بابری مسجد کے قصیے کو زندہ رکھنے کے لیے ایک شوشہ

 

عظیم اختر

 
یہ یقینا مقامِ شکرِ خداوندی ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور سیاسی ٹھیکیداروں نے ماضی کے مقابلے میں پہلی بار فہم و فراست، عقلمندی اور غیر معمولی دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے گزشتہ ہفتہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھے جانے کے موقع پر امتِ مسلمہ کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے لیے ملک گیر پیمانے پر احتجاجاً ہڑتال کرنے یا حزن و ملال کا اظہار کرنے کے لیے عام مسلمانوں سے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھنے کی اپیل نہیں کی بلکہ قوم کو اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے صرف پردھان منتری سے ہی اپیلیں کرتے رہے کہ ایک سیکولر ملک کے مکھیا کے طورپر وہ اس خالص مذہبی تقریب میں شرکت نہ کریں۔

کھسیانی بلی کھمبا نوچے

کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق اس قسم کی لایعنی اپیلیں کرنا ان بے چاروں کو اپنی ساکھ بنانے اور قیادت کا بھرم رکھنے کے لیے ضروری تھیں، چنانچہ اس قسم کی اپیلوں نے اردو کے ہر چھوٹے بڑے اخبار میں نمایاں مقام حاصل کرنا شروع کر دیا گویا پردھان منتری جی ان بے وزن مشوروں پر عمل کرنے، ملک کے اکثریتی طبقے کے اعتماد اور وشواس کو آئینہ دکھا دیں جس نے ان کو آستھا اور رام مندر کے نام پر نہ صرف ملک کا مکھیا بنا دیا بلکہ وہ سیاسی مقام اور استحکام بھی بخشا ہے جو مستقبل میں شاید ہی ملک کے کسی دوسرے سیاستدان کو نصیب ہو۔ اس حقیقت سے قطع نظر اگر دیکھا جائے کہ ہمارے ملک میں جہاں کا پورا معاشرتی اور سماجی نظام ذات پات کے بندھنوں اور مذہبی بندشوں میں جکڑا ہوا ہے سیکولرازم اور ڈیموکریسی جیسے الفاظ کا اطلاق ان کے لغوی معنی میں ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ یہاں کے معاشی اور سماجی نظام کے تقاضوں کے تحت ان لفظوں کے معنوں میں تحریف ہو چکی ہے، اس لیے ملک کے مکھیا یا کسی بھی صاحبِ اقتدار سیاستداں کو سیکولرازم کے حوالے سے اس قسم کی خالص مذہبی تقریب میں شرکت سے گریز کرنے کا مشورہ دینا ایک دیوانے کے خواب سے کم نہیں۔ ویسے بھی اعلیٰ سیاسی مدارج حاصل کر لینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اپنے مذہب سے براء ت کا اظہار کیا جائے۔ مذہبی ماحول میں شعور سنبھالنے اور مذہب کے نام پر آندھی طوفان کی طرح آگے بڑھنے والا فرد تو مذہب سے براء ت کا اظہار کبھی کر ہی نہیں سکتا، ہمارے پردھان منتری جی نے تو خیر سے آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں ہوش  سنبھالا ہے اور رام جی کے نام پر ہی اس منزل تک پہنچے ہیں، ان کو ایسا ناقابلِ عمل مشورہ دینا صحرا میں اذان دینے کے مترادف تھا۔

ہمارے علمائے کرام اور دنیا دار اربابِ سیاست 

امتِ مسلمہ کے سیاسی و دینی ٹھیکیدار جوش و خروش سے یہ اذان دیتے رہے اور ملک کے مکھیا نے وہ سیاسی قرض جو اکثریت کی آستھا نے اس پر فرض کر دیا تھا اد ا کرکے تاریخ میں نام لکھوا لیا۔ ہمارا خیال ہے کہ سیکولرازم کی دہائی دیتے ہوئے پردھان منتری جی کو اس خالص مذہبی تقریب میں شرکت سے گریز کرنے کا مشورہ صرف برائے مشورہ تھا یا یہ بھی ہو سکتا ہے ہمارے علمائے کرام اور دنیا دار اربابِ سیاست کو اس حقیقت کا کسی حد تک ادراک ہو گیا جو کہ تعلیمی، سماجی،معاشی اور سیاسی زندگی میں پستی اور انحطاط کی کگار پر کھڑا ہوا اور دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کے لیے تمام تر نامساعد حالات سے جوجھتا ہوا آج کا مسلمان کانگریس کے طویل دورِ اقتدار سے لے کر آج تک مذہبی تعصب اور بدترین فرقہ پرستی کے اتنے امتحانات سے گزر چکا ہے اور جانی و مالی نقصان جھیل چکا ہے کہ اب وہ کسی ایسے مذہبی قضیے کو مزید برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا جو ملک کی اکثریت کی آستھا اور مذہبی وقار کا نہ صرف سمبل بن چکا ہے بلکہ اقتدار تک پہنچنے کا ایک آسان سا راستہ بن چکا ہے، جس کی مخالفت کر کے کوئی چھوٹی بڑی سیکولر پارٹی مخالفت کر کے اپنے سیاسی وجود کو داؤں پر لگانے کی ہمت نہیں کر سکتی۔ یہ ہمارے دور کی ہر چھوٹی بڑی سیکولر کہلائے جانے والی پارٹی کی سیاسی مجبوری ہے کیونکہ پچھلے چالیس پینتالیس برسوں کے دوران کچھوے کی دھیمی دھیمی رفتار سے ہندوتوا تک پہنچنے والے سفر کا ایک بڑا حصہ طے کیا جا چکا ہے اور ملک کی سیاست ہندوتوا کا پیرِ تسمہ پا بن چکی ہے۔

