ٹیچرس ڈے : کچھ یادیں کچھ باتیں ، جن ٹیچرس نے مجھے بے حد متاثر کیا

ماسٹر شاہد علی صاحب گزشتہ برس جب دہلی تشریف لائے تھے تو ایشیا ٹائمز کے دفتر میں کچھ وقت گزارا تھا ، احوال دریافت کرنے کے بعد کافی خوش ہوئے ڈھیروں دعائیں دیں ۔

نئی دہلی : (ایشیا ٹائمزکی خاص پیشکش/اشرف علی بستوی ) اسکول کے زمانے میں  یوم اساتذہ کا مطلب ہمارے نزدیک ایک اور چھٹی کے سوا کچھ نہ تھا ، چار ستمبر کو سہ پہرقریب تین بجے کلاس میں چپراسی رجسٹر لے کر حاضر ہوتا درجے میں موجود استاذ رجسٹر میں درج نوٹس کو با آوازبلند  سناتے "  سمست چھاتر چھاتراوں ایوم ادھیاپکوں کوسوچیت کیا جاتا ہے کہ کل دنانک 5ستمبر کو ودیالیہ شکشھک دیوس کے اپلکچھ میں بند رہے گا ، چھ ستمبر کو ودیالیہ پونہہ پراتہہ دس بجے کھلے گا " ۔   یہ اعلان سنتے ہی بچے خوشی سے اچھلنے لگ جاتے اپنے اپنے گاوں میں اگلے دن کے کرکٹ میچ کی تیاری میں جٹ جاتے گاوں کے روایتی کھیلوں کا خاکہ ذہن میں تیرنے لگ جاتا۔


دل چاہا کہ 'کچھ یادیں کچھ باتیں' کے عنوان سے  اسکول کے دنوں کی یاد قلم بند کروں ۔ اپنے ان مشفق اساتذہ کو یاد کروں جنھوں نے مجھے توتلی زبان میں بسم اللہ شروع کرایا ، قلم پکڑنا سکھایا جنھوں نے مجھ میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کی کوشش کی ، اپنی فکر کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے فکرمند رہنا سکھایا ۔ آج کے دن میرے کچھ ٹیچر یاد آرہے ہیں جن کی تربیت سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ،  جن ٹیچرس نے مجھے  بے حد متاثر کیا ان میں حا فظ محمد یعقوب صاحب جنہوں نے مجھے مکتب میں بسم اللہ شروع کرائی تھی ،نماز کا طریقہ قرآن کی سورتیں اور بہت سی دعائیں، تعلیم الاسلام کے کئی اسباق زبانی یاد کرا ئے تھے جن سے آج تک استفادہ جاری ہے ۔

 

 

دوسرے میجر اکرام صاحب ہیں یہ ریٹائر فوجی تھے انہوں نے نے ہمیں پانچویں کلاس میں ہی ضلع بستی کا جغرافیہ ، اتر پردیش کا جغرافیہ ، ہندوستان کا جٖغرافیہ اور ایشیا کا جغرافیہ مع نقشہ ازبر کرا دیا تھا کچھ چیزیں آج بھی اسی طرح یاد ہیں ، ڈسپلن شکنی ان کے یہاں سب سے بڑا جرم تھا ۔ پانچ روپیہ ماہانہ ٹیوشن فیس ادا کرکے ہم کچھ بچوں نے لنچ کے اوقات میں انگریزی انہی سے پڑھنا شروع کیا تھا ،کیونکہ اس وقت ہمارے پرائمری نصاب میں انگریزی داخل نہیں تھی ۔

 

مسلم انڈسٹریل جونئر اسکول میں ما سٹر اکبر علی صاحب کو کیسے بھول سکتا ہوں تیز املا لکھنے کی عادت انہوں نے ہی ڈالی تھی وہ بک کرافٹ پڑھاتے تھے اور موصوف ایک ساتھ کم ازکم دو تین سطر بول کر چپ ہوجاتے دوبارہ دہرانے کی کسی نے گزارش کی تو پھر خیر نہیں ، اس کا اثر یہ ہوا کہ ہم نے یہیں سے تیزی سے املا لکھنا سیکھ لیا جو میدان صحافت میں رپورٹنگ شروع کرتے وقت بہت کام آیا اس لیے ماسٹر اکبر صاحب بہت یاد آتے ہیں ۔

