ڈاکٹر مسرور قریشی سیٹھ کو حج کمیٹی آف انڈیا میں اعلٰی منصب کی تقرّری پر مبارکباد اور اظہار مسرّت
نئی دہلی : ملک کی معروف طِبّی تنظیم یونانی ڈرگس مینوفکیچررس ایسوسی ایشن کے اراکین کی ایک خصوصی میٹنگ زیر صدارت جناب حامد احمد منعقد ہوئی۔ مہمان خصوصی کی حیثیّت سے جناب ڈاکٹر محمّد خالد اسسٹنٹ ڈرگس کنٹرولر اینڈ لائسنسنگ اٹھاریٹی، شعبہ آیوش، حکومت دہلی شریک تھے۔
جناب اعجاز احمد اعجازی کی تلاوت کلام پاک سے میٹنگ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ بعد ازاں جناب حکیم محسن دہلوی جنرل سکریٹری، اُڈما نے اپنے خطاب میں کہا کہ طبّی میدان کے ایک قابل اور محترم شخصیّت ڈاکٹر مسرور قریشی سیٹھ کو حج کمیٹی آف انڈیا، وزارت اقلیتی امور، حکومت ہند میں ڈپٹی ایگزیکوٹیو آفیسر (ایڈمنسٹریشن) کے اعلٰی عہدہ پر تقرّری اہلیان طِب کے لئے باعث مسرّت و صد افتخار امر ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب موصوف ایک دانشور اور سائنس داں ہیں نیز طالب علمی کے زمانے سے ہی ایک اچھے اسپیکر اور محقق ہیں۔ کئی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں اور اپنی ذمّہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیتے رہے ہیں۔ اس وقت آپ سینئر سائنٹسٹ کی حیثیّت سے سنٹرل کاؤنسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن، محکمہ آیوش، حکومت ہند میں اپنی خدمات دے رہے ہیں۔
مہمان ذی وقار جناب ڈاکٹر محّمد خالد نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ جنا ب ڈاکٹر مسرور قریشی سیٹھ تخلیقی ذہن اور عظیم فنّی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ علمی سفر کاذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ڈاکٹر مسرور صاحب نے 1996 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی۔ یو۔ ایم ایس (BUMS) سے فراغت کے بعد 2007 میں یونیورسٹی آف ممبئی سے ایم۔ ڈی (M.D) اور جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے 2019 میں پی۔ ایچ۔ ڈی (PHD) کی ڈگری حاصل کی۔ طالب علمی کے مختلف ادوار میں اور بعد ازاں مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں آپ جوائنٹ سکریٹری، اے ایم یو میوزک کلب۔ ممبر، اے ایم یو ڈرامہ کلب، ممبر رائڈنگ کلب اور ادارے کے کئی ایسوسی ایشنز اور کمیٹیوں کے اہم رکن رہے۔ علاوہ ازیں فاؤنڈر آف میوزک بینڈ (سویٹ پوائزن) ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سو سے "زائد میوزک شوز" کو پیش کیا جو اے۔ایم۔یو میں کافی مشہور و معروف شوز ثابت ہوئے۔ حال ہی میں پروڈیوسر کی حیثیّت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر ایک دستاویزی فلم بھی آپ نے بنائی تھی جو AMU in World Alumini کے موقع ہر پیش کی گئی تھی۔
جناب ڈاکٹر محمّد خالدنے مزید فرمایا کہ جناب ڈاکٹر مسرور قریشی سیٹھ نے 70 ریسرچ پیپرس تیّار کئے، 20 ریسرچ پیپرس آپ نے ملک و بیرون ممالک کے مختلف کانفرنس میں پیش کئے ساتھ ہی مرکزی تحقیق کار و معاون تحقیق کار کے طور پر آپ نے 25 ریسرچ پروجکٹ مکمّل کئے۔
مسلسل تین سال بین الاقوامی کانفرنس، ممبئی میں آپ کو "اسپیکرس ایوارڈ" سے نوازا گیا۔ سال 2008 میں آپ کی خدمات کے اعتراف میں برائے ریسرچ آپ کو "عبدالرزّاق ایوارڈ" سے سرفراز کیا گیا۔ مکمّل تعارفی کلمات کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اس باوقار منصب پر فائز ہونے کے تعلق سے ڈاکٹر مسرور قریشی صاحب کو اظہار مسرّت کے ساتھ ہدیہ مبارکباد پیش کیا۔
دیگر مقررین حضرات نے بھی اظہار خیال فرمایا اور دعاؤں و مبارکباد کے ساتھ نیک خواہشات سے نوازا۔ فزیکلی اور آن لائن شرکاء حضرات کے اسمائے گرامی ہیں
محمّد جلیس (جوائنٹ سکریٹری، اُڈما)، ڈاکٹر خالد محمّد سیف اللّٰہ، محمّد عارف، مقبول حسن، ڈاکٹر مطیع اللّٰہ مجید، انتخاب عالم، صادق بابلہ، انور علی خاں، حکیم ارباب الدّین، پرویز احمد خاں، محمّد نوشاد، مدثّر جمال بخشی، سیّد منیر عظمت، حکیم خبیب بقائی، حکیم عزیر بقائی، اعجازاحمد اعجازی، حکیم کاشف ذکائی، محمّد امجد علی فیض، محمّد طاہر، ڈاکٹر کے۔ ٹی۔ اجمل، حکیم یثمانل عثمانی، ڈاکٹر سلیمان خالد، شیخ انتخاب عالم۔
نشست کی اخیر میں صدر مجلس جناب حامد احمد (صدر۔ اُڈما) نے جناب ڈاکٹر مسرور قریشی سیٹھ کو اپنی اور اراکین اُڈما کی جانب سے پُرخلوص مبارکباد کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار فرمایا۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ طِبّی جہاں اور اہلیان طِب کے لئے یہ لائق تحسین و صد آفرین خبر ہے۔ انہوں نے سبھی شرکاء حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

0 comments