سوشل ڈسٹینسنگ و لاک ڈاون ۔ تیرے نام
حرف نیم کش
دہلی کے کناٹ پلیس اوراسی قسم کے دوسرے پوش علاقوں میں ہمہ شما کی پہنچ سے باہر ایسے مہنگے، خوبصورت اور گوشہ عافیت نما ریسٹورانٹوں کی کمی نہیں جن کے رومان پرور ماحول اور مغربی موسیقی کے دھیمی دھیمی دھنوں میں دنیا و مافیہا سے بے نیاز اور ایک دوسرے سے چپک کر راز و نیاز کی باتیں کرنے اور’ من تو شدم تو من شدی‘ کی تفسیر بنے ہوئے جوڑوں کو دیکھ کر ایک انجانی سی رومانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وقت کا بانہہ تھامنے کی خواہشیں بے ساختہ انگڑائیاں لینے لگتی ہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب لاک ڈاون کے نفاذ سے پہلے ہر جگہ سوشل ڈسٹینس (Social Distance)بنائے رکھنے کے احکامات پر سختی سے عمل ہو رہا تھا۔ ہم گھومتے گھامتے ایک ایسے ہی گوشہ عافیت نما ریسٹورانٹ میں پہنچے اور رومان پرور ماحول میں مغربی موسیقی کی دھیمی دھیمی دھنوں کے جلو میں سناٹے کو دیکھا تو ایک شناسا ویٹر سے حال پوچھا تو اس نے منہ بسورتے ہوئے جواب دیا ” صاحب سوشل ڈسٹینسنگ کے اس حکم نے ہم لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور آمدنی پر بڑا بُرا اثر ڈالا ہے۔ پہلے مال دار گھرانوں کے جوڑوں سے ہال بھرا رہتا تھا۔ یہ جوڑے کرسیوں پر بیٹھتے ہی دنیا سے بے نیاز ہو جاتے ،آنکھ مچولی شروع کر دیتے اور اٹھکھیلیاں شروع ہو جاتیں اور ہم لوگ آرڈر لینے اور سروس میں جان بوجھ کر دیر کرتے تاکہ اٹھکھیلیاں جاری رہیں۔ ہرجوڑا سروس سے خوش ہو کر خاصی ٹپ دیتا، لیکن آج کل نوجوان جوڑے اِدھر کا رخ ہی نہیں کرتے اور اگر بھولے بھٹکے کوئی نوجوان جوڑا آبھی جاتا ہے تو سوشل ڈسٹینس بنائے رکھنے کے لیے بھائی بہن کی طرح بیٹھے رہتے ہیںبھلا ایسے میں ٹپ کون دیتا ہے؟
بھائی ممدو، بڑے کانٹے کا سوال ہے
ہر جگہ سوشل ڈسٹینسنگ کا غلغلہ مچا ہوا تھا اور ہر چھوٹا بڑا سوشل ڈسٹینس رکھنے پر تلا ہوا تھا کہ ایک دن نہاری پائے اور تکے کھانے اور کھلانے کے شوقین ہمارے ایک شابو دوست بھائی ممدو نے ہمیں فون کیا۔ سلام و دعا کے بعد اپنے مخصوص کرخنداری انداز میں نہاری پائے اور تکے کھانے کی دعوت دیتے ہوئے بڑے بھولپن سے بولے” میاں بھائی عظیم! تم توپڑھے لکھے ہو اور اس معاملے میں صحیح رائے دے سکتے ہو۔ یہ بتاوحکومت نے سوشل دوری رکھنے کا جو چکر چلایا ہے اس سے نکاح میں تو کوئی خلل نہیں پڑے گا؟“ یہ سن کر ہم نے فوراً جواب دیا ” بھائی ممدو، بڑے کانٹے کا سوال ہے، ہم تو جواب نہیں دے سکتے، کوئی مولوی ہی صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔ کسی مولوی سے پوچھو اور ہمیں بھی بتاو، اگر خدا نخواستہ نکاح میں خلل پڑ گیا تو اس عمر میں ہمارا اور تمھارا کیا ہوگا؟
یہ سن کر ہماری رگِ ظرافت پھڑکی
