کیا آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے معنیٰ صرف اظہار تشویش ، اظہار افسوس ، اظہار اطمینان ، حیرانی ،اپیل اور مذمت ہے ؟

ہمارا کام ہے سوال پوچھنا اور سوال اسی سے پوچھا جائے گا جو اہل مسند ہوگا

 

اشرف علی بستوی

گزشتہ ہفتے  آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کی اطلاع بذریعہ پریس ریلیز موصول ہوئی ،جسے ہم نے ایشیا ٹائمز میں اہتمام سے شائع  کیا ۔ لیکن پریس ریلیز کے سلسلے میں چند باتیں جو میں نے نوٹ کی ہیں اسے آپ  قارئین تک  پہونچانا ضروری سمجھتا ہوں ۔

 طویل عرصے بعد آنے والی اس اپڈیٹ میں ملکی و بین الا قوامی واقعات پر اظہار تشویش ، اظہار افسوس ، اظہار اطمینان ، حیرانی ،اپیل  ، مذمت اور انیس دررانی کی رکنیت کے خاتمے کا اعلان تو ملا لیکن موجودہ حالات میں مشاورت اپنا کوئی عملی ایجنڈہ پیش کرنے میں ناکام رہی ہے ۔

 پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ " اجلاس میں ملک کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو اور اہم تجاویز پاس ہوئیں ہیں "۔ لیکن پاس کی گئیں وہ تجاویز کیا ہیں ؟ اس کا کوئی ذکر نہیں ملا  ۔

مشارت کی مجلس عاملہ کی میٹنگ 

 اگلے روز یہ جاننے کے لیے جب میں نے صدر مشاورت سے ملاقات کی تو اس سوال کو پہلے تو ٹالتے رہے پھر کہہ  گئے  کہ آپ  جو لکھنا چاہیں لکھیں ، میں نے ان کے لہجے میں بے چارگی اور مایوسی نوٹ کی ہے ۔ اس مایوسی کی وجہ کیا ہے اس پر تو میں کوئی تبصرہ اپنے طور پر نہیں کر سکتا ۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ  حالات چاہے جیسے بھی ہوں ، صدر مشاورت کے سامنے داخلی اور خارجی چیلنج جو بھی ہوں انہی حالات میں کام کرنا ہے ۔ یہی مشاورت کے دستور کا  بھی تقاضا ہے ۔

قارئین  کو شاید یاد ہو نوید حامد صاحب  کی پہلی میقات کے پندرہ ماہ ہونے پر ایشیا ٹائمز نے ایک سروے اسٹوری کی تھی ،جس میں ہم نے متعدد ریاستوں کے ذمہ داران سے بات کی مشاورت کے کام کے تعلق سے  کافی مثبت رائیں موصول ہوئی تھیں ، وہ لوگ بھی کام کی تعریف کرتے دیکھے گئے جن سے  نوید صاحب نے الیکشن لڑا تھا ۔ چارج سنبھالنے کے بعد سرگرمیاں جب شروع ہوئیں تو لوگوں میں نئی امید پیدا ہوئی تھی ، لیکن وقت کے ساتھ یہ اعتماد بری طرح مجروح ہوا۔ اس کے جو بھی اسباب گنوائے جائیں اسے مشاورت کی ناکامی ہی کہی جائے گی ۔

ابھی بھی وقت ہے ، رواں میقات میں ابھی پندرہ ماہ ہیں مشاورت کے  صدر دستور کی روشنی میں عملی ایجنڈہ ترتیب دیں اور کام شروع کریں، یہاں میں صدر مشاورت  کا ایک جملہ دہرانا چاہوں گا  جو انہوں نے چارج سنبھالنے کے پہلے روز منعقد تقریب میں کہا تھا " مشاورت مختلف الخیال لوگوں کی جماعت تھی جو وقت کے ساتھ ہم خیالوں کی جماعت میں تبدیل ہوگئی اسے دوبارہ واپس اپنی بنیادوں پر لانا میری اولین ترجیح ہوگی " ۔

  ذرائع سے موصول اطلاع کے مطابق مشاورت میں شامل دو تنظیموں کو الگ کر دیا گیا ہے ،ایک تنظیم کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ اس نے کئی برسوں سے اپنی سالانہ فیس ادا نہیں کی تھی ، دوسری تنظیم کو اس لیے باہر کردیا گیا کہ اس نے اپنے یہاں غیر مسلم ممبر شامل کیے ہیں ان کا یہ عمل مشاورت سے دستور سے میل نہیں کھاتا ۔ مشاورت میں 16 تنظیمیں تھیں اب 14 رہ گئی ہیں ۔ بہر حال ہمارا کام ہے سوال پوچھنا اور سوال اسی سے پوچھا جائے گا جو اہل مسند ہوگا ۔

 

مضمون نگار سے رابطہ

ashrafbastavi@gmail.com

9891568632

 

0 comments

Leave a Reply