اتحاد ملت کے ‘داعی’ بتائیں قرارداد سے منحرف ہونے والوں سے کیسے نمٹیں گے اور 'اتحاد' کی کامیابی کا جائزہ لینے کا طریق کار کیا ہوگا ؟
کیا سبھی لوگ اپنے اپنے حلقوں کی مساجد میں 'اتحاد ملت' کا یہ چارٹر دیواروں پرآویزاں کریں گے ؟
اشرف علی بستوی : نئی دہلی
آٹھ اور 9 اگست 2021 کا دن ہندوستانی مسلمانوں کو یاد رکھنے کا ہے دو دنوں میں پے درپے 'اتحاد ملت' پر دو الگ الگ پروگرام ہوئے ، جامعہ نگر دہلی کے ہوٹل ریور ویو میں 8 اگست کو ملک کی سرکردہ تنظیموں کے ذمہ داران نے دن بھر کی میراتھن میٹنگ کی اور 'اتحاد ملت' کے9 نکاتی ایجنڈے پر دستخط کیے ، اگلے روز اسی ہوٹل میں ایک اور میٹنگ اسی ایجنڈے پر ہوئی جس میں غالبا وہ لوگ شریک تھے جو پہلی میٹنگ میں چھوٹ گئے تھے یا چھوڑ دیے گئے تھے اس میٹنگ کو بھی میڈیا سے دور رکھا گیا تھا ، معلوم ہوا یہاں خاص طور سے مسلم نواجوان ذہنوں میں اٹھنے والوں سوالوں کو مخاطب کیا گیا ۔
یقینا 'اتحاد ملت' ایسا لفط ہے جو ہر مسلمان کے دل کی آرزو ہے اور ہونا بھی چاہیے ، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس لفظ کا مسلم قیادت نے اتنا ہی استحصال کیا ہے، جتنا مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقوام نے کیا ہے اور ابھی تک ہوتا چلا آرہا ہے ، آزاد ہندوستان میں یہ صدا 1964 میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قیام کی شکل میں نمودار ہوئی، جس کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرانا تھا جہاں سبھی اپنے اپنے مسلکی اختلاف اور تحفظات پر قائم رہتے ملت کے وسیع تر مفاد میں ملی مسائل پر سر جوڑ کر بیٹھیں گے، غور وخوض کریں گے اورباہم مشاورت کے بعد جو اقدامات کرنا طے ہو جائیں سبھی اسے اپنے اپنے حلقے میں اسی انداز میں آگے بڑھائیں گے ۔ لیکن آج دیکھ لیجیے اس تنظیم کا کیا حال ہے ۔ صدر مشاورت نوید حامد کو کو یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مشاورت سے وابستہ تنظیمیں اس کی طاقت بھی ہیں اور یہی اس کی کمزوری بھی ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے مالی تعاون سے چلنے والی ہماری مسلم تنظیموں نے مسلم کمیونٹی کے تئیں کبھی خود کو جوابدہ نہیں بنایا، زمینی حقائق کا مطالعہ کیے بغیر یکطرفہ طور ایجنڈا طے کیا اور اسے اردومیڈیا میں اعلان کردیا اردواخبارات نے بھی بلا تحقیق پریس ریلیز کو بڑے اہتمام سے شائع فرما کر اپنا ملی فریضہ انجام دے دیا ۔ اگلے روز شہ سرخی بننے کے بعد اس کی فائل تیار کی اپنی دنیا میں مگن ہوگئے ۔

ہوٹل ریور ویو جامعہ نگر نئی دہلی 8 اگست 2021
دوسری جانب بے چاری سادہ لوح مسلم عوام مثبت نتیجے کی امید لگائے حالات کی ماری ملت جس چوراہے پرکھڑی آنسو بہا رہی تھی آج بھی وہیں پڑی ہے اوروہاں سے گزرنے والا ہر راہی اسے 'پرے ہٹ' کی ٹھوکر مار کر نکل جاتا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم گزشتہ ستر سال سے 'تیلی' کے بیل کی طرح رات دن جی توڑ محنت کر رہے ہیں لیکن جب مڑ کر دیکھتے ہہیں تو خود کو وہیں کھڑا پاتے ہیں ؟