لاک ڈاون کے بعد جب گھر سے نکلنابند ہو گیا اور بے تکلف دوستوں سے ملنے جلنے کا سلسلہ ٹوٹ گیا تو ٹیلی فون نے دستگیری کی اور ذہن پر چھانے والی بوریت کو دور کرنے کے لیے فون پر دوستوں کی خیر و عافیت پوچھنے اور باتیں کرنے میں وقت گزرنے لگا۔ ایک دن ہمارے ایک بے تکلف دوست نے فون کیا۔ رسمی خیر و عافیت معلوم کرنے کے بعد بولے کہ” بھائی لاک ڈاو
¿ن کی وجہ سے اب وقت گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ صبح سے شام تک تنہائی اور ذہنی بوریت تھکا دیتی ہے۔ آپ کیسے وقت گزار رہے ہیں۔“ یہ سن کر ہماری رگِ ظرافت پھڑکی اور ہم نے بے ساختہ کہا کہ ” ہمارا وقت تو بڑا رومانٹک گزر رہا ہے۔“ ریٹائرمنٹ کی بوجھل اور بے کیف زندگی اور اس پر لاک ڈاون کی پابندیوں میں پھنسے ہوئے ہمارے دوست نے حیرت سے پوچھا ” ارے وہ کیسے عظیم صاحب؟“ ہم نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ” بھائی گھر میں نہ جانے کسی زمانے کی ایک ٹیلی اسکوپ پڑی ہوئی تھی۔ وہ ہاتھ لگی تو ’داشتہ آید بہ کار‘ کے مصداق اب اس کا صحیح استعمال کر رہا ہوں۔ صبح و شام چھت پر جا کر اپنی ہم عمر پڑوسنوں کو تاکتا ہوں اور تصور کی شاہراہ جگمگانے لگتی ہے۔“ ہم ابھی یہی کہہ پائے تھے کہ ہمارے دوست نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا” یہ بتائیے کہ کچھ کامیابی بھی ملی۔؟“ ہم نے جواب دیا کہ ” امید پہ دنیا قائم ہے، لاک ڈاون کے بعد ہی پتہ چلے گا۔“
جب ہر داڑھی، ٹوپی والا کرونا کا چلتا پھرتا جرثومہ نظر آنے لگا
تبلیغی اجتماع کے سانحہ کے بعد جب ہمارے اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا نے تبلیغی جماعت کے پردے میں کرونا وائرس پھیلانے کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑنا شروع کیا اور ہر داڑھی، ٹوپی والا کرونا کا چلتا پھرتا جرثومہ نظر آنے لگا تو ہمارے ایک پرانے دفتری ساتھی نے فون پر بات کرتے ہوئے بے تکلفی سے کہا: ” لیجیے عظیم صاحب، اب کرونا بھی مسلمان ہو گیا۔ “ ہم نے ہنستے ہوئے اسی انداز میں جواب دیاکہ ” اخبارات اور ٹیلی ویژن والوں نے کرونا کو مسلمان بنانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن اس کی ختنہ کون کرائے گا، یہ چھوٹا سا کام بھی کروا دیجیے۔“
یہ سن کر گلے باز شاعر نے کہا
دری ، چاندنی، شفاف گاو تکیوں، کرسیوں اور پبلک ایڈریس سسٹم کی طرح مشاعروں کے لیے لازم و ملزوم گلے باز شاعروں کے ایک مداح نے لاک ڈاون کے ابتدائی مرحلے میں ایک ایسے ہی گلے باز شاعر کو فون کیا۔ رسمی خیر و عافیت کے بعد مداح نے بڑی عقیدت سے کہا کہ ” محترم ، آج کل تو آپ کو فرصت کے خداداد لمحے میسرہیں، خوب شاعری ہو رہی ہوگی ۔“ یہ سن کر گلے باز شاعر نے کہا کہ میاں اس لاک ڈاون نے تو فکر کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں ۔ خوبصورت چہرے میری بڑی کمزوری ہیں۔ خوبصورت چہرے اور دل کش خط و خال دیکھ کر ہی مجھے شعر کہنے کی تحریک ملتی ہے اور آپ جیسے سخن فہموں کے دل میں اُترنے والے شعر کہتا ہوں۔ جب سے یہ لاک ڈاون عذابِ الٰہی کی نازل ہوا ہے یقین مانیے گھر میں بند ہوں اور ایک بھی خوبصورت چہرہ نظر نہیں آیا، جس کو دیکھ کر شعر کہنے کی تحریک ملتی۔ ایسا لگتا ہے کہ شعر کہنے کا سوتہ خشک ہو گیا ہے، یقین مانیے اس عرصہ میں ایک بھی شعر نہیں کہہ پایا۔“
