ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹے ہوئے یہ ہمارے اکابرینِ ملت

عظیم اختر

حرف نیم کش

گرچہ راشٹریہ سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے تھنک ٹینک نے سیاسی نظریات و خیالات اور اپروچ میں بعدالمشرقین ہونے کے باوجود ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار کے گلیاروں تک پہنچنے کے متمنی اور تھوڑی سی مسافت طے کر کے اپنا اپنا راگ الاپنے اور اپنی اپنی ڈفلی بجانے والے سیاسی حریفوں کی کھلے عام کھِلّی اڑانے اور ان کو نفسیاتی طور پر ڈیموریلائیز کرنے کے لیے ہی ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہونے کی اصطلاح وضع کی ہے، لیکن اس اصطلاح کو سن کر اور پڑھ کر ہماری نگاہوں کے سامنے مسلکوں کی کمانیں  تھامے ہوئے عمامہ پوش اکابرین ملت کی تصویریں بے ساختہ گھومنے لگتی ہیں جو مساجد کے ممبروں سے اور ملی جلسوں میں گرچہ باہمی اتحاد اور آپسی اتفاق کی برکتوں پر گھنٹوں لمبے چوڑے لیکچر دیتے ہیں اور قوم کو خدا کی رحمتوں کی نوید سناتے ہیں۔ اسلام کی پہلی ہجرت کے بعد اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیم کی روشنی میں مدینہ منورہ کے انصار اور مہاجرین کے درمیان پیدا ہونے والے اتفاق اور اتحاد کی تفصیل نہایت ہی خوبصورت لفظوں میں پیش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آج کے عام مسلمانوں میں بھی باہمی اخوت، اتحاد اور اتفاق کے وہی جذبے پیدا ہو جائیں جن کا اسلام داعی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک اکابرینِ ملت کے اس غول میں باہمی اخوت، اتحاد اور اتفاق کے الفاظ صرف زبانوں تک محدود ہیں اور عملی زندگی میں وہ ان الفاظ کا چلن تو کجا وہ تصور بھی نظر نہیں آتا جن سے پچاس ساٹھ سال پہلے کے اکابرینِ ملت کی زندگی عبارت تھی۔

اُس دور کے اکابرینِ ملت بھی گرچہ مسالک کے دائروں میں گھرے ہوئے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ قوم کے لیے سراپا مخلص تھے، صاحبِ کردار تھے اور قوم ان کے پیچھے تھی، ان صاحبِ کردار بزرگوں نے قوم کی قیادت کے لیے کسی بھی قسم کے دنیوی ہتھکنڈے کبھی استعمال نہیں کیے، لیکن ہمارے اور آپ کے ان اکابرین نے اپنے بزرگوں کی صالح روایتوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فہم و فراست اور عبقری صلاحیتوں کے فقدان کے باوجود اپنی بالادستی قائم کرنے کے جنون میں اور ہندوستانی مسلمانوں پر اپنے آپ کو تھوپنے اور مسلط کرنے کے لیے وہ تمام دنیوی ہتھکنڈے اور حربے استعمال کیے جو خالص اسلامی ماحول میں پلے بڑھے اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیم کا درس دینے والوں کے یہاں تصور بھی ممکن نہیں ہے۔

