قومی صحافت سے کمیونٹی صحافت تک کا سفر

اے بی مسعود

اردو صحافت کا آغاز قومی صحافت کے طور پر ہوا تھا لیکن افسوس کہ آج انڈیا کی حد تک یہ اب کمیونٹی جرنلزم یا ایک مخصوص فرقہ کی صحافت بن کر رہ گءی۔ یعنی دوسرے الفاظ میں خود ہی لکھو اور خود ہی پڑھو۔اس حیثیت کے زوال میں سیاسی و اقتصادی عوامل کلیدی اہمیت رکھتے ہیں ۔
یہی وجہ رہی کہ اردو صحافت کو وہ ٹیلینٹ یا باصلاحیت افراد عموماً کم میسر آءے جو اس کے بال وپر سنوار سکے۔ جس طرح سیاست میں وارد ہونے کے لیے کوئی شرط نہیں ہے اسی طرح اردو صحافت بھی سب کے لیے طبع آزمائی کا میدان بن گیا ۔کاتب، بیرے، پروف ریڈر صحافی بن گے۔ اخبار ات ایسے ایسے لوگ نکالنے لگے جن کا اس پیشہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا مقصد صرف اقتدار وقت سے رساءی حاصل کرکے مراعات و مناصب حاصل کرنا رہا۔ وہ اس میں بڑی حد تک کا میاب بھی رہے کچھ پارلیمان کے رکن بن گءے تو صوبائی اسمبلیوں کے۔
اب تک زیادہ تر اخبارات وہ تھے جن کے وہ خود مالک سے لے کر ایڈیڑ سب کچھ ہیں۔ حالیہ برسوں میں کچھ کارپوریٹ گھرانوں نے اس میدان میں قدم رکھا۔ آج ان میں سے بعض اخبارات کا ایڈیٹر ایسے افراد کو بنایا جاتا ہے جو ایک فسطائیت کی علمبردار تنظیم کے قاءدین کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک اخبار کا مدیر ایک ایسے شخص کو بنایا گیا تھا جو اردو بالکل نہیں جانتا تھا۔ اسٹاف جو خبریں جارہی ہیں وہ پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔اس کا انتخاب محض اس وجہ سے ہواتھا کہ وہ فسطاءی تنظیم کے ایک دلارے کا پی اے تھا۔ علاوہ ازیں مدیر یا نامہ نگار بننا ہے اس کا معیار پیسہ بن گیا ہے۔ ایک ہدف دیدیا جاتا ہے اتنی رقم آپ کو کمپنی کے خزانے میں جمع کرانا ہوگی۔؟ تب آپ کو یہ عہدہ ملے گا!تو پیڈ جر نلزم نہیں کرے گا تو کیا کرے گا!
اس سے پہلے اردو اخبارات کے مالکان کانگریس کے دفتر اور سفارت خانوں کے چکر لگا یا کرتے تھے۔
 
اردو صحافت میں سرقہ بھی ایک عام بات ہے۔ احقر نے خود ایک مشہور ہفتہ روزہ اخبار کے خلاف جس کے مدیر پارلیمان کے رکن بھی بنے، پریس کونسل آف انڈیا سے اسٹرکچر (نالش) پاس کروا یا ہے ۔ 1998کی پریس کونسل کی سالانہ رپورٹ میں اسے دیکھ سکتے ہیں۔ آج بھی یہ قبیح روایت ڈھٹائی سے جاری ہے۔
حال ہی میں ایک یو ٹیوب چینل کو فیس بک نے ہٹادیا۔ جب احقر نے فیس بک آفس میں اپنے کانٹیکٹ سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ یہ چینل دوسرے کے ویڈیو اپنے بینر سے چلا دیتا تھا۔ بار بار نوٹس بھیجنے کے باوجود باز نہیں آیا۔ لہذا مجبورا وہ پیج ہٹا دینا پڑا۔ یہ صاحب جو ایک دینی مدرسہ کے فارغ بھی ہیں ایک ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں ۔ احقر کی بھی ایک اسٹوری بغیر حوالہ کے استعمال کر لی تھی۔

ہمارے بعض اخبارات کے مالکان کو چیف ایڈیٹر لکھنے کا بھی بڑا شوق ہے۔ ان بیچاروں کو یہ معلوم نہیں کہ چیف ایڈیٹر کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب ایک اخبار کے متعدد ایڈیٹر صاحبان ہو ۔یا ایڈیٹوریل بورڈ بنا ہو۔

خبر نگاری معیار کتنا بلند ہے وہ دوسری زبانوں کے اخبار پڑھنے والے قارءین جانتے ہیں۔ اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں، حال ہی 28نامور و ممتاز صحافیوں اور مدیروں نے ایک اپیل جاری کی تھی جس میں آءینی اداروں سے درخواست کی گءی تھی کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ میں اپنے دستوری تقاضوں کی پاسداری کریں۔ ایک بڑے اخبار نے جو متعدد مقامات سے شاءی ہوتا ہے اس پر خبر بناءی۔ مگر پتہ ہی نہیں چلتا ہے یہ خبر ہے یا کوئی اور چیز۔

0 comments

Leave a Reply