 

ماسٹر شاہد علی صاحب کی سختی نے انگریزی سیکھنے پر مجبور کیا ان کا حال یہ تھا کہ وہ روزانہ انگریزی کی کتاب اٹھاتے اور معنیٰ سننا شروع کرتے ،ان کی یہ سختی آگے چلکر ہمارے بہت کام آئی ۔

عبدالحکیم انٹر کالیج دودھارا میں 9 ویں اور دسویں کلاس میں فیزیکس کے ٹیچر نبی احمد صاحب کا محبت بھرے انداز میں پیش آنا اور ریا ضی کے ٹیچر ماسٹر شفیق احمد صاحب کی سختی دونوں سے طلبہ مستفید ہوئے۔


عبدالحکیم انتر کالیج دودھارا کے منیر احمد صاحب کا بے حد محبت آمیز لہجے میں انگریزی پڑھانا آج بھی ذہن میں اسی طرح تازہ ہے ۔ نیشنل انٹر کالیج مونڈاڈیہا بیگ میں ماسٹر مجیب اللہ کلیم صاحب کے انگریزی پڑھانے کا انداز فطری تھا وہ طلبہ کو اعتماد میں لیکر سبق پڑھاتے اور سبھی کو شامل کر لیتے ۔

 

گریجویشن ہم نے اے پی این ڈگری کالیج بستی سے کیا یہاں اردو کے ریڈر عالم صاحب کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہر بچے سے کلاس میں شعرسنتے جس نے سنا دیا بہت خوش ہوتے دوسرے بچوں کو تر غیب دیتے یہ بچہ ضرور کامیاب ہوگا اس لیےیہاں سے اشعار یاد کرنے کی طرف توجہ ہوئی ۔

 

 نسیم حیدر رضوی صاحب جو کہ بستی میں ہی بارہویں ،گریجویشن کے بچوں کو اپنے گھر پر انگریزی کی کوچنگ کراتے تھے ۔ نسیم صاحب انگریزی کے نوٹس بنانے پر بڑی توجہ دیتے ،خوب املا کراتے اورسخت سردیوں کے دنوں میں پیرانہ سالی کے باوجود اور کوٹ پہلے کرسی پر بیٹھے ملتے بڑے ہی ذوق سے پڑھاتے ۔ بچوں پر گہری نظر رکھتے کمزوریوں پر بر وقت نشان دہی کرتے۔

 

 ایم اے پرائیویٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کیا ہے اس لیے یہاں اساتذہ کا سامنا نہیں ہوا البتہ جے این یو سے ماس کام کی کلاس کی یادیں ہیں یہاں ہمیں شفیع ایوب صاحب  جیسے شفیق استاذ ملے جنہوں نے ہمیشہ کلاس کو انٹر ایکٹیو بنائے رکھا ، صحیح معنوں میں اگر کہوں تو کلاس میں اظہار خیال کی مکمل آزادی یہیں نصیب ہوئی ،اتفاق اور عدم اتفاق کا پوار موقع ملا ۔

 

اپنے اساتذہ کے لیے آج تو بس دل سے یہی دعا نکل رہی ہے کہ اے اللہ میرے سبھی اساتذہ اجرعظیم عطا کر جو اس دنیا میں ہیں ان کی زندگیوں میں برکت نصیب فرما اور ان کا سایہ تادیر قائم رکھ اور جو اس دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کر ۔ آمین

 

اسٹوری کے ساتھ منسلک یہ تصویر ماسٹر شاہد علی صاحب کی ہے، موصوف گزشتہ برس جب دہلی تشریف لائے تھے تو انہوں نے میری درخواست پر ایشیا ٹائمز کے دفتر میں کچھ وقت گزارا تھا ،اور احوال دریافت کرنے کے بعد  کافی خوش ہوئے ڈھیروں دعائیں دیں ۔

0 comments

Leave a Reply