ہمارے ملک کی سیاست میں اقتدار تک پہنچنے اور اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے سیاسی پارٹیوں میں توڑ پھوڑ سے لے کر پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ممبروں کی درپردہ خریداری ایک عام سی بات ہے جس کے مظاہرے آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن اپنے ہی طبقے کے تاریخ ساز تعلیمی اور ثقافتی اداروں پر بہ زورِ بازو قبضہ کرنے کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ ہمارے علمائے دین کے ایک مخصوص طبقے نے مسلمانوں کے عطیات اور مالی تعاون سے وجود میں آنے والے تاریخ ساز تعلیمی ادارے اور ملک کی سیاسی سماجی اور ثقافتی زندگی میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی جماعت پر بہ زورِ بازو قبضہ کر کے ایک ایسی روایت کو جنم دیا جس نے عام مسلمانوں کو متحیر کر دیا کہ کیا ہمارے علمائے کرام اس حد تک بھی جا سکتے ہیں، لیکن سانحہ یہ  ہے کہ حق کی آواز بلند کرنے کا درس دینے والے اکابرینِ ملت نے اپنی مصلحتوں کے تحت اس بے لگام سینہ زوری کی کبھی کھل کر مذمت نہیں کی، جس کے نتیجے میں کلیدوں پر دنیوی ہتھکنڈے استعمال کر کے قبضہ کرنے اور اپنی بالادستی قائم کرنے کے جنون نے اور بے لگام خواہشوں نے ہندوستان کے صرف ایک ہی عالمی شہرت یافتہ دینی ادارہ کو تقسیم نہیں کیا بلکہ اس کے دیکھا دیکھی اور بھی کئی دوسرے دینی ادارے ان خواہشوں کی نذر ہو کر ٹکڑوں میں بٹ گئے، جمعیۃ العلمائے ہند جیسی تاریخ ساز تنظیم ابتدا میں بالا دستی کے انہی جذبوں کی نذر ہو کر دو تین ٹکڑوں میں بٹی اور پھر جب اقتدار اور بالا دستی نے اپنے لمبے پیر پھیلائے تو شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کی بدعتِ قبیحہ نے وہ کھل کھلائے کہ شمالی ہندوستان بالخصوص مغربی اتر پردیش اور دہلی کی مساجد کے ائمہ حضرات اور مدارسِ دینیہ کے اساتذہ کو بھی چچا بھتیجے کی ٹکڑیوں میں بانٹ دیا۔ ان ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے مساجد کے ائمہ حضرات اور مدارسِ دینیہ کے اساتذہ کا عالم یہ ہے کہ خلفائے راشدین اور صحابہئ کرام کے اسمائے گرامی سے پہلے روایتی انداز سے صرف حضرت لکھنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں لیکن دنیا پرست مربیوں کے ناموں سے پہلے عقیدت اور شخصیت پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ ادق القاب لکھتے ہیں کہ قلم بھی رکوع و سجود کی حالت میں  پہنچ جاتا ہے۔

اس عقیدت اور شخصیت پرستی نے مساجد کے ائمہ حضرات اور مدارسِ دینیہ کے اساتذہ کو ٹکڑوں میں بانٹ ہی دیا لیکن اس حقیقت پر دبیز پردہ بھی ڈال دیا کہ  اس دور کے اکابرین ملت اور علمائے کرام کو قوم کے مفاد کے مقابلے میں اپنا مفاد زیادہ عزیز ہے اور غلط کو غلط کہنے کی مومنانہ جرأت کا فقدان ہے جو ہر دور میں علمائے کرام کی پہچان رہی ہے، اگر آج کے دور کے ان علمائے کرام کے حصے میں اس مومنانہ جرأت کا عشرِ عشیر بھی آیا ہوتا تو طاقت کے زور پر قوم کی امانتیں یوں تقسیم نہ ہوتیں اور شخصیت پرستی و اندھی تقلید نائبِ رسول کہلانے اور سمجھے جانے والوں کو شاید یوں ٹکڑوں ٹکڑوں میں کبھی نہ بانٹ پاتی اور قیادت کے نام پر شخصیت پرستی کی وہ چھوٹی بڑی دکانیں کبھی نہ سجتیں جو آج ہر کھونٹ کھلی ہوئی ہیں۔ کیوں کہ جو اکابرین مصلحتوں کے تحت حق و انصاف کا ساتھ دینے سے پہلو تہی اختیار کرتے ہیں وہ عوام الناس کی نگاہوں میں اس طرح اپنا وزن کھو دیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ان اکابرین نے پچھلے تیس چالیس برسوں میں حق و انصاف کا ساتھ نہیں دیا اور سچ کو بھولے سے بھی زبان پر نہیں لاتے وگرنہ تعلیمی اور ثقافتی اداروں کی شکل میں قوم کی امانتوں کی یوں تقسیم نہ ہوتی اور نہ نیک و صاحبِ کردار امانت کے یہ ورثاء اس طرح ٹکڑوں میں بٹ پاتے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ حق و انصاف کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو تاریخ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ مسجد کے حجرے میں تھے یا طوائف کے کوٹھے پر۔ تاریخ محاسبہ کرتی ہوئی کسی کو معاف نہیں کرتی۔

M: 9810439067


 

 

0 comments

Leave a Reply