عشق والی شادی کے خلاف یہ قانون ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وردان ثابت ہوگا
حرف نیم کش
عظیم اختر
عددی اکثریت کے بل بوتے پر اورطاقت کے گھمنڈ میں اگر کسی ملک کے حکمران روز مرہ کی زندگی کے سلگتے ہوئے مسائل، دگرگوں ہوتی ہوئی اقتصادیات و معاشیات کو حاشیے پر رکھ کرفروعات اور مفروضات کے جھنجھنے زور و شور سے بجانے لگیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو آج کل ہمارے ملک میں ہو رہا ہے اور اتر پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش، آسام اور کرناٹک وغیرہ جیسی ہندوتو کی علمبردار ریاستوں میں دستورِ ہند کے ضابطوں اور ملک کے قوانین کے تقاضوں کو دیکھا اندیکھا کرتے ہوئے ہورہا ہے اور لو جہاد جیسے لایعنی اور خود ساختہ مفروضے کو الفاظ چباتے ہوئے ملک کی سا لمیت اور استحکام کے لیے اس صدی کا سب سے بڑا خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس خطرہ کے تدارک کے لیے زعفرانی چادر میں لپٹی ہوئی ملک کی ان مخصوص ریاستوں کے اعلیٰ دماغ غیر قانونی تبدیلیِ مذہب اور بین المذہب شادی قانون کی آڑ میں لفظوں کا کھیل کھیلتے ہوئے بھارتیہ سماج کے صرف اس مخصوص افراد کو سخت سے سخت سزا دلانے کے لیے قانون وضع کر رہے ہیں جن کے لیے بھرتیہ جنتا پارٹی کے تھِنک ٹینک اور اربابِ اقتدار کے تلوے چاٹنے والے زرد صحافت کے علمبردار ٹی وی چینلوں نے اس طبقے کو اکثریت کی نگاہوں میں ڈی گریڈ کرنے کے لیے لو جہاد اور جہادی کی بے معنی اور لچر اصطلاحیں وضع کر کے ان کا اتنی شد و مد سے پرچار کیا ہے کہ گویا ہندوستانی مسلمان من حیث القوم جہادی ہیں اور اس کے نوجوان ملک کی ہمہ جہت ترقی میں برابر کے شریک ہونے کی بجائے صرف غیر مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے اور ان کا مذہب تبدیل کرانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جس کا تدارک چینی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور نکسلیوں کی ملک دشمن سرگرمیو ں پر قدغن لگانے سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرِ اقتدار ریاستی حکومتوں اور ان کے مکھیہ منتریوں میں صرف اتر پردیش اور اس کے مکھیہ منتری یوگی جی اپنی ریاست کے جہادیوں کو سبق سکھانے کے لیے پہل کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے چنانچہ انھوں نے ایک ایسی ہی بین مذہب شادی پر چند دن پہلے دیے گئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور دستورِ ہند کے بنیادی ضابطوں کو سرے سے نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی تبدیلی مذہب سے متعلق اپنے یہاں ایک قانون بھی نافذ کر دیا تاکہ بین مذہب یا بالفاظ دیگر غیر مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والے جہادیوں کے ٹخنے ڈھیلے کر دیے جائیں۔ اخباری خبروں کے مطابق یوگی جی کے اس قانون میں شناخت چھپا کر یا جبراً اور بہلا پھسلا کر بین مذہب شادی کرنا نہ صرف غیر قانونی ہوگا بلکہ اس میں ملوث افراد کو بھی سخت سزا بھگتنی پڑے گی۔ آئینی اور قانونی نقطہئ نگاہ سے یوگی جی کا یہ شاہکار قانون کہاں تک کھرا اترتا ہے اس کا فیصلہ تو عدالتیں ہی کریں گے لیکن شناخت چھپا کر یا ڈرا دھمکا کر اور بہلا پھسلا کر اور جبراً بین مذہب شادی کرنے کا الزام نہ صرف حیرت انگیز ہے بلکہ بین مذہب شادی کر کے بعد میں پچھتانے والی لڑکی کو لڑکے اور اس کے لواحقین کے خلاف انتقامی کارروائی کرنے اور قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کرنے کے لیے ایک اہم اور مؤثر ہتھیار تھما دینے کے مترادف ہے کیونکہ اس قسم کی شادیوں میں صرف جذبات کا دخل ہوتا ہے اور ڈرا دھمکا کر جبراً شادی کرانا ممکن ہی نہیں۔ اسی طرح وقتی تفریح کے لیے تو کسی حد تک شناخت چھپائی جا سکتی ہے، لیکن ایک شہر میں رہتے ہوئے اور روزانہ ملنے جلنے کے لیے ریسٹورینٹوں کا رخ کرنے والا کوئی بھی پریمی یا پریمی جوڑا ایک دوسرے سے اپنی مذہبی اور سماجی شناخت زیادہ دنوں تک چھپا نہیں سکتا۔
