ہندوتوا کے یہ علمبردار، جن کی اکثریت مذہبی رواداری اور حسنِ سلوک کے مبادیات سے بھی واقف نہیں ان سے خیر کی توقع رکھنا فضول ہے

حرف نیم کش

 

عظیم اختر

ملکوں اور قوموں کے عروج و زوال بالخصوص مسلم فرمانرواﺅں کی تاریخ اور احوال قلمبند کرتے ہوئے مورخوں نے اس پہلو کو ہمیشہ دیدہ و دانستہ نظر انداز کیا ہے لیکن یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ مسلمان بادشاہوںنے جب بھی اپنی سلطنت کی جغرافیائی حدود کو بڑھانے کے لیے اڑوس پڑوس یا دور دراز کے علاقوں پر فوج کشی کی اورا پنی شجاعت، دلیری، عزم اور لشکری طاقت سے فتح حاصل کی تو فتح کیے ہوئے علاقوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے یا قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کی بجائے وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ رواداری اور حسنِ سلوک کر کے ان روایتوں پر سختی سے عمل کیا جس کا حکم ہادیِ برحق حضورِمقبول نے غزوات اور سرایا کے موقعوں پر ہمیشہ اسلامی لشکر کو دیا اور شکست خوردہ قوموں کے عبادت گھروں و معبدوں کو توڑنے ، عورتوں ، بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے بہیمانہ انسانیت سوز سلوک نہ کرنے کی سختی سے تلقین کی۔ یہی وجہ ہے کہ طاقتور اور مطلق العنان مسلم بادشاہوں نے اپنے تمام کرو فر کے باوجود مفتوحہ علاقوں کے مقامی باشندوں کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک کیا بلکہ ان کے عبادت گھروں، معبدوں اور ان کے تمام تر مذہبی اور سماجی رسم و رواج کا احترام کرتے ہوئے ایک فاتح کے طورپر رواداری اور انسانیت نوازی کی وہ روایتیں قائم کیں جن کا اس دور کے طاقتور حکمرانوں کے یہاں کوئی تصور بھی نہیں تھا اور مفتوحہ و مقبوضہ علاقوں کی آبادی کو بھیڑ، بکریوں کے ریوڑ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی، لیکن یہ حکمِ نبوی کا اعجاز ہی تھا کہ مسلمانوں کے قدم جہاں پڑے وہاں رواداری اور حسنِ سلوک نے ویرانوں کو گلزار بنا دیا اور ان علاقوں کے دبے کچلے ہوئے انسانوں کو پہلی بار انسانی مساوات کا احساس ہوا۔

فاتحین عام طورپر مقبوضہ اور مفتوحہ علاقوں کو اپنا وطن کبھی نہیں بناتے، نائبین کے ذریعے اپنا اقتدار برقرار سمجھتے ہیں اور اس اقتدار اور تسلط کا برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کے ظلم و تشدد کو روا رکھتے ہیں، جس کی مثال ہندوستان پر انگریزوں کے سو ڈیڑھ سو سالہ دورِ حکومت کی ہے جس میں انگریزوں نے ہندوستان کو اپنے وطن کے طورپر کبھی نہیں اپنایا صرف برطانوی سامراج کی ایک نو آبادی ہی سمجھا اور یہاں کے باشندوں کوUndeclared Slavesسے زیادہ کبھی کوئی اہمیت نہیں دی، اس کے برعکس جب مسلم بادشاہوں بالخصوص مغلوں نے اپنی مملکت کی جغرافیائی حدود کو بڑھانے کے لیے ادھر کا رخ کیا تو تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت بر اعظم ایشیا کا سب سے بڑا ملک درجنوں چھوٹی بڑی کمزور ریاستوں اور رجواڑوں میں بٹا ہوا تھا، جن کے سربراہ پُر تعیش زندگی گزار رہے تھے۔ سماج چار طبقوں میں منقسم تھا اور اس سماجی تقسیم کو مذہبی سرپرستی حاصل تھی،جس نے نچلے طبقے کے لوگوں کی اکثریت کو عزتِ نفس سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا تھا۔

