ملک و ملت کی تعمیر کیلئے طلبائے مدارس کو میدانِ صحافت میں آگے بڑھنے کی ضرورت/امام الدین علیگ

 

 سدھارتھ نگر:   معروف و مؤقر تعلیمی ادارہ جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں میں  "طلبائے مدارس و ذرائع ابلاغ" کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر نیوز پورٹل ای ٹی وی  بھارت، حیدرآباد کے سینئر کنٹنٹ ایڈیٹر امام الدین علیگ  نے خطاب کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کی اہمیت و افادیت اور اس میدان میں طلبائے مدارس کے لیے امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر ذرائع ابلاغ کی موجودہ صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح حال کے لیے طلبائے مدارس کا میدان صحافت میں پیش رفت کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ دینی درسگاہوں کے فارغین میڈیا کے ذریعہ ملک کی تعمیر اور ملت کی خدمت احسن طریقے سے کرسکتے ہیں۔
مدارس کے جن طلبہ کی فکری و تعلیمی تربیت مناسب طریقے سے ہوئی ہو، اگر اُنہیں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرکے اس شعبے میں اتارا جائے تو بادِ مخالف کا رخ موڑا جا سکتا، ملت کے تئیں برادران وطن کے دل و دماغ میں بھرے جا رہے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ اغیار کے منفی پروپیگنڈہ کی بھی کاٹ کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے دینی مدارس اور ملی تنظیموں کو کامل توجہ، جہد مسلسل، عزم محکم اور بہتر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔  مذکورہ خیالات کا اظہار جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں کے کانفرنس ہال میں امام الدین علیگ نے طلبہ و اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران انہوں نے طلبہ کو ذرائع ابلاغ کے میدان میں آگے بڑھنے کے تعلق سے بنیادی نکات کی طرف توجہ دلائی،

علاوہ ازیں خبروں کے اغلاط اور اس کی اصلاح کی وضاحت کی اور اس میدان میں اپنے تجربات و مشاہدات کو طلبہ سے آگاہ کیا۔ پروگرام کا آغاز عزیزم حافظ محمد راشد اور محمد اسامہ کے تلاوت قرآن اور ترجمہ سے ہوا۔ محمد اسد نے نعت نبی ﷺ پیش کیا۔ نظامت کی ذمہ داری ماسٹر توقیر نے انجام دی۔ صدر جامعہ مولانا محمد شریف فلاحی نے مہمان خصوصی کا والہانہ استقبال کیا۔ رکن شوریٰ انجمن طلبہ قدیم جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں مولانا عبد الرؤف فلاحی کے کلمات تشکر ودعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر نائب صدر جامعہ جناب مولانا شبیر احمد فلاحی، مفتی عثمان علی قاسمی، حافظ بلال احمد، حمیداللہ فیضی، الحاج ثناء اللہ، ماسٹر عبد الحمید، ڈاکٹر عبد اللہ ندوی، کہنہ مشق شاعر صغیر احمد رحمانی کے علاوہ اعلی درجات اور ثانوی کےجملہ طلبہ و اساتذہ موجود تھے۔

0 comments

Leave a Reply