آہ ! ایڈوکیٹ انور صدیقی

اشرف علی بستوی ، نئی دہلی

 

اشرف علی بستوی ، نئی دہلی

انور صاحب جنھیں اب مرحوم کہتے ہوئے دل کانپتا ہے۔ میری پہلی ملاقات کب ،کہاں اور کیسے ہوئی تھی وہ منظر آج بھی اچھی طرح ذہن میں تازہ ہے۔ 16مئی 2022 کو ان کے انتقال کی جانکاہ خبر انھیں ہمیشہ کے لئے یادوں کا حصہ بنا دےگی اندازہ نہ تھا۔ یہ 2009 کی ایک دوپہر تھی سہ روزہ دعوت دفتر کے باہر فون پر گفتگو کرتے ہوئے میری نظر سامنے کھڑے اسکوٹر پر پڑی تو ٹک گئی . اسکوٹر پر 'میڈیا پوسٹ' اسٹیکر دیکھ کر دلچسپی بڑھی، میں صاحبِ اسکوٹر کے بارے متجسس ہی تھا کہ ایک صاحب دفتر سے سلام کرتے ہوئے نکلے احوال دریافت کیا اور اپنا تعارف نگینہ ٹینٹ ہاوس کے مالک کے طور پر کرایا، میں نے سوال کیا یہ 'میڈیا پوسٹ' کیا ہے؟ مسکراتے ہوئے بولے جناب یہ ماہانہ ہندی میگزین ہے، خاکسار ہی اسے دیکھتا ہے، آئیے کسی روز تفصیل سے بات ہوگی۔

انور صاحب سے اس روز سے جو تعلق بنا اس میں دن بدن اضافہ ہی ہو تا رہا، ہم اکثر فون کر کے ' میڈیا پوسٹ ' کے دفتر پہونچ جاتے۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہا کہ اسی دوران اے پی سی آردہلی چیپٹر کے قیام کا اعلان ہوا۔ انور صاحب اس کی میٹنگ میں سرگرمی سے شریک ہوتے، مشورے دیتے اور خود بھی عملی کاموں میں شریک ہوتے۔ آگے چل کر دہلی چیپٹر کے سیکریٹری بنائے گئے تو کام بھی خوب کیا اور کئی اہم ایشوز کو خوبصورتی سے نمٹایا۔
وہ ہمیشہ سماجی کاموں میں پیش پیش رہتے۔ خدمت کے اسی جذبے نے انہیں وکالت کی تعلیم کی طرف متوجہ کیا چنانچہ انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری لی اور کمزوروں و بے سہاروں کی لڑائی لڑنے عدالتوں کی دہلیز تک جا پہنچے۔ گزشتہ کئی برسوں سے یکسوئی کے ساتھ بےسہارا ضرورت مند ملزمین کی فائلیں لیے عدالت میں کھڑے رہتے۔ اس درمیان جب جب ملاقات ہوتی تو بات کسی نا کسی مقدمے سے شروع ہوتی ،عدالتی پیچید گیوں کی وجہ سے پیدا مسائل کا ذکر کرتے اور بتاتے کہ کس قدر صبر اور یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مرحوم صحت کا خاص خیال رکھتے، ہمیشہ چاک و چوبند رہتے، پابندی سے مارننگ واک اوربیڈ منٹن کھیلنا ان کا معمول تھا۔ دوست و احباب کی سرگرمیوں اور ان کے احوال پر گہری نظر رکھتے۔ جون 2011 کی بات ہے ایک دن ان کا فون آیا، کہنے لگے: "ایک اہم پروگرام میں ہم آپ کوایوارڈ دینا چاہتے ہیں، تاریخ طے ہوگئی ہے آپ کو آنا ہے"۔ میں ایوارڈ اور اس طرح کی غیر ضروری عمل پر کم ہی یقین رکھتا ہوں لیکن انور صاحب نے اس انداز سے گفتگو کی کہ میں پس و پیش میں پڑگیا کہ کیسے بتاوں کہ میرے لیے مناسب نہیں ہوگا، میں نے ٹالنے کے انداز میں کہنا چاہا میرے لیے اپنے اخبار سے اجازت لینا ضروری ہوگا، میں معذرت کرتا رہا لیکن جناب نے ایک نہ سنی، جب میں اس روز ان کے پروگرام میں غیر حاضر رہا تو انہیں بہت افسوس ہوا۔ اگلے روزملاقات کی،گھر لے گئے۔ مجھے سننے کے بعد کہا یہ ہم نے آپ کے نام ایوارڈ بنوالیا ہے اسے اب تو گھر لے جا سکتے ہیں؟

ایک اور واقعہ یاد آتا ہے، مارچ 2018 کی بات ہے ضلع بجنور میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے میرے نام کی سفارش کردی کہنے لگے اب آپ ایشیا ٹائمز کے ذمہ دار ہیں میدان میں نکلیں اپنی بات رکھیں ۔ وہاں شیخ نگینوی صاحب نے ایک اہم سمینار رکھا ہے، ان کے کہنے پر میں نے وہاں میڈیا پرایک مقالہ پیش کیا جسے لوگوں نے کافی پسند کیا۔
ایک دن یوں ہی باتوں باتوں میں دوران گفتگو پوچھ بیٹھے:
"آپ کے دفتر میں کمپیوٹر ہے؟"

میں نے کہا گھر پر ڈیسک ٹاپ ہے، آفس میں ابھی کمپوٹر نہیں رکھا ہے"۔
کہنے لگے :"ٹھیک ہے"۔

اگلے دن فون آیا: "ابھی آپ کہاں ہیں، اپنے دفتر کا پتہ بتائیں"۔

ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ایک شخص کمپیوٹر کے سازوسامان کے ساتھ آفس کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ انور صاحب تھے، یہ ان کی محبت کا انداز تھا جس سے نہ جانے کتنے لوگوں کی مدد ہوتی تھی۔

ایک اور واقعہ سن لیں 2019 کی ایک شام مرکز جماعت اسلامی ہند کے کیمپس میں عصر کی نماز میں ملاقات ہوگئی۔ کہنے لگے: "نمازبعد ملیے"۔
ملاقات ہوئی توایشیا ٹائمز کی سرگرمیوں پر بات کرتے کرتے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ رقم نکال کر، مجھے دینے لگے، میں نے انکار کیا تو کہنے لگے:"آپ اچھا کام کر رہے یہ رکھ لیں"۔ میں نے منع کیا تو زبردستی میری جیب میں ڈال دیا۔ دراصل یہ ان کا ایک انداز تھا اور اس طرح وہ جس کے کام سے بھی مطمئن ہوتے مدد کرتے تھے، اس کے لئے انھیں کسی کی سفارش یا بتانے کی ضرورت نہ تھی۔

ایک روز میں نے ان سے ایشیا ٹائمز پر قانونی راہنمائی کے ایپی سوڈ کے لیے بات کی تو کہنے لگے، میں ہمیشہ تیار ہوں جب ضرورت ہو آپ بلا جھجھک مجھے کہیے گا ، آپ مجھے اپنے قریب پائیں گے۔

میری ان سے آخری گفتگو رمضان میں ابوالفضل انکلیو میں ہوئی،  انہوں نے 'میڈیا پوسٹ'میگزین کو ازسر نو شروع کرنے کے متعدد پہلووں پر گفتگو کی، اس سلسلے میں مزید پیش رفت کے لیے رمضان بعد میٹنگ طے پائی لیکن قدرت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا، وہ انہونی ہوئی جسے ہم میں سے کسی کو امید نہیں تھی۔
رب کریم ان کی کوتاہیوں کو درگزر فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل دے اورانہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فر مائے ۔ آمین

نوٹ : مضمون نگار ایشیا ٹائمز کے چیف ایڈیٹر ہیں

رابطہ : 9891568632

 

0 comments

Leave a Reply