایم ضیاء الحق اردو ادب، صوفیانہ فکر، صحافت اور تہذیبی شعور کا ایک روشن اور معتبر نام ہیں۔ ان کی تحریریں صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ محسوس کی جاتی ہیں۔ وہ ادب کو محض اظہار نہیں بلکہ اصلاح، شعور اور تہذیبی بقا کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا قلم آج بھی دلوں میں روشنی پیدا کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے امید، تہذیب اور روحانی شعور کا پیغام بن کر سامنے آتا ہے۔
مضمون نگار کا رابطہ
Mobile no 917970631167

0 comments