اے قادرِ مطلق تو بڑا کارساز ہے ; ہم مسلمانوں کے علمائے کرام میں اتحاد پیدا کر دے۔

عظیم اختر

 

حرف نیم کش

ائمہ حضرات کی اقتدا میں نمازِ فرض کی ادائیگی کے بعد جب ہم بارگاہِ رب العزت میں دعا مانگنے کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو ہمیں اکثر پچھلے ساٹھ پینسٹھ برسوں کے دوران درجنوں مساجد میں عید و بقرعید اور جمعہ کی نماز کے بعد سیرتِ نبوی، اصلاحِ معاشرہ اور اتحاد بین المسلمین وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر منعقد کیے جانے والے خالص دینی و ملی جلسوں میں امتِ مسلمہ کی خیر و فلاح کے لیے مانگی جانے والی لمبی لمبی اجتماعی دعائیں یاد آنے لگتی ہیں اور ہمارے کانوں میں دعائیں کرانے والے خوش بیان واعظوں اور خطیبوں کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں کہ ” اے اللہ ہم خوش نصیب ہیں اور تیرے شکر گزار ہیں کہ تو نے ہمیں اپنے حبیبِ پاک کی امت میں پیدا کیا جسے تو نے خیر الامت کہہ کر قافلہ انسانیت کی سالاری کا اعزاز بخشا، یا اللہ یہ تیرا ہی کرم ہی ہے کہ اس دنیا میں آنکھ کھولتے ہی ہمارے کانوں میں تیرے پیغامِ وحدت و رسالت کی آواز گونجی، تو نے ہمیں صحت و تندرستی دی اور دنیا کی تمام نعمتوں سے سرفراز فرمایا، صراطِ مستقیم پر چلنے کا حکم فرمایا اور اپنے حبیب کے فرمان پر عمل کرنے کی تلقین کی۔

یا اللہ ہم جب تک تیرے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے رہے، تیرے حبیب پاک کے فرمان کو مشعلِ راہ بنائے رکھا اور ہماری زندگیاں اسلامی ڈھانچے میں ڈھلی رہیں، ہمارے قدم جہاں پڑتے باطل سر نگوں ہو جاتا اور ویرانہ سبزہ زار میں تبدیل ہو جاتا، یا اللہ یہ تیرے حبیب پاک کی امت ہی تھی جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے زمین کا سینہ دہل جاتا تھا، باطل قومیں لرزہ بر اندام رہا کرتی تھیں۔ یا اللہ یہ وہی امت تھی جس کے قدموں میں قیصر و کسریٰ نے اپنے سروں سے تاج اتار کر رکھ دیے تھے اور ظلم و تشدد اور جبر کے پاٹوں میں پھنسی ہوئی انسانیت ان کی پناہ تلاش کرتی تھی۔ اے پرور دگار یہی وہ امت ہے جس نے تیرے احکامات پر چل کر اور ہادیِ برحق کی فرمان کو اوڑھنا بچھونا بنا کر اس دنیا کو انسانی مساوات ، احترامِ انسانیت، محبت و اخوت، عدل و انصاف اور اتحاد و اتفاق کے معنوں سے روشناس کرایا، یاا للہ! کل تک یہ دنیا تیری اس خیر امت کے وزن کو محسوس کرتی تھی، لیکن آج یہ امت تیرے اور تیرے حبیب کے دکھائے ہوئے راستے سے بھٹک چکی ہے۔ فسق و فجور نے اپنے شکنجوں میں جکڑ لیا ہے، گرے ہووں کو اٹھانے والے آج خود گرے ہوئے ہیں، سب کا درد بانٹنے والے خود محتاج ہیں، مظلوموں اور مصیبت زدوں کو تحفظ دینے والے آج خود اغیار کے رحم و کرم پر زندگی گزار رہے ہیں اور تحفظ و حقوق کے مطالبات کا کاسہ لیے ہوئے سیاسی بازی گروں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں اور سیاسی بازی گر پوری امت کو انگلیوں پرنچا رہے ہیں۔

