فلاحی اور تعمیری کاموں کے لیے مسجد کے دروازے بند کرکے مسلمانوں نے مسجد کی اہمیت، مرکزیت اور جامعیت کم کردی

عظیم اختر

 

اسلام دنیا میں پھیلے ہوئے درجنوں چھوٹے بڑے دھرموں، متوں، مذہبوں اورادیان کی طرح چند فرسودہ رسوم ورواج کا نام نہیں ہے، بلکہ بنی نوعِ انسان کو کفر وشرک کی ضلالتوں اور ظلمتوں سے نکال کر صراطِ مستقیم اور نورِ ہدایت دکھانے والا وہ آخری اور سرمدی دین اور ایک ایسا مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے جو عام انسانوں کی نجی و خانگی زندگی کے تمام تر مسائل اور ان کی جزئیات سے لے کر سیاسی، سماجی، اقتصادی، دینی، تعلیمی اور معاشی امور میں بھرپور رہنمائی کرتا ہے تاکہ عدل وانصاف اور مساوات کی روشنی ہر گھر میں پہنچے اور ایک بہتر، صالح اور صحت مند معاشرہ وجود میں آئے۔ یہ اسلامی احکام وتعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے جس کی جھلکیاں دوسرے مذاہب اور دھرموں میں بہ مشکل نظر آتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے مذاہب اور دھرموں میں معبدوں اور عبادتوں کو صرف مذہبی تقدس حاصل ہے، جہاں دیوی دیوتاؤں کی صرف پوجا کی جاتی ہے اور یہ عبادت گھر اور معبد اپنے شردھالوؤں(عقیدت مندوں) کی سماجی، معاشی، تعلیمی یا اقتصادی زندگی میں کوئی اہم رول ادا نہیں کرتے۔اِس کے بر عکس اسلام میں مسجد کا قیام صرف پنچ وقتہ نمازوں اور اورادووظائف کی ادائیگی کے لیے ہی نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

خاتم النبیّن حضور اکرم  ؐ جب ہجرت کرکے اپنے  چند صحابہؓ کے ساتھ مدینہ تشریف لائے اور اسلام اپنی حقانیت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے لگاتو رسولِ خداﷺ نے سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کی طرف توجہ دی جو بظاہر نماز کی ادائیگی کے لیے ایک مسجد تھی، مگر در حقیقت رسولِ خدا ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے اور پیغام ِ حق سے اپنی زندگیوں کو سنوارنے والوں کو مجتمع کرنے اور نو مولود حکومت کی شیرازہ بندی کرنے کا ایک مرکزتھا، جہاں سے ان ننھی سی ریاست کا سارا نظام چلایا جاتا تھا اور پیغام ِ حق کی تبلیغ کرنے، دعوت دینے اور اسلام مخالف عناصر سے لوہا لینے کے لیے مختلف قسم کی مہمّا ت روانہ کی جاتی تھیں۔ مسجد کی شکل میں یہ ایک یونیورسٹی تھی جس میں پیغام ِ حق کو حرزِ جاں بنانے والے اسلامی تعلیمات و ہدایات کا درس حاصل کرتے تھے۔ایک صالح اور صحت مند معاشرے کو تشکیل دینے والی ایک ایسی محفل تھی جہاں مدتوں جاہلی کشاکش و نفرت، بغض و حسد اور ہمہ وقت خوں ریزی اور باہمی جنگ و جدل سے دوچار رہنے اور اس پر فخر کرنے والے قبائل اپنے ماضی اور اُس کی خوں آشام یادوں کو بھول کرتعلیماتِ نبویؐ کے زیر اثر ایک صالح اور مہذب سانچے میں ڈھلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے دینی اخوت اور یگانگت کی وہ تفسیر بن گئے جو وقت کے ساتھ مسلم معاشرے کی پہچان بن گئی۔دینِ حق کی تبلیغ و اشاعت اور عسکری فتوحات نے مسلمانوں کی اس پہلی مسجد کو ایک پارلیمنٹ کی شکل دے دی تھی، جہاں مجلسِ شوریٰ اور مجلسِ انتظامیہ کے اجلاس منعقد ہوا کرتے تھے۔مسلمانوں کے باہمی مسائل اور تنازعات احکامِ خداوندی کی روشنی میں فیصل کیے جاتے تھے۔ تعلیم کی اہمیت اور اشد ضرورت کے پیشِ نظر حضورِ اکرم ؐ نے جنگِ بدر کے پڑھے لکھے اسیروں کو مسلمان بچوں کو تعلیم دینے کا فرمان یہیں سے دیا تھا۔

