ایک فراموش کردہ مجاہدِ آزادی و عالم دین اور اُردو کا خاموش خادم مولوی سمیع اللہ قاسمی
عظیم اختر
حرف نیم کش
اگرچہ اسے خیال پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے لیکن ہم بڑے یقین و وثوق سے کہہ سکتے ہیں اگر انجمن ترقی اردو کے جنرل سکریٹری اور مشہور محقق و انشاء پرداز خلیق انجم مرحوم اپنے جیسے کھرے کے کھرے دہلی والے یا میر امّن دہلوی کی زبان میں دہلی کے روہڑے اور پرانی دہلی بالخصوص جامع مسجد کے قرب و جوار کے ادب نوازوں اور تفریح پسندوں کے چہیتے شاعر استاد رساؔ دہلوی کی دلچسپ شخصیت کا خاکہ لکھتے ہوئے اس دور کے اردو بازار کے مکتبہ عزیزیہ کے مالک مولوی سمیع اللہ قاسمی اور ان کے مکتبے کے باہر بچھی ہوئی لوہے کی لمبی سی بینچ اور اس بینچ پر روزانہ شام کو عصر سے عشاء کے درمیان دہلی کے شاعروں کی آمد و رفت اور گھنٹوں لمبی نشستوں کا خالص دہلی والوں کی زبان میں تذکرہ نہ کرتے تو یقین مانیے ۰۵۹۱ء کے بعد کی دہلی کے بیس پچیس سالہ شعری و ادبی سرگرمیاں، استاد رساؔ دہلوی مرحوم کی اپنے ہم عصروں کے ساتھ چشمکوں، ہنگامہ آرائیوں اور مولوی سمیع اللہ قاسمی مرحوم کی غیر معمولی ادب نوازی، شعراء پروری اور ان کی تاریخی بینچ وقت کے دھندلکوں میں گم ہو جاتی۔
استاد رساؔ دہلوی تو اپنی شعر گوئی اور ہنگامہ آرائیوں کی وجہ سے دہلی کی اس دور کی ادبی تاریخ میں یاد رکھے ہی جائیں گے لیکن صرف دینی اور مذہبی کتابیں بیچنے والے مولوی سمیع اللہ قاسمی کو اردو بازار دوسرے عام کتب فروشوں کی طرح یکسر فراموش کر دیا جاتا اور اس حقیقت پر پردہ ہی پڑا رہ جاتا کہ اس دور کے اردو بازار میں مولوی سمیع اللہ قاسمی مرحوم کا کتب خانہ اعزازیہ ہی ایک ایسا ادبی مرکز تھا جہاں اس دور کی شعری و ادبی سرگرمیاں خاموشی سے جنم لیتی تھیں۔مولوی سمیع اللہ قاسمی مرحوم کے لباس، وضع قطع اور رہن سہن میں شہریت کم اور قصباتیت زیادہ تھی۔ دار العلوم دیوبند میں دینی تعلیم پانے، دیوبندی مکتبہئ فکر سے تعلق رکھنے اور کھدّر کو لباس کا جزو بنانے کی وجہ سے وہ کٹر کانگریسی تھے۔ آزادی کے بعد اگرچہ کانگریسی حکمرانوں کی مسلم آزار پالیسیوں نے انھیں کانگریس سے بڑی حد تک بد ظن کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ دیوبندی مکتبہئ فکر کے دوسرے اکابرین کی طرح زندگی بھر کانگریسی ہی رہے۔ یہ ایک المیہ سے کم نہیں کہ کانگریس اپنے دورِ اقتدار میں قدم قدم پر مسلمانوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کے باوجود اس مکتبہئ فکر کے ذمہ داروں کی کمزوری بنی رہی اور آج بھی اس کمزوری نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔مولوی سمیع اللہ مرحوم سادہ لوح ہونے کے ساتھ بڑے جوشیلے، نڈر اور بے باک شخصیت کے مالک تھے۔ جس بات پر حق سمجھ کر جم جاتے، اس جگہ سے انھیں کوئی ہلا نہیں سکتا تھا۔مصر میں جب اخوان المسلمین کے اکابر کو پھانسی دی گئی تو دہلی میں اس کے خلاف شدید آواز بلند کی، کھل کر احتجاج کیا، اخوان المسلمین کے ذمہ داروں کو پھانسی کے خلاف یہ احتجاج اس وقت کی حکومت کی پالیسی کے خلاف تھا، چنانچہ آوازِ حق بلند کرنے کی پاداش میں ان کی ہی حکمراں پارٹی نے ان کو گرفتار کر لیا اور مولوی صاحب کو اپنوں ہی کے ہاتھوں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں۔ لیکن وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔
مولوی سمیع اللہ قاسمی اس زمانے کی جمعیۃ علمائے ہند جیسی تنظیم سے وابستہ تھے اور کتابوں کا کارو بار کرتے تھے۔ان کا مکتبہ عزیزیہ آج بھی دینی اور مذہبی کتابوں کے لیے مشہور ہے۔ لیکن ان کی دکان پر دینی و مذہبی کتابوں کے خریداروں سے زیادہ اردو کے شعراء کرام ہی آیا کرتے تھے اور ہمہ وقت ایک جمگھٹا لگا رہا کرتا تھا،یہ ان کی روایت تھی۔ سنا ہے کہ تقسیمِ وطن سے پہلے بھی مولوی صاحب کی دکان صرف شاعروں کی ہی آماجگاہ نہیں تھی بلکہ دہلی اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں کے مجاہدینِ آزادی بھی اکثر ان کی دکان کا رخ کیا کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے مکتبے کو کاسمو پولیٹن کلب کہا جانے لگا تھا۔ کسی زمانے میں کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامہ فاران جیسے مشہور ادبی جریدہ کے ایڈیٹر اور غیر منقسم ہندوستان کے مشاعروں کے مشہور شاعر مولانا ماہر القادری نے تقسیمِ وطن سے قبل مولوی سمیع اللہ قاسمی مرحوم سے اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”مولوی سمیع اللہ قاسمی کی دکان کیا تھی اچھا خاصا کاسمو پولیٹن کلب تھا، جہاں باہر سے شعراء آتے تو اپنا سامان کتب خانہ عزیزیہ میں چھوڑ جاتے، بعض اوقات کئی کئی شاعروں کے بستر اور ٹرنک ان کی دکان اور مہمان خانے میں دیکھے گئے، ایسا بھی ہوتا کہ شاعروں، ادیبوں اور مولویوں کی پوری ٹیم کو چائے پلائی، چائے کے ساتھ بسکٹ وغیرہ کے لوازمات بھی اور پھر کسی ایک مہمان سے ارشاد فرمایا کہ:”یہ پارٹی آپ کی طرف سے تھی، ہوٹل کا ملازم لڑکا وہ آرہا ہے، آپ چائے بسکٹ کے دام اسے دے دیجیے۔“ان کی دکان پر گاہکوں سے زیادہ ملنے والے آتے تھے، ان آنے والوں میں ہر درجہ کے لوگ شامل تھے۔حضرت جگرؔ مراد آبادی جیسے مشہور و مقبول شاعر بھی اور دہلی کے کسی کوچے کا اُردو والا گمنام شخص بھی، آصف علی اور سبھاش چندر بوس جیسے اکابر و مشاہیر کو بھی کتب خانہ عزیزیہ میں بیٹھا ہوا دیکھا گیا۔ ان کے جاننے والوں اور دوست احباب کی کوئی شمار نہ تھی، سب کی دلدہی کرتے اور ہر کسی سے محبت و تواضع سے پیش آتے تھے۔
“تقسیمِ وطن کی کوکھ سے جنمی ہجرتوں اور اتھل پتھل نے دلّی کی عام سیاسی، سماجی، تہذیبی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کیا اور وضعداریوں، روایتوں اور قدروں کے پیمانے بدل گئے۔ نئے سماج میں زندہ رہنے اور وقت کے ساتھ چلنے کے تقاضے یکسر مختلف تھے لیکن یہ مولوی سمیع اللہ قاسمی کی شخصیت کا اعجاز تھا کہ ناگفتہ بہ حالات میں بھی انھوں نے اپنی روایتوں اور وضعداریوں کو بکھرنے اور تڑخنے نہیں دیا اورجب حالات سدھرے، زندگی نارمل ہوئی تو کتب خانہ عزیزیہ کے پہلو میں بچھی ہوئی وہ لمبی سی بینچ ایک بار پھر اردو کے شاعروں سے آباد نظر آنے لگی جن میں ہجرت زدہ غیر مسلم شاعروں کے چہرے بھی کثرت سے نظر آتے جو اپنے دکھوں کے درماں کے لیے اکثر شام کے وقت ان کی دکان کا رخ کرتے۔ مولوی صاحب ایک مونس و غم خوار کے طورپر ان سے محبت سے پیش آتے اور ہر ممکن دل دہی کر کے وہ فریضہ ادا کرتے جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے لیکن جس کا چلن آج ہم مسلمانوں میں معدوم ہوتا جا رہا ہے۔مولوی سمیع اللہ قاسمی مرحوم مجاہدِآزادی اور اس زمانے کی جمعیۃ علمائے ہند کے اہم رہنماؤں میں سے تھے۔ وہ گرچہ بذات خود شاعر و ادیب نہیں تھے لیکن ادب نوازی اور ادب پروری ان کے خمیر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مولانائے مرحوم کی اسی ادب پروری اور شاعر نوازی کا نتیجہ تھا کہ شام ہوتے ہی کتب خانہ کے باہر پڑی ہوئی بنچ شاعروں اور ادیبوں سے آباد ہونی شروع ہو جاتی تھی۔ اس زمانے میں دہلی یا کسی دوسرے شہر سے آنے والا شاید ہی کوئی ایسا بڑا، معتبر و مستند شاعر ہو جس نے پرانی دہلی کی شعری و ادبی سرگرمیوں کے اس مرکز پر حاضری نہ دی ہو۔ ترقی پسند ادیب و شاعر اور دانشگاہوں میں اردو زبان و ادب کے پروفیسر و نقاد حضرات جو خیر سے شعر گوئی کا بھرم بھی نبھاہتے ہیں عام طورپر ایسی جگہوں پر جانا نہ صرف Below Dignity بلکہ اپنے منصب کے خلاف سمجھتے ہیں، لیکن ہم نے اس زمانے میں جگرؔ مرادآبادی، روشؔ صدیقی، جگناتھ آزادؔ، گوپال متل، بسملؔ سعیدی، سلام ؔمچھلی شہری وغیرہ جیسے بڑے شاعروں کو اکثر کتب خانہ عزیزیہ کی بینچ پر بے تکلفی سے بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔
جگرؔ مرادآبادی جب کبھی دہلی تشریف لاتے اور چھتہ شیخ منگلو میں قیام پذیر ہوتے تو اکثر شام کو اپنے دوستوں اور نیاز مندوں کے ہمراہ ادھر کا رخ کرتے۔ جگرؔ صاحب کی آمد کی وجہ سے کتب خانہ کے باہر مجمع اکٹھا ہو جاتا۔ شعر و ادب کے شوقین جگرؔ صاحب کی صرف جھلک دیکھ کر اور وفورِ شوق میں ہاتھ ملا کر ہی خوش ہو جاتے تھے۔مولانا مرحوم نہایت متواضع تھے لیکن روزانہ شام کو درجنوں شاعروں کو چائے پلانے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس لیے جب کوئی قدرے آسودہ حال شاعر یا ادیب پہنچتا تو مولانا بڑی بے تکلفی سے ہاف سیٹ چائے کے پیسوں کا مطالبہ کرتے،ہاف سیٹ چائے آتی تو مولانا بڑے اہتمام سے حاضرین کے لیے خود چائے تیار کرتے اور تھوڑی تھوڑی چائے سب کو پلاتے تھے۔ یہ سلسلہ رات کے نو دس بجے تک چلتا، اس درمیان اگر کسی شاعر و ادیب کو چائے پینے کی خواہش ستاتی تووہ خاموشی سے اٹھ کر کسی ٹی اسٹال کا رخ کرتا اور چائے کے بعد شریف بینچ ہو جاتا۔ دہلی کا ہر چھوٹا بڑا شاعر مولانا سمیع اللہ قاسمی مرحوم کے لیے برابر تھا۔ اس لیے دہلی کے شاعروں اور ادیبوں کو صرف بینچ تک ہی رسائی حاصل تھی لیکن اگر کوئی شاعر یا ادیب مہمان ہوتا تو مرحوم دکان کے اندر بڑے اہتمام سے اپنی گدی کے قریب بٹھاتے اور مہمان نوازی کا بھرپور ثبوت دیتے۔ سمیع اللہ قاسمی صاحب کے انتقال کے بعد کتب خانہ عزیزیہ کی بینچ پر شاعروں کی پذیرائی کرنے والا کوئی نہیں رہا اور اردو بازار کی یہ تاریخی اور ادبی بینچ بے التفاتی اور بے نیازی کا شکار ہو گئی، لیکن اس زمانے کی دلی کی ادبی تاریخ لکھتے ہوئے مولوی سمیع اللہ قسمی مرحوم اور ان کی بینچ کو شاید کوئی مؤرخ نظر انداز کرنہ سکے۔
موبائل:09810439067

0 comments