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کسی بھی معاملے کی مشاورتی میٹنگ میں شامل کوئی فرد یا تنظیم اگر اعلامیے کی خلاف ورزی کرے یا وہ عدم تعاون کا رویہ اختیار کرے تو اسے پابند کیسے بنایا جائے ،اسے جوابدہ کیسے بنایا جائے اس کا کوئی میکانزم ہمارے یہاں کبھی نہیں رہا جس کا نتیجہ یہ رہا کہ قراردادیں پاس ہوتی رہیں اور وقفے وقفے سے 'اتحاد ملت ' پر الگ الگ ناموں سے نئی نئی تنظیمیں بھی وجود میں آتی رہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام اپنے اپنے حلقوں کی قیادتوں سے سوال کریں کہ ہم ایک اور نئی تحریک شروع کرنے کے متحمل نہیں ہیں ،ہمیں ماضی کی ناکامی کا پہلے حساب دیں ۔

یاد رکھیں ! جب تک ہم اپنی پاس کردہ قرار دادوں پر عمل آوری کی مانیٹرنگ میکانزم نہیں بناتے اس کا ششماہی ، سالانہ ،پانچ سالہ جائزہ لینے نہیں لیں گے یہ اور اس طرح کی کوششیں دم توڑتی رہیں گیں ۔
اب ذرا وضاحت کیجیے یہ جو 9 نکاتی قرارداد پاس کی گئی ہے جس پر سبھوں نے عمل آوری کو یقینی بنانے کے لیے دستخط کیے ہیں ،کیا وہ سبھی لوگ اپنے اپنے حلقوں کی مساجد میں 'اتحاد ملت' کا یہ چارٹر دیواروں پرآویزاں کریں گے ؟ اپنے اپنے مدارس میں دوسرے مسالک کو رد کرنے والی درسی کتابوں اور فتووں کو فوری طور پر لگام دینے کے اقدامات شروع کریں گےَ ؟ کیا اتحاد ملت کے اس چارٹر پر دستخط کرنے والے اپنے اپنے حلقوں میں اب مسلکی بنیادوں پرجلسے منعقد کرنے کے بجائے ' اتحاد ملت ' کے جلسے شروع کریں گے جس میں کوئی کسی کے مسلک کو نشانہ نہیں بنائے گا ؟ کیا اب مسلمانوں کے جلسوں میں صرف اسٹیج پر مسلکی اتحاد دکھائی نہیں دے گا بلکہ سامنے بیٹھے سامعین میں بھی مختلف مسالک کے لوگ اسی تناسب میں آئیں گے یا لائے جائیں اسے یقینی بنائیں گے؟ اگر کوئی 'اتحاد ملت ' کے اس قرارداد پر دستخط کرنے والا عمل آوری میں دل چسپی نہ لے تو اسے کس طرح پابند کریں گے ؟ مرنے کے بعد اللہ کے سامنے تو ہم سب جوابدہ ہیں ہی لیکن دنیا میں اللہ کے بندوں کے سامنے بھی جوابدہی کا نظام بنانا اور اسے ماننا ہوگا ۔
بتاتا چلوں کہ میں ایک ادنیٰ سا صحافی ہوں ، گزشتہ 20 برس سے اس خار دار وادی میں ہوں 15 برس سے دہلی میں ہوں 13 برس تک تحریک اسلامی کے موقر اخبار دعوت میں بطور سب ایڈیٹر کام کیا ہے، یہاں میں 2006 سے لیکر 2013 تک دعوت کا ماہانہ فیچر جائزہ کے لیے انٹرویوزکرتا تھا ، ہم ہر ماہ کسی اہم موضوع کا انتخاب کرتے جو عام طور پر ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق ہوتا اور کبھی کبھی دیگر عالمی یاملکی معاملات بھی ہمارا موضع ہوتے ۔ مجھے اس حوالے سے ملی ،سماجی ،سیاسی ، مذہبی رہمناوں سے ایک نہیں ، کئی کئی بار متعدد امور پر انٹرویو کرنے کا موقع ملا 7 برس میں 70 عناوین پر لگ بھگ 600 انٹرویوز کیے ۔ یہ 'جائزہ ' ہر ماہ کی 16 تاریخ کا شمارہ ہوتا تھا اس لیے میں نے جس سے بھی انٹرویو کیا اس کا اور اس کے کاموں کا جائزہ لینے کی کوشش کی تاکہ اپنے قارئین تک ان کوششوں کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلی کو بھی پہونچا سکوں ۔ سوالات کے درمیان ہمیشہ میری یہ کوشش ہواکرتی کہ جناب والا یہ ہونا چاہیے ، ہمیں یہ کرنا چاہیے ، ہم ایسا سوچتے ہیں ، ہم نے یہ کام شروع کیا ہے سے آگے بتائیں کہ آپ یا آپ کی تنظیم نے ابتک کیا کیا ہے اور اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ جب میں ایسے سوالات کرتا تو ہر شخص میرے سامنے اپنے پالیسی پروگرام کی فہرست فولڈر، پمفلٹ ، کتابچہ کی شکل میں پیش کر دیتا ، وہ اقدامات کتنے کامیاب رہے ، کامیابی کا فیصد کیاہے ؟ ان کوششوں کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلی کو جاننے کی کیا کوشش کی گئی ؟ اگر کوئی عملی دشواری پیش آئی تو اسے دور کرنے کی کیا کوشش کی گئی ؟ آپ کی یہ کوشش ناکام کیوں رہی ؟ میں یہ سوالات ہرایک سے مستقل پوچھتا رہا لیکن مجھے صرف مایوسی ہی ہاتھ لگی ۔
اسی لیے اب مجھے قرار دادوں ،بیانات اور پالیسی پروگراموں کے خوبصورت نکات مجھے راس نہیں آتے۔ اور یہ میں نہیں ملت اسلامیہ ہند کا ہر فرد یہی سوال کر رہا ہے کہ اللہ کی رسی مضبوط پکڑے رکھنے کی تبلیغ کرنے والی مسلکی عناد کی رسی ' پکڑ کر لٹکی مسلم قیادت آخر کب قول و عمل کے تضاد سے باہر نکلے گی ؟ یقین جانیں ملت اب عمل سے عاری تقریروں ، تحریروں ، جلسوں ، سمیناروں ، سمپوزیموں سے دل برداشتہ ہو چکی ہے ، کاش آپ اس بے چینی کو سمجھ پائیں اور ملت کو اخباری بیانات اور کانفرنسوں کے کھلونوں سے بہلانے باز آجائیں ورنہ وقت کا طوفان سب کچھ تباہ کر ڈالے گا ۔ میں 'اتحاد ملت ' کی اس کوشش کو ماضی کی کوششوں کی طرح قدر کی نگاہ سےدیکھتا ہوں لیکن آپ کو اپنے عمل سے یہ بتانا ہوگا کہ آپ سنجیدہ ہیں ، ٹیکنالوجی کے اس دور میں اتحاد ملت کا یہ 9 نکاتی ایجنڈہ پہلے 6 ماہ میں اپنے اپنے مسلکی مدارس کے ذمہ داران ، مساجد کے متولی حضرات تک تو پہونچا ہی سکتے ہیں یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ملت کی ذہن سازی کے لیے یہ دو مقامات مرکز شمار کیے جاتے ہیں۔
مضمون نگار سے رابطہ
E-mail: ashtafbastavi@gmail.com
Mob: 9891568632

Intikhab Alam Shamsi
ماشاءاللہ بہت عمدہ اشرف صاحب.
Intikhab Alam Shamsi
ماشاءاللہ بہت عمدہ اشرف صاحب.
Dost Mohammed Khan
آپ نے ایک سچے صحافی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بڑی بیباکی اور دیانت داری سے حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا ہے اور جو سوالات اٹھائے ہیں ان کا جواب دینا تمام قائدین ملت کہلائے جانے والوں کی ذمہ داری ہے۔ اتحاد ملت صرف اجلاس کرنے اور بیانات جاری کرنے سے نہ پہلے ہوا تھا نہ اب ممکن ہے۔ اس کے لیے خلوص نیت کے ساتھ عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ .