جامعہ ملیہ میں چوبیسویں دن بھی شہریتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج جاری
محمد علم اللہ کی رپورٹ جامعہ کیمپس سے راست
ڈاکٹرمحمد جاوید،پروفیسر گورو ولبھ ، پروفیسر حامد علوی ، پروفیسر منندرا ٹھاکر،داکٹربصیر احمد خان،ایڈوکیٹ بھانو پرتاب سنگھ اور پروفیسر اخلاق اہان سمیت متعدد شخصیتوں کا خطاب، سبھی نے ایک ساتھ ملکر تحریک کو جاری رکھنے کا کیا عزم
اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 100 ویں سال میں داخل ہونے کی مناسبت سے جامعہ کے طلباء نے انوکھے انداز میں جامعہ کی تاریخ سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لیے جامعہ کے اکابرین اور مجاہدین آزادی کے تصاویر آویزاں کئے ، جس میں علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے لیکر جامعہ کے دہلی تک کے سفر کو درشانے کی کوشش کی گئی، اس کا اہتمام جامعہ کو آر ڈینیشن کمیٹی کے ممبران نے کیا تھا ۔ 15 دسمبر 2019 کو احتجاج کے دوران کیمپس میں دہلی پولس کے ذریعے غیر قانونی طور پر داخل ہو کر لائبریری اور مسجد میں توڑ پھوڑ اور جامعہ کے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنانے نیز ان کے اوپر ظلم و بربریت کا جو رویہ اپنا گیا تھا اس کو بھی تصویری شکل میں دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس تصاویر سیکڑوں کی تعداد میں گیٹ نمبر 7 سے ڈاکٹر ذاکر حسین کے مقبرے تک لگائے گئے تھے ۔

آج جامعہ اسکول سمیت آس پاس کے متعدد اسکولوں کے طلباء اور طالبات بھی اس احتجاج میں موجود تھے۔ یہ بچے اپنے چہرے اور پیشانی پر ترنگا کا نشان بنائے ہوئے تھے ۔ جامعہ کی دیواروں اور گیلریوں میں ترنگا لہرا دیا گیا تھا ، تقریبا ایک کیلو میٹر طویل علاقہ میں ترنگا کی یہ سیریز سبھی کو اپنی جانب راغب کرتی ہے جس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے آزادی کے دیوانے کسی نئی صبح کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔
احتجاج میں مقامی لوگوں کی جانب سے چائے ناشتے کا بھرپور انتظام کیا گیا تھا ، آج کے اس احتجاج میں اسٹریٹ لائبریری کے ساتھ ساتھ بھوک ہڑتال بھی جا رہی رہا جس میں پانچ طلباء تقریبا پانچ دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ فائن آرٹ کے طلباء کی جانب سے آرٹ اور کرافٹ کے لئے جگہ مختص تھی جس میں اپنے اپنے انداز میں فن کار آرٹ بنا کر شہریتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے اور پوسٹر بناتے نظر آئے ۔
آج کے اس احتجاج میں ایم پی کشن گنج ڈاکٹر محمد جاوید ، سبکدوش آئی اے ایس انیس انصاری ، پی ایچ ڈی اسکالر حیدر آفاق ، پروفیسر گورو ولبھ ، پروفیسر حامد علوی ، پروفیسر منندرا ٹھاکر ، سماجی کارکن اسد اشرف ،اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر بصیر احمد خان ، ایڈوکیٹ بھانو پرتاب سنگھ اور پروفیسر اخلاق اہان شامل تھے ۔ کانگریس کے ترجمان ، اقتصادی تجزیہ کار گورو ولبھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوگ اپنا مارک شیٹ تو دکھا نہیں پا رہے ہیں اور ہم سے امید ہے کہ ہم 1971 کے کاغذ دکھاییں، حکومت کے ذریعے سی اے اے کی حمایت میں چلائے گئے مسڈ کال مہم پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے انھوں کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب قانون بننے کے بعد کوئی سرکار اسکی حمایت میں ریلیاں کر رہی ہے۔

پی ایچ ڈی اسکالر آفاق حیدر نے کہا کہ حکومت کے پاس ٹیلی ویژن ہے مگر ویژن نہیں اور اسی وجہ سے حکومت اپنے کالے کرتوتوں کو چھپانے کے لئے ٹیلی وژن کا استعمال کر رہی ہے۔ جامعہ کیمپس کے اندر گھس کر دلی پولس کے ذریعے کئے گیے ظلم و تشدد پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹی میں جو توڑ پھوڑ ہوئی ہے،اسکا ہرجانہ کون دیگا۔ کیا اسکی بھرپائی امت شاہ یا دلی پولس کمشنر کرے گی؟
کارواں کے بانی اسد اشرف نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے اوپر مت جائییے۔ یہ لڑائی ہمارے وجود کی لڑائی ہے کیونکہ سرکار ہمیں توڑنا چاہتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت کہی ہے کہ ملک میں کوئی ڈٹینشن کیمپ نہیں ہے جبکہ پورے ملک میں ایک نہیں کیہ ڈٹینشن سینٹر ہونے کے ثبوت موجود ہیں ۔ انہوں نے جامعہ کو آرڈنیشن کمیٹی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی تب تک چلنی چاہیئے جب تک یہ قانون واپس نہیں لے لیا جاتا۔

0 comments