ایک دوسرے کو اپنانے اور شادی کی منزل چھونے تک عام طورپر پریمی جوڑے ایک دوسرے کے خاندن کی نس نس سے واقف ہوجاتے ہیں اس لیے شناخت چھپا کر بین مذہب شادی کا التزام یوگی جی کے اس قانون کا سب سے زیادہ مضحکہ خیز پہلو ہے جس پر انگلی اٹھانے کی بجائے سیاسی مخالفین اور دانشور حضرات یوگی جی کے اس قانون پر آئینی ضابطوں اور قانونی تقاضوں کے حوالوں سے لب کشائی کر رہے ہیں اور اکیڈمک بحث و مباحثے کا بازار گرم ہو گیا ہے۔ دوسری طرف مسلم اکابرینِ ملت و سیاست اور اردو کے چھوٹے بڑے اخبارات بھگوا بریگیڈ کے اس قدم کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا ایک نیا ہتھیار قرار دے کر دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں، جب کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آستھا کے چراغ جلا کر اور مذہبی جذبات کو ہوا دے کر اقتدار کے گلیاروں تک پہنچنے والوں سے وسیع النظری اور کشادہ قلبی کی وقع رکھنا فضول ہے۔ اس میں کوئی تک نہیں کہ اس قسم کی قانون سازی کا اصل محرک نام نہاد لو جہاد پر کسی نہ کسی طور قدغن لگانا اور لو میرج کے نام پر ہندو لڑکیوں سے شادی کرنے والوں بالخصوص مسلمان لڑکوں کا قافیہ تنگ کرنا ہے تاکہ ہندو مت کے نام لیواؤں کے گھروں پر اسلام اور اس کی تہذیب و ثقافت کی پرچھائیاں نہ پڑ سکیں اور ان کی مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی قدریں محفوظ رہیں کیونکہ اس قسم کی شادیوں سے خاندانوں کی مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی قدریں وغیرہ بُری طرح متاثر ہوتی ہیں یا پھر مذہب اور اس کی قدروں سے فرار حاصل کرنا ایک ایسا شعار بن جاتا ہے، جن کی پرچھائیاں اب عام زندگی میں کثرت سے تیرتی ہوئی نظر آنے لگی ہیں، اب پتہ نہیں بھگوا بریگیڈ کی یہ حصار بندی اکثریتی طبقے میں کتنی کارگر ثابت ہوتی ہے،
لیکن ہمیں یقین ہے کہ دانشوروں اور مفکروں کی نظروں میں عام ہندوستانی شہری کو اس کے آئینی اور قانونی حق سے محروم کر دینے والا یہ قدم ہندوستانی مسلمانوں کے لیےBlessing in disguise ہوگا اور اس کے بھارتیہ مسلمانوں کی عام سماجی زندگی پر صحتمندانہ خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور برسرِ روزگار مسلمان لڑکوں میں ہندو لڑکیوں سے شادی کرنے کا فیشن بڑی خاموشی سے در آیا ہے۔ خالص مذہبی ماحول میں پرورش پانے والے مسلمان لڑکے احکامِ خداوندی کو پسِ پشت ڈالنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے یا دکھاوے کے لیے اسلام قبول کرنے اور کلمہ پڑھنے کی ایک رسم ادا کرادی جاتی ہے۔ عام طورپر بے باک اور آزاد مزاج ہندو لڑکیاں زندگی کے بہتر پائیدان پر کھڑے ہوئے مسلمان لڑکوں کو آسانی سے اپنے عشق کے جال میں پھنسا لیتی ہیں اور قدامت پسندی کے روایتی ماحول میں پلے بڑھے مسلم نوجوان اس تعلق کی شدت سے نہ صرف پگھل جاتے ہیں بلکہ اپنے ماں باپ کی تمام تر امیدوں پر پانی پھیر کر قومی دھارے کا حصہ بنجاتے ہیں۔
اس طرح مسلمان لڑکوں سے پریم وِواہ کر کے یا برائے نام اسلام قبول کر کے ہندو لڑکیاں اپنے والدین کو کنیا دان کے غیر معمولی بوجھ اور کمر توڑ دینے والے اخراجات سے یقینامکتی دلا دیتی ہیں، لیکن یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ مسلمانوں کی لڑکیاں گھر ہی بیٹھی رہ جاتیہیں اور ان کے والدین بہتر رشتوں کی آس لگائے رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بھگوا بریگیڈ اور اس کے حوالی موالی جو مسلمانوں کی مذہبی، لسانی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی قدروں کو دھیرے دھیرے مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔
نام نہاد لو جہاد پر قد غن لگانے کے جوش میں وہ قانون بنا رہے ہیں جو بالآخر مسلمانوں کے لیے ہی وردا ن ثانت ہوگا اور آنے والے کل میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عملی زندگی میں اچھے پائیدان پر کھڑے ہوئے مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کے عشق میں پھنس کر بے راہ رو ہونے اور اپنی خانگی زندگی میں اپنے مذہب کی نرم آگیں حرارت اور بھینی بھینی خوشبو سے محروم رہنے کی بجائے اسلامی اقدار اور شرعی احکامات سے مزین وہی زندگی گزاریں گے جس کی پرچھائیوں میں پل بڑھ کر وہ زندگی کی اعلیٰ منزلوں تک پہنچے ہیں تاکہ مذہب سے لا تعلقی کا وہ عنصر جو آج غیر مسلم لڑکیوں کی وجہ سے ایک بڑی حد تک مسلم سماج میں در آیا ہے اور نام نہاد ترقی، وسیع النظری اور وسیع المشربی کے نام پر پنپ رہا ہے، جس کے مضر اثرات مسلمانوں کی نئی نسل میں نمایاں طور پر نظر آنے لگے ہیں، اس کا یقینا تدارک ہوگا اور مستقبل کی مسلم مائیں اپنے بچوں کو وہی لوریاں اور قصے کہانیاں سنائیں گے جو اسلامی کردار ڈھالنے میں بنیاد کے پتھر کا رول انجام دیتی ہیں۔
M: 9810439067

0 comments