ہندوتوا کی پرچھائیوں میں ہی اپنا سفر جاری رکھنا پڑے گا 

ان حالات میں وقت کے پہیے کا الٹا گھومنا ممکن ہی نہیں ہے بلکہ سیکولرازم کا وہ خواب جو دستور ساز بزرگوں نے دیکھا تھا اور بھارت سیکولرازم کے علمبردار کے طورپر ابھرا تھا صرف دستور کے صفحات میں ہی محفوظ رہے گا بلکہ مستقبل میں جس طرح انسان کو کرونا کے ساتھ جینا اور رہنا پڑے گا، اسی طرح ہمارے ملک میں زندہ رہنے کے لیے ہر چھوٹی بڑی سیاسی پارٹی کو ہندوتوا کی پرچھائیوں میں ہی اپنا سفر جاری رکھنا پڑے گا۔ اس پس منظر میں ہم ہندوستانی مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی بیان بازی سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے، بلکہ ہمارا مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ مسلمانوں کے مطالباتی اور تنقیدی بیانات کو بھگوا بریگیڈ کے مسلم دشمن عناصر اکثریتی طبقے کے معصوم ذہنوں کو مسلمانوں سے متنفر کرنے کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کو دیش دروہی ٹھہرانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔ ایسے میں فیس بک اور انسٹراگرام وغیرہ پر مسلمانوں کے جذبہئ ایمانی کو ترو تازہ رکھنے اور گرمانے  کے لیے چھُت بھیّے اور گم نام قسم کے سیاسی اور سماجی خدمت گاروں کی بے تکی اور لایعنی پوسٹین مسلم دشمن عناصر کے ہاتھ اور مضبوط کرتی ہیں۔ گزشتہ دنوں جہالت اور عاقبت نا اندیشی سے مملو ایک ایسی ہی پوسٹ فیس بک پر وائریل ہوئی جس میں کسی فیس بکیے نے ترکی میں ایا صوفیہ مسجد میں تجدید نماز کی مبارکباد دیتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کو بشارت دی تھی کہ پانچ سو سال کے بعد جب ہمارا چیف جسٹس ہوگا، کوئی اردگان آئے گا یا صلاح الدین ایوبی پیدا ہوگا جو بابری مسجد کو واگزار کرائے گا۔

کوئی مردِ مومن آئے اور بابری مسجد کو واگزار کرائے 

یہ پوسٹ اپنے مشن کے لحاظ سے ہندوؤں کو مسلمانوں سے بد ظن کرنے کے لیے کافی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فسطائی اور جارحیت پرست جماعتوں کے شرارت پسند عناصر مسلمانوں کے فرضی ناموں سے اس قسم کی اشتعال انگیز پوسٹیں وائریل کرتے ہیں تاکہ اکثریتی طبقے میں مسلمانوں کے خلاف حربے کے طورپر استعمال کیا جا سکے۔ آئی ٹی آئی کی غیر معمولی ترقی کے اس دور میں ہر چیز ممکن ہے، ہو سکتا ہے مسلمانوں کے سنجیدہ طبقے کا یہ اندیشہ کسی حد تک صحیح ہو اور شرپسند عناصر ہی اس پوسٹ کے پیچھے کارفرما ہوں لیکن اب اس کا کیا جائے کہ سینکڑوں کلمہ گو فیس بکیوں نے کمنٹ کرتے ہوئے انشاء اللہ، ماشا ء اللہ اور سبحان اللہ وغیرہ لکھ کر اسے خالص مسلم پوسٹ بنا دیا،گویا مسلمان منتظر ہیں کہ کوئی مردِ مومن آئے اور بابری مسجد کو واگزار کرائے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مساجد کے تحفظ و تقدس میں غیر معمولی یقین رکھنے کے باوجود آج کا ہندوستانی مسلمان بابری مسجد کے قضیے سے ذہنی طورپر تھک چکا ہے اور اسے بھول جانا چاہتا ہے،تاکہ اس کی آنے والی نسلیں اس ذہنی خوف و ہراس میں مبتلا نہ رہیں جس سے وہ مسلسل دوچار رہا ہے، لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور اربابِ سیاست جو کل تک عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے ذہنی طورپر تیار تھے اور بہ بانگِ دہل اعلان کر رہے تھے، لیکن ’فیصلہ ہوا ہے تصفیہ نہیں ہوا‘ کا شوشہ چھوڑ کر اس قضیے کو کسی نہ کسی طورپر زندہ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ملت کی قیادت کی نکیل ان ہی کے ہاتھوں میں رہے۔

 

مسلکوں اور باہمی اختلافات کے بوجھ تلے دبی ہوئی آج کی قیادت  

ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں آج بابری مسجد کے قضیے کو شوشوں کے سہارے زندہ رکھ کر ہمہ جہت پستی اور انحطاط کی کگار پر کھڑی ہوئی اس ملت کو مزید ذہنی الجھنوں میں مبتلا کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ اس میں اعتماد بحال کرنے اور اس کے دلدّر دور کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ قیادت سراپا مخلص ہو، غیر معمولی فہم و فراست کی مالک ہو اور دیدہئ بینا رکھتی ہو۔ المیہ یہ ہے کہ مسلکوں اور باہمی اختلافات کے بوجھ تلے دبی ہوئی آج کی قیادت ان تمام اوصاف اور قائدانہ صلاحیتوں سے محروم ہے، اس مجہول قیادت کی وجہ سے مستقبل میں ایسے نہ جانے کتنے اور قضیے جنم لیں اور آنے والی نسلوں کو صرف قضیوں کی وراثت ہی ملے۔

M: 9810439067

0 comments

Leave a Reply