فطین ذہنوں نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا
پتہ نہیں مداح نے موصوف کو کس طرح تسلی دی، لیکن چند ہی دنوں میںمشاعروں کے مقبول شاعر کاوہ جواب شہر کے ادبی حلقوں میں تفریح کا سبب بن گیا۔ ہر شاعر دوستوںکو فون کر کے رسمی سلام و دعا کے بعد دو تین تازہ شعر سنانے لگا۔ کچھ شاعروں نے فیس بک اور واٹس اپ وغیرہ پر اپنی تصویر کے ساتھ ہندی اور اُردو رسم الخط میں غزلیں بھی پوسٹ کرنی شروع کر دیں تاکہ سند رہے، لیکن کچھ ٹھٹھول باز ادب نوازوں نے موصوف کو خوبصورت چہرے نظر نہ آنے پر باقاعدہ پرسہ بھی دینا شروع کر دیا۔ فطین ذہنوں نے اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ کسی نے موصوف کو تپانے اور تفریح لینے کے لیے ان کے گھر ایک خط بھیج دیا جس میں لکھاتھا کہ ” محترم ! لاک ڈاون کی بندشوں میں خوبصورت چہرے اور دل کش خط و خال نظر نہ آنے کی وجہ سے آپ کی شاعری متاثر ہوئی ہے اور آپ اس عرصے میں ایک بھی شعر نہ کہہ سکے، یہ اردو شاعری کا نقصان ہے، جس کی تلافی شاید ہی ہو سکے، لیکن آپ کے ایک ہم محلہ شاعر نے لاک ڈاون کے دوران آپ کے حرم کی صرف ایک جھلک دیکھ کر ہی مثنوی محرومِ عشق کہہ ڈالی، اسی کو کہتے ہیں چراغ تلے اندھیرا۔“ اس خط کو پا کر موصوف پر کیا گزری اس کا تو پتہ نہیں ، لیکن جب ہر دوسرے تیسرے دن اس مضمون کے پرچے ان کے گھر کے دروازے پر چسپاں نظر آنے لگے تو موصوف آپا کھو بیٹھے۔ فجر کی نماز پڑھتے ہی تاک میں بیٹھ جاتے تاکہ خط چسپاں کرنے والے کو پکڑ کر سبق سکھا سکیں، لیکن اس کے باوجود کوئی نہ کوئی منچلا ہاتھ کی صفائی دکھا ہی جاتا۔ موصوف نے حفظِ ما تقدم کے طورپر ٹیلی فون اٹینڈ کرنا ہی بند کر دیا۔ اگر غلطی سے ٹیلی فون کا چونگا اٹھا لیتے تو دوسرے ہی لمحے یہ کہہ کر فون ڈسکنیکٹ کر دیتے کہ ” اے خبیث! تو چاہتا کیا ہے؟“ لاک ڈاون کی بندشوں میںجب سرکار نے چھوٹ دی تو ایک دن موصوف اپنی بیگم کے ہمراہ خریداری کے لیے گھر سے نکلے۔ ایک دکان پر کچھ سامان دیکھ رہے تھے کہ کسی منچلے نے زور سے آواز لگائی ” میاں کوئی چہرہ نظر آیا۔“ موصوف بل کھا کر گھر واپس آگئے۔لیکن سنا ہے کہ موصوف لاک ڈاون کے خاتمے کے بعد ” مثنوی محرومِ عشق“ کہنے والے گمنام شاعر کے خلاف Adultery کا مقدمہ دائر کرنے کے لیے وکیلوں سے مشورہ کر رہے ہیں۔
فلاحی تنظیموں کی طرف سے فری تقسیم کیے جانے والے راشن کی لائن میں
لاک ڈاون کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہو جانے اور روزی روٹی کو محتاج ہو جانے والے اسکوٹر ڈرائیوروں اور سڑکوں پر ٹھیہ لگا کر سامان بیچ کر روزانہ روٹی کمانے والوں کی دست گیری کرتے ہوئے جب سرکار نے مالی مدد دینے کا اعلان کیا تو ہمارے شہر کی ایک ادبی تنظیم نے بھی گُہار لگائی اور متعلقہ حکام کو ایک درخواست گزاری کہ سوشل ڈسٹینسنگ اور لاک ڈاو