آج اس دور کے راجے، مہاراجوں کی تعریف و توصیف اور گن گان میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں، ان کی شجاعت، دلیری، لشکری قوت اور طرز حکومت کے بارے میں دفتر کے دفتر قلمبند کیے جا رہے ہیں تاکہ اس زمانے کی عوامی محرومیوں اور سماجی عدم مساوات کو مذہبی اور جذباتی لبادہ پہنا کر مسلم بالخصوص مغل فرمانرواوں کے دورِ حکومت کی تاریخی سچائیوںکو مسخ کرکے ان مسلم بادشاہوں کو حملہ آور اور غیر ملکی ثابت کیا جا سکے۔ جنھوں نے اس سرزمین کو فتح کر کے اپنے مولد کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا اور جان و دل سے یہیں کے ہو رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب مسلمان بالخصوص مغل بادشاہوں نے یہاں فتوحات کی تاریخ رقم کرنی شروع کردی، راجے مہاراجوں اور رجواڑوں نے تیزی سے ہتھیار ڈالنے شروع کر دیے۔ اس وقت تک وہ فاتحین یقینا حملہ آور اور اجنبی تھے کیونکہ ان کی تہذیب و تمدن ، زبان، معاشرہ، رہن سہن، مذہب غرضیکہ ہر چیز مختلف تھی، لیکن ان تمام تضادات کے باوجود جب ان اجنبی فاتحین نے اس سرزمین اور یہاں کے عوام سے اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ کر کے یہیں مستقل ڈیرے ڈال دیے اور سماجی و مذہبی روایتوں اور قدروں کے حامل سماج میں رواداری اور احترامِ آدمیت کی جوت جلائی تو چند ہی ماہ و سال میں ان فاتحین اور یہاں کے عوام کے درمیان اجنبیت اور حملہ آور ہونے کی دیوار ٹوٹ گئی۔ اجنبیت کی دیوار ٹوٹنے کی اصل وجہ مسلم فرمانرواوں اور بالخصوص مغل حکمرانوں کا اپنے عوام کے ساتھ اپنائیت کا وہ رشتہ تھا جو انھوں نے ہمیشہ رو ا رکھا۔ یہ مسلم فرمانرواوں کی مذہبی رواداری ہی تھی کہ انھوں نے یہاں کے باشندوں کے معبدوں کا نہ صرف احترام کیا بلکہ ان کے مذہبی اور سماجی رسم و رواج پرمطلق العنانی کے تکبر اور طاقت کے نشے میں کبھی پابندیوں کی پرچھائیاں نہیں پڑنے دیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اس دور کے مسلم بالخصوص مغل فرمانروا یہاں کے عوام کے مذہبی اور سماجی رسم و رواج اور تیوہاروں پرDirectیا Indirectپابندیاں عائد کرتے اور یا مذہبی روادری کا بھرپور ثبوت نہ دیتے تو شاید ہندوستان میں مسلم فرمانرواوں کا دورِ حکومت چھ سات صدیوں کا سفر نہ کرتا بلکہ ابتدا کے چند ہی دہوں میں ختم ہو جاتا۔مسلم فرمانرواوں کے اس دورِ حکومت میں جب یہ ملک کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک اکھنڈ بھارت کے روپ میں ابھرا، اس دور کو ہندوستان کی تاریخ کا سنہری دور تو کہا جاتا ،آج سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اس دور کو تاریخ کا ایک دھبہ قرار دینے اور اس دور کی تاریخی یادگاروں کو مسخ کرنے کی منظم طریقے سے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں اور آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں وہ بھارت آباد کرنا چاہتے ہیں جہاں شودر ہونے کے جرم میں اس ملک کی ایک خاصی بڑی آبادی کو ظلم و تشدد کا شکار بنانے کا چلن عام تھا۔ شودروں اور کمزور طبقے کے لوگوں پر ملک بالخصوص اتر پردیش کے چھوٹے قصبوں اور دیہات میں اس ظلم و تشدد اور بربریت کی باز گشت آج بھی اکثر سنائی دیتی ہے۔

