ایک الیکشن چار گٹھ بندھن، خوب کریں منتھن

فہیم رگھے پوروی، مدھوبنی، بہار

 

صوبہ بہار کے اندر اسمبلی انتخابات 2020 بس شروع ہونے ہی والے ہیں، بہار کا چپہ چپہ انتخابی اشتہار و پر چار سے اٹا ہوا ہے، ہر جانب سیاسی نعروں کا شور ہے، پارٹیوں کے وعدوں کی ہوڑ ہے اور جیت کے لیے امیدواروں کا زور ہے، خصوصاً اس بار کے الیکشن میں تو سیاسی پارا کچھ زیادہ ہی چڑھا ہوا ہے، 2015 کے پچھلے اسمبلی انتخابات میں بنیادی طور پر دو ہی اتحاد کے مابین اہم مقابلہ تھا، این. ڈی. اے اور عظیم اتحاد(مہاگٹھ بندھن)، لیکن اس بار کے الیکشن کی تصویر پوری طرح سے بدلی ہوئی ہے، پہلے دو اتحاد تھے اب چار اتحاد ہیں.
پہلے مقابلہ دو اتحاد کے بیچ ہونے کی وجہ سے انہی دونوں میں سے کسی کی جیت کی امید تھی لیکن اس بار ووٹوں کے زبردست بکھراؤں کی بنا پر کچھ بھی ممکن ہے، پچھلے اسمبلی انتخابات میں اکثر پارٹیاں جن کے ساتھ تھیں اب وہ ان کے خلاف ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ کئی پارٹیاں تو الیکشن کے اعلان بعد محض سیٹوں کے تال میل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے اتحاد سے الگ ہوکر مخالف ہو گئیں ، کل ملا کر 2020 کے اسمبلی انتخابات پہلے سے الگ اور نتائج چوکانے والے ہو سکتے ہیں،

ان دنوں ہر طرف سیاسی اتھل پتھل مچی ہوئی ہے، ہر پارٹی بہار کی عوام کو لبھانے کے لیے ہر ہتھکنڈے اپنا رہی ہے، جہاں ایک طرف نتیش کمار کی قیادت میں این، ڈی، اے جو بی جے پی، جے ڈی یو، وی آئی پی اور ایچ اے ایم پر مشتمل ہے، ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کے لیے تال ٹھوک رہا ہے، وہیں رشٹریہ جنتادل اور کانگریس پر مشتمل عظیم اتحاد جیت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے، اس کے علاوہ تیسرا محاذ جس میں "جن ادھیکار پارٹی"،" سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا"، چندر شیکھر آزاد کی "آزاد سماج پارٹی"، بہوجن مکتی پارٹی، ہیں، پپو یادو کی سربراہی میں بہار کی سیاست میں اپنا مستقبل تلاش کر رہا ہے، اس کے علاوہ 2020 کے بہار اسمبلی الیکشن میں ایک اور نئے محاذ نے بھی دستک دے دی ہے جس میں اوپندر کشواہا کی پارٹی" لوک سمتا پارٹی "، دیوندر یادو کی پارٹی "سماج وادی جنتادل(ڈی) "، اسد الدین اویسی کی پارٹی "آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین"، مایاوتی کی پارٹی" بہوجن سماج پارٹی" اور "جن وادی پارٹی(سوشلسٹ) ہیں، اس اتحاد کا نام " یونائٹیڈ ڈیموکریٹک سیکولر الائنس" رکھا گیا ہے، یہ اتحاد بھی بہار کے ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے، ان محاذوں اور اتحادوں کے علاوہ دیگر اور بھی کئی چھوٹی پارٹیاں ہیں جو پورے دم خم کے ساتھ میدان میں ہیں، اس کے علاوہ بہت سارے آزاد امیدوار بھی ہیں جو جیت کے لیے پوری طاقت جھونک رہے ہیں، 