یاا للہ !ہادیِ برحق نے آپس میں اتحاد و اتفاق رکھنے کا بھی حکم دیا تھا، جب تک یہ امت فرمانِ نبی پر چل کر متحد رہی اور اپنی صفوں میں انتشار اور نفاق کو گھسنے نہیں دیا، یہ امت صحیح معنوں میں خیر امت تھی، لیکن آج حسنِ اخلاق، باہمی اتحاد و اتفاق اور اخوت سے محروم ہے۔ اے پروردگار! ہم تیرے گنہ گار اور عاجز بندے ہاتھ پھیلائے ہوئے بھیک مانگ رہے ہیں کہ ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کر دے اور حسنِ اخلاق کا وہ دولتِ گم شدہ عطا کر دے، جس کی روشنی ہمیں سیرتِ نبوی اور صحابہ کرامؓ کے تذکروں میں نظر آتی ہے۔ اے پروردگار! آج ہم ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں، یا اللہ! اپنے حبیب کے صدقے تو ان بکھرے ہوئے دانوں کو ایک مضبوط ڈوری میں پرو دے، ہماری زبوں حالی اور درماندگی کو دور کر دے اور ہمیں اسلامی سانچے میں ڈھال دے ،تا کہ کل بروزِ محشر ہمیں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے، یا اللہ! ہم پر کرم کر دے، اے قادرِ مطلق !تو ہم پر رحم کر دے، ہمیں اپنے فضل و کرم سے نواز دے۔“

            

    گزشتہ ساٹھ پینسٹھ برسوں کے دوران ہم نے رقت آمیز لہجوں میں ایسی جذباتی دعائیں سینکڑوں بار سنی ہیں اور آج بھی اکثر سنتے ہیں، جس کا تمت بالخیر صرف اس پر ہوتا ہے کہ اے اللہ! تو یہ کردے ، تو وہ کر دے اور ہماری صفوں میں ایک بار پھر وہی اتحاد و اتفاق پیدا کر دے ،جس سے دوسری قوموں پر مسلمانوں کا دبدبہ قائم تھا اور ہیبت طاری تھی۔ ان دعاوں کو سن کرہمارے ذہن میں ہمیشہ یہی تاثر قائم ہوا کہ یہود و نصاریٰ نے شب خون مار کر مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق چھین لیا ہے اور اب یہ تہی دست و تہی داماں قوم بارگاہِ ایزدی میں صرف دعائیں مانگنے کے لیے رہ گئی ہے اور منتظر ہے کہ رحمتِ خداوندی کو کب جوش آئے اور معجزاتی طورپر اتحاد و اتفاق کے گلاب کھلنے لگیں۔ ہمارے یہ واعظانِ خوش بیان اور خطیبانِ محترم مسلمانوں میں عدم اتحاد کی دہائی دیتے ہوئے جب بارگاہِ ایزدی میں گڑگڑاتے ہوئے اتحاد و اتفاق کی دعا مانگتے ہیں تو صرف یہی احساس ہوتا ہے کہ گویامسلمان عام زندگی میں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہے اور ایک دوسرے کا بد ترین دشمن ہے۔ اس نفاق نے امتِ مسلمہ کی شان و شوکت اور عظمت کو نگل لیا ہے اور اس زبوں حالی، پستی کی وجہ تفرقہ بازی، باہمی اختلاف، نا اتفاقی اور اتحاد کا فقدان ہے۔

یہ وہ مفروضے ہیں کہ جن کو پیشہ ور واعظانِ کرام اور اکابرینِ سیاست نے اپنے اپنے مفاد کے لیے امتِ مسلمہ کے گلے میں ڈال دیے ہیں ورنہ زمینی سچائی تو یہ ہے کہ روز مرہ کی عام زندگی میں مسلمانوں میں نفاق اور تفرقہ بازی کی پرچھائیاں بھی دور دور تک نظر نہیں آتیں۔ مسلم محلوں اور بستیوں میں رہنے والے عام مسلمان ہر قسم کے تعصب اور تنگ نظری سے بے نیاز مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہوتے ہیں، لیکن مسلکی شدت پسندی کی وجہ سے عدمِ اتحاد اور عدمِ رواداری کا خنّاس درحقیقت صرف اکابرینِ ملت کے دماغوں میں سمایا ہوا ہے جو اتفاق و اتحاد کے وہ بیج کبھی نہیں بو سکتے جس کا اسلام متقاضی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمان بعد میں ہیں پہلے شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، شافعی اور اہلِ حدیث وغیرہ ہیں، جس کی وجہ سے اس امت میں اتنی گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں جن کا پاٹنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ خود ساختہ تنگ نظری اور ان دراڑوں کی وجہ سے اختلافات اس منزل پر پہنچ گئے ہیں جہاں ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ جاری کرنا اور خارج از اسلام قرار دینا ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔ ان فتاویٰ سے عام شیعہ، سنی، حنفی، بریلوی، دیوبندی مسلمان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ہاں صرف ان علمائے کرام کے شدت پسند جذبات کو یقینا تسکین پہنچتی ہے جو اپنے پیروکاروں کے اجتماع میں اتحاد و اتفاق کی دہائی دینے سے نہیں تھکتے۔ اس منافقانہ انداز سے اتحاد کی تسبیح پڑھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