¿ن کی وجہ سے مشاعرے منعقد ہونے بند ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے صرف شاعری کرنے اور مشاعروں کے ذریعے روزی روٹی کمانے والے بہت سے شاعر اورشاعرات بے روزگار ہو گئے ہیں اور پریشان حال ہیں چونکہ معزز طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، سرکار اور فلاحی تنظیموں کی طرف سے فری تقسیم کیے جانے والے راشن کی لائن میں نہیں لگ سکتے ، اس لیے ان معززین پر بھی توجہ کی جائے اور ان کی مالی مدد کی جائے۔“سرکاری دفتروں میں عام طورپر درخوستیں اِدھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہیں اور مہینوںکوئی کارروائی نہیں ہوتی، لیکن یہاں حالات دوسرے تھے اور حکمراں سیاستداں اپنے سیاسی مستقبل کے لیے درخواست دہندگان کی فوری مدد کرنے اور سرخ رو ہونے کے لیے اُدھار کھائے ہوئے بیٹھے تھے، چنانچہ چند ہی دنوںکے بعد متعلقہ محکمے سے جواب موصول ہوا کہ ” اس اسکیم کے تحت صرف ڈیلی ویجرز(Daily wager)کی ہی مدد کی جا سکتی ہے۔ کیا یہ شاعر اور شاعرات ڈیلی ویجرز کی پری بھاشا پر پورے اترتے ہیں؟ یدی ہاں تو کرپیہ ان کے کاریہ چھیتر(Nature of work)کا وِورن دینے کا کشٹھ کریں اوریہ بھی بتائیں کہ یہ مشاعرے کہاں چلایا کرتے تھے اور اس کاریہ میں کب سے ویستھ تھے۔؟“
پہلے آپ کا میڈیکل چیک اپ کرایا لیں
طنز و مزاح کے ایک شاعر نے سوشل ڈسٹینسنگ اور لاک ڈاو
¿ن کو موضوع بنا کر آٹھ دس قطعے اور ایک دو نظمیں لکھیں۔ لاک ڈاون کے دنوں میں دوستوں کو فون پر سنائیں اور فیس بک پر پوسٹ کیں۔فیس بک پر پوسٹ کی جانے والی شاعری پر عام طورپر داد و تحسین کے ڈونگرے برسنے لگتے ہیں۔ چنانچہ لوگوں نے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے تو ہمارے دوست شاعر کی ہمت بڑھی اور ایک دن کرونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں اور کرونا کے مریضوں کو قطعے اور نظمیں سنا کر داد و ستائش حاصل کرنے کے شوق میںایک ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر کے پاس پہنچے اور حرفِ مدعا بیان کیا۔ چیف میڈیکل آفیسر نے حرفِ مدعا سن کرکہا کہ” ہاسیہ رس کی کویتائیں سن کر ہمارے لوگ اور کرونا کے مریض یقینا خوش ہوںگے اور یہاں کی اکتا دینے والی فضا بدلے گی، لیکن پہلے آپ کا میڈیکل چیک اپ کرایا لیں ، یہ بہت ضروری ہے، کیونکہ ہم یہاںکسی بھی قسم کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ “یہ کہہ کر چیف میڈیکل آفیسر نے ہمارے دوست شاعر کو چیک اپ کے لیے کسی دوسرے ڈاکٹر کے سپرد کر دیا۔ موصوف نے ہنسی خوشی چیک اپ کرایا، لیکن ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد جب رپورٹ آئی تو وہ ششدر رہ گئے۔ چیف میڈیکل آفیسر نے یہ کہہ کر ان کو بری طرح ہولا دیا کہ ” ارے کوی صاحب آپ تو خود کرونا سے متاثر ہیں۔ آپ کا یوں اِدھر اُدھر گھومنا خطرناک ہے۔اس لیے آپ کا Quarantineہونا بہت ضروری ہے۔ اب آپ یہاں سے گھر نہیں بلکہ چودہ دن کے لیے آئیسو لیشن کیمپ میں جائیںگے۔ مجھے امید ہے کہ آپ وہاںاور بھی اچھی کویتائیں لکھیںگے۔“