ایسے حالات میں یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہار کے تقریباً ساڑھے 8 کروڑ رائے دہندگان عجیب کشمکش میں ہیں، ان کی بے چینی اور پریشانی فطری بات ہے، ووٹ دیں تو کسے دیں، ہر کسی کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے، خاص طور پر ہم بات کر رہے بہار میں بسنے والی اقلیت یعنی مسلمانوں کی جن کے لیے 2020 کے اسمبلی الیکشن میں اپنے ووٹ کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے، کیونکہ سوائے چند کو چھوڑ کر اکثر پارٹیاں مسلمانوں کی مسیحائی کا دعوی کرتی آ رہی ہیں، لیکن تجربات، مشاہدات اور حقائق اس کے برعکس ہیں، ادھر میڈیا والے اسد الدین اویسی کی  پارٹی  اے،آئی، ایم، آئ، ایم اور جنوبی ہند کی پارٹی ایس، ڈی، پی، آئی کو خالص مسلمانوں کی پارٹی باور کرانے میں پورا زور لگا کر بہار کے مسلمانوں کے سامنے ایک بڑی آزمائش کھڑی کر رہا ہے، پھر انڈین یونین مسلم لیگ اور کچھ دیگر چھوٹی پارٹیاں ہیں جو مسلم امیدوار کھڑے کر رہی ہیں جس سے معاملہ اور الجھتا دکھائی دے رہا ہے، اس نازک موقع پر پورے بہار کے مسلمانوں کو کافی دور اندیشی اور بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہے، ایسا نہ ہو کہ ان کا ووٹ بری طرح بکھر جائے اور بہار کی زمام کار ایسے لوگوں  کے ہاتھ آ جائے جن سے نہ ملک کا بھلا ہونے والا ہو نہ بہار کی جنتا کا، پچھلے پندرہ سال سے وزیر اعلی نتیش کمار بہار پر حکومت کر رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے بہت سارے ترقیاتی کاموں کو انجام دیا ہے، لیکن مجموعی اعتبار سے ہر سطح پر بہار کی جو ترقی ہونی چاہئے تھی آج تک بہار اس سے محروم ہی رہا ہے ، سڑک اور بجلی کو چھوڑ کو تعلیم، صحت اور روزگار جیسے اہم مسائل کی بات کریں تو ان میں آج بھی بہار کافی پیچھے ہے، مسلم اقلیتی طبقہ کا مستقبل بھی تاریک نظر آ رہا ہے،
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بار بھی اگرچہ این ڈی اے کے وزیر اعلی امیدوار نتیش کمار ہی ہیں لیکن سیاسی تجزیہ نگار اور بہت سارے مبصرین کئی وجوہات کی بنا پر اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ نتیش کمار کا وزیر اعلی بننا آسان نہیں ہے، این ڈی اے کے علاوہ چاہے پی ڈی اے ہو یا یو ڈی ایس اے کسی بھی اتحاد کا بہار کی سیاست میں کوئی مستقبل نہیں دکھ رہا ہے، ایل جے پی نے تو اپنے اصول و نظریات سے سمجھوتہ کرکے اپنا منشا واضح کر چکی ہے جس کو سمجھنے میں مسلمانوں کو کوئی دیری نہیں ہونی چاہیے، اور اگر ہم بات کریں آزاد امیدواروں کی تو ان کی کیا حیثیت ہوتی ہے وہ سب کے سامنے ہے، اب اگر عظیم اتحاد یعنی مہا گٹھ بندھن کی بات کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس بار تیجسوی یادو کی ریلی میں جو بھیڑ اکٹھا ہو رہی ہے اس سے اس کی لہر کا پتہ چلتا ہے، اس کو کئی بڑے قومی ٹی وی چینل دکھا بھی رہے ہیں، یہ کہیں نہ کہیں مہا گٹھ بندھن کے لیے نیک فال ثابت ہو سکتا ہے، جو ٹی وی چینل اوپینین پول دکھا رہے ہیں اس میں بھی این ڈی اے اور عظیم اتحاد میں بہت زیادہ کا فرق نہیں دکھ رہا ہے،

اس کے علاوہ آر جے ڈی کی جو تاریخ رہی ہے اس سے یہ بات مسلم ہے کہ لالو پرساد یادو نے کبھی بھی کسی بھی موڑ پر ملک کی بقا
اور تحفظ سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، اس کے دور میں اقلیتوں کو کم سے کم تحفظ تو ضرور فراہم کیا گیا، کانگریس کی بات کریں تو اس نے آزادی سے لیکر ملک کو بلندیوں تک پہنچانے میں تمام طرح کے ممکنہ وسائل اختیار کیے اور حب الوطنی کا عملی مظاہرہ کیا اور فرقہ پرستوں کی طرح حب الوطنی کا جھوٹا راگ نہیں الاپا،ان تمام باتوں اور ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بہار کی عوام کو اپنے ووٹ کا استعمال کرنا ہے، خصوصاً اقلیتی طبقہ  مکمل سوچ بچار کے بعد ہی ووٹ کرے، ایسا نہ ہو کہ ہندو مسلم کی تفریق کا شکار ہوکر بہار کی جنتا اپنا قیمتی ووٹ برباد کردے اور بہار کے اقتدار کی کرسی پر ایسے لوگوں کو بٹھا دے جن سے بہار اور ملک کا بھلا نہیں ہو سکتا ہے،

 

0 comments

Leave a Reply