آج عام مسلمانوں کا اتحاد سے زیادہ ان کے اکابرین کا اختلاف کے آداب سیکھنے کی ضرورت ہے اور ہمہ قسم کے اختلاف کے باوجود اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے تئیں احترام پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اختلاف کا اظہار کرنے کا سلیقہ اور طریقہ سیکھنے کی ضرورت ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں مذہبی ٹھیکیداروں نے اختلافات کو ہوا دینے اور عوام کو ورغلانے کا ہی طریقہ سیکھا ہے اور نجی محفلوں میں ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنا ہی کارِ ثواب سمجھتے ہیں۔

کیا مسلکوں کے یہ مختلف نظریات کے ٹھیکیدار اسلام کو بنیاد بنا کر قرآن پاک اور سیرتِ رسول کی روشنی میں آپس میں اتحاد و اتفاق کے پہلو تلاش کر کے افتراق و انتشار کے دروازے بند نہیں کر سکتے۔ کیا شیعہ، سنی، دیوبندی ، بریلوی، مقلد اور غیر مقلد اور دوسری جماعتوں اور ملتوں کے درمیان اسلامی بنیادوں پر اتحاد و اتفاق کے لیے جد و جہد کرنا عین اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہوگا؟ کیا عقائد کے باب میں صرف قرآنِ حکیم کو بنیاد بنا کر اور مسائل میں احادیث پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ قرآنِ پاک پر پوری امت کا اتفاق ہے ، احادیث کی صحت، ضعف اور موضوع و منکر ہونے میں ہمارے یہاں ایک بھی حلقہ کے درمیان کوئی اختلافات نہیں، جن سے اہلِ علم بخوبی واقف ہیں اس لیے سیرت کے قطعی واقعات کو قرآنِ حکیم کے ساتھ بنیاد بنا کر زمینی اور تاریخی حقائق کو قبول نہیں کیا جا سکتا؟

یہ سب کچھ ممکن ہے بشرطیکہ اکابرینِ امت کو اس حقیقت کا صحیح معنوں میں ادراک ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک پر جو آخری کتاب اتاری تھی وہ پوری انسانیت کو برادرانہ بنیاد پر ہدایت دینے کے لیے اتاری گئی تھی۔لیکن دوسری قوموں تک اس کتابِ مقدس کا پیغام پہنچانے والے بذاتِ خود بھٹک گئے اور چھوٹے بڑے انگنت مٹھ قائم ہو گئے۔ ان مٹھوں نے اس اتحادو اتفاق کو حاشیے پر پہنچا دیا جو اسلامی تعلیمات کا خاصہ ہے اور آج پوری امت فرقوں میں بٹی ہوئی وہ زندگی گزار رہی ہے جو مسلمانوں کے شایانِ شان نہیں ہے۔

مسلکی شدت پسندی نے اس اتحاد و اتفاق کو ہزاروں میل دور پہنچا دیا ہے۔ اس لیے اب وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ملی جلسوں اور مذہبی اجتماعوں میں بارگاہِ ایزدی میں صرف یہی دعا مانگی جائے کہ اے قادرِ مطلق !اس امت کو بس اب معجزہ دکھا دے اور اس کے علماءکی صفوں میں وہ اتحاد و اتفاق پیدا کر دے جو اسلامی تعلیمات کا متقاضی ہے، لیکن کیا ہمارے واعظانِ خوش بیان اور خطیبانِ محترم اجتماعی دعائیںکراتے ہوئے اس طور فریاد رسی کر سکتے ہیں۔

 

M: 9810439067

0 comments

Leave a Reply