اسلام کی اس اوّلین مسجد نے مسلم معاشرے میں مسجد کی اہمیت اور اس کے ہمہ جہتی افادی پہلوؤں کی بہت واضح طور پر نشان دہی کر دی تھی، تاکہ دینی اور دنیوی معاملات میں مسلم معاشرہ صرف مسجدہی سے وابستہ رہے اور مسجد کی مرکزیت اور جامعیت ہر دَور میں قائم رہے، لیکن جب اسلام عرب کے ریگستان سے نکل کر دُوردراز مقامات تک پہنچا تو مسجد کی مرکزیت اور جامعیت دھندلانے لگی اور آج وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسلامی ملکوں،مسلم بستیوں اور کلمہ گو افراد کے محلّوں میں مسلکوں کی چھوٹی بڑی مسجدوں کی کثرت اور ’ ہم چوں ما دیگرے نیست‘ جیسے خودفریبانہ نظریوں نے مساجد کو خیموں میں تقسیم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مسجد کی مرکزیت اور جامعیت مکمل طور پر گہنا گئی ہے۔ اور پھر مسجد کی مرکزیت اور جامعیت کیا گہنائی کہ مسلم معاشرے میں مسجد کی اہمیت اور اس کی افادیت کا احساس بھی ہوا ہو گیا۔ مسلم بستیوں اور محلوں میں بیشتر مساجد صرف نماز کے وقت ہی آباد نظر آتی ہیں۔نماز کے اوقات کے علاوہ ان مساجد کے دروازے دوسرے مذاہب اوردھرموں کے معبدوں اور عبادت گاہوں کے دروازوں کی طرح ہمیشہ بند ہی ملتے ہیں۔جبکہ نمازِ فجر کے بعد صبح سے ظہرکے وقت تک ان مساجد کو علاقے کے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لیے بہ آسانی استعمال کیا جا سکتاہے،تاکہ عام مسلمانوں میں روز مرہ کی زندگی میں نماز کے اوقات کے علاوہ بھی مسجد کی اہمیت اور اس سے وابستگی کا احساس قائم رہے اور مساجد صرف پنچ وقتہ نماز کی ادائیگی کے لیے مخصوص ہوکر نہ رہ جائیں۔ مساجد کو نماز کے علاوہ اُ مّت کی تعلیمی ضرورت اور دوسرے دنیوی مقاصد کے لیے یقینا استعمال کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہیے، لیکن اس کے لیے اس خلوص اور وِژن کی ضرورت ہے جو بدنصیبی سے ہماری مساجد کے متولیوں اور منتظمہ کمیٹی کے ذمہ داروں کو چھوکر بھی نہیں گزرتا۔ ویسے بھی مسلکی دھند سے آلودہ تنگ نظر ذہنوں سے اُمّت محمدیہ کو فیض پہنچانے والے اس قسم کے فلاحی کاموں کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ملک کے چھوٹے بڑے ریاستی وقف بورڈوں کے زیر انتظام و انصرام سیکڑوں مساجد آتی ہیں، جن کو پنچ وقتہ نمازوںکے علاوہ منصوبہ بندی اور ایک مربوط نظام کے ساتھ اُمّت کی ہر سطح کی تعلیمی ضروریات اور دوسرے دنیوی مقاصد کے لیے بہ آسانی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ قوم کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پستی کے غم میں گھلنے والے مسلم معززین ریاستی وقف بورڈ کا ممبر بننے اور اس کے عہدوں پر شبِ خون مارنے کے بعد وقف اراضی کو کرائے پر دینے اور رسیدیں کٹوانے پرہی اپنی تمام تر توجہ مرکوز کردیتے ہیں اور اُمّت کی فلاح وبہبود کے منصوبے فنڈ کی کمی کی وجہ سے صرف فائلوں میں گھومتے رہتے ہیں۔لیکن اخبارات میں مِلَّت کو بورڈ کی آمدنی میں اضافے کا مژدہ ضرور سنایا جاتا ہے۔

بہر حال ہر ریاستی وقف بورڈ کے ذمہ دارحضرات مِلَّت کو اس قِسم کے مژدے تو سناتے ہی رہیں گے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وقف بورڈ کے باشعور اور فہم فراست رکھنے والے ذمہ دار حضرات بورڈ کے زیرِ انتظام وانصرام مساجد کو پنچ وقتہ نماز کے علاوہ مِلَّت کی تعلیمی ضرورت اور اسی قسم کے دوسرے فلاحی مقاصد میں استعمال کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے پیش رفت کریں تو وہ تمام روایتیں یقینا تازہ ہو جائیں گی جنھوں نے آج سے چودہ سو سال قبل اسلام کی پہلی مسجد میں جنم لیا تھا اور اسلامی معاشرے کو مسجد کی مرکزیت، جامعیت اور اہمیت سے روشناس کرایاتھا۔ورنہ نماز کے اوقات کے علاوہ مساجد کے دروازے بھی دوسرے مذاہب اور ادیان کی عبادت گاہوں اور معبدوں کے دروازوں کی طرح بند ہی نظر آئیں گے اور آنے والی نسلوں میں مسجد کی مرکزیت،اجتماعیت اور اہمیت کا احساس پیدا نہیں ہوگا اور مسجد صرف پنچ وقتہ نمازوں کی ادائیگی کے لیے مخصوص ہوکر رہ جائے گی۔

فون نمبر: 09810439067

0 comments

Leave a Reply