ادبی سمیناروں میں بوجھل اور بے کیف مقالے سننے کی سزا
گزشتہ دنوں جب ہم نے آن لائن اور ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعے منعقد کیے جانے والے کل ہند ادبی سیمناروں اور ان سمیناروں میں پڑھے جانے والے مقالوں کی تفصیلی خبریں پڑھیں تو چونکے اور سوشل ڈسٹینسنگ میں یوں سیند لگانے والوں کی ذہانت پر عش عش کر اٹھے کہ لاک ڈاون اور سوشل ڈسٹینسنگ کی پابندیوں کا کیا توڑ نکالا ہے، لیکن یہ احساس شدت کے ساتھ ہوا کہ اگر آن لائن اور ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعے ادبی سیمنار منعقد کرنے کا سلسلہ کچھ پہلے شروع ہو جاتا تو شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے اور چھوٹی بڑی ادبی تقریبوں میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرکے ہر چیز کو یک سوئی سے سننے والے ہم جیسے نہ جانے کتنے ادب نوازوں کو ادبی سمیناروں میں بوجھل اور بے کیف مقالے سننے کی سزا نہ بھگتنی پڑتی اور سمینار کے منتظمین کو بھی دوپہر اور شام کے اجلاس کے بعد سامعین کی ضیافت کے لیے بریانی قورمہ یا پر تکلف چائے کے اخراجات سے بھی زیربار نہ ہونا پڑتا۔
مانگے کا اجالا لے کر شاعری کا کیوسک چلانے والی متشاعرات
لاک ڈاون تو جلد یا بہ دیر ختم ہو ہی جائے گا لیکن اگر سوشل ڈسٹینسنگ کا چلن عوام میں راہ پا گیا اور عام لوگوںنے جان ہے تو جہان ہے کے مصداق مشاعروں اور سیمناروںمیں جانا بند کر دیا تو اس کا براہِ راست اردو کو فائدہ پہنچے گا اور اردو کی نام نہاد ترقی اور فروغ کے نام پر چھوٹے بڑے شہروں میں آئے دن منعقد کیے جانے والے ان غیر معیاری مشاعروں کا سلسلہ یقیناً ٹوٹ جائے گا جو آج ادبی نوٹنکی کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور متشاعرات کی گائیکی اور ناز و ادا کی وجہ سے سنے نہیںبلکہ دیکھے جاتے ہیں۔ ان مشاعروں کے مقبول شعراءاردو زبان و تہذیب سے نا آشنا سامعین سے داد وصول کرنے کے لیے مشاعروں کی ثقہ روایتوں کی دھجیاں اڑاتے ہیں ہمیں یہ کہنے میںکوئی تردد نہیں کہ آج کے مشاعروںکی کامیابی کے ضامن سمجھے جانے والے شاعروں اور مانگے کا اجالا لے کر شاعری کا کیوسک چلانے والی متشاعرات نے تحت اور ترنم میں متفرق مطلعے اور دو دو تین تین مختلف اشعار سنا کر جو رواج ڈالا ہے اور جو ادبی وائرس پھیلایا ہے وہ کسی بھی زبان کی شاعری کے لیے کرونا وائرس سے کم نہیں۔ یہ اسی وائرس کا نتیجہ ہے کہ اب مشاعروں میں سامعین کسی بھی خوش گلو شاعر اور خاص طورپر شاعرہ کے اشعار پر بے ساختہ تالیاںبجا کر یا ہوا میںکوٹ لہرا کر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ اگر سوشل ڈسٹنسنگ کی وجہ سے آئے دن منعقد کیے جانے والے مشاعروں کا سلسلہ ٹوٹا تو اسے اردو شعر و ادب کے
لیےBlessings in Disguiseہی کہا جائے گا۔
M: 9810439067

0 comments