یہ ایک سانحہ سے کم نہیں کہ اس ملک کے مذہبی تنگ نظری اور تعصب کی گود میں پلے بڑھے اور ہوش سنبھالے ہوئے فسطائی عناصر کے مسلم دشمنی کے جذبات فرقہ وارانہ فسادات اور ماب لنچنگ کی شکل میں اکثر پھوٹتے ہی رہتے ہیں، جن کا کانگریس جیسی سیکولر پارٹی بھی اپنے طویل دورِ حکومت میں کوئی تدارک نہیں کر سکی، ہزارہا فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی بجائے کانگریس کے سیکولر اور نام نہاد مسلم دوست نیتاوں نے اخباری بیانات دے کر صرف لیپا پوتی کی لیکن اب ذہنوں میںبسی ہوئی مسلم منافرت ہیٹ مغل کا روپ دھار کر ہر سطح پر کھل کر سامنے آگئی ہے۔ بھگوا بریگیڈ کے چتُر سیاستدانوں نے مسلم منسافرت کو ہیٹ مغل کا روپ صرف اس لیے دیا ہے تاکہ بھارت کے ان نئے حکمرانوں پر عالمی برادری میں مسلم منافرت یا مذہب بےزاری کا الزام عائد نہ ہو سکے اور مغل بادشاہوں اور ان کے دورِ حکومت میں کیڑے نکال کر در پردہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم ہوتا رہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ بھگوا بریگیڈ نے مغل دورِ حکومت اور مغل فرمانرواوں کو مسلم منافرت کا استعارہ بنا لیا ہے تاکہ مغل فرمانرواوں کے ناموں کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں بسی ہوئی مسلم منافرت کی چنگاریاں ماند نہ پڑ جائیں۔

اتر پردیش میں مسلم ناموں سے صدیوں پرانے شہروں کے نام بدلنے اور شدھی کرن کرنے کی بدعت تو بھارت کی پردھان منتری بننے کی خواہشمند بہوجن سماج پارٹی کی حرفِ آخر مایاوتی جی نے مکھیہ منتری کا عہدہ سنبھالتے ہی شروع کی تھی تاکہ جنگِ آزادی میں حصہ لینے والے ان کے سماج کے مجاہدوں کے نام پردہ گمنامی میں نہ رہ جائیں، اس جذبے کے پیچھے اور اس کے محرکات پر بحث و مباحثہ کیا جا سکتا ہے لیکن اتر پردیش کے مکھیہ منتری جس جذبے کے ساتھ ریلوے اسٹیشنوں کے نام بدل رہے ہیں اور مغلیہ دور کی تاریخی یادگاروں کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اس کو اسلام بے زاری اور مسلم منافرت کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ کیا المیہ ہے بھارت کی سب سے بڑی ریاست کا مکھیا صرف تنگ نظری اور مذہبی تعصب کو زندہ رکھنے کے لیے زندگی کی اس بڑی حقیقت کو حلق سے اتار نے کے لیے تیار نہیں کہ اگر کوئی قبیلہ نقلِ مکانی کر کے کسی دوسرے ملک میں آباد ہو جائے یا کوئی فاتح حکمراں اپنے مفتوحہ علاقوں کو اپنا مستقلاً مستقر بنا لے تو اسے Invederنہیں کیا جاتا، لیکن اترپردیش کے مکھیا جی اپنی بیمار ذہنےت کا ثبوت دیتے ہوئے صدیوں پُرانے ان فاتحین کو جنھوں نے یہاں فتح کا پرچم گاڑ کر کبھی بھولے سے بھی اپنی جڑوں کی طرف رخ نہیں کیا اور یہاں کے عوام کو مذہبی رواداری اور باہمی اخوت و ہم آہنگی کے ساتھ جینے کا شعور عطا کیا، ان کو غیر ملکی اور حملہ آور قرار دے کر نہ جانے کون سی دیش سیوا کر رہے ہیں اور کس کے حب الوطنی کے جذبات جتا رہے۔ شاید موصوف کے یہاں ریلوے اسٹیشنوں ، شہروں کے نام بدلنا اور مسلم حکمرانوں کی تاریخی یادگاروں کو مسخ کرنا ہی بھارت سے محبت کرنا اور سماج کے ایک مخصوص طبقے کے خلاف عوام کے ذہنوں میں تنگ نظری اور تعصب کے بیج بونا ہی حب الوطنی کا نام ہے ورنہ موصوف آگرہ میں تاج محل کے قریب زیرِ تعمیر مغل میوزیم کو شیوا میوزیم کا نام دیتے ہوئے مغلوں کو حملہ آور قرار ہوتے ہوئےIndirectlyہندوستانی مسلمانوں کی یوں دل آزاری نہ کرتے۔

مسلمانوں کو براہِ راست یا بالواسطہ یوں کچوکے لگا کر ذہنی انتشار میں مبتلا کرنا فسطائی ذہن اور جارحیت عناصر کا ایک آزمودہ حربہ ہے جو دیدہ و دانستہ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مسلمان شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کریں اور مسلمانوں کے اس شدید ردِ عمل کو فرقہ پرستی کا رنگ دے کر اکثریتی طبقے کے سادہ لوح اور معصوم ذہنوں کو متاثر کیا جا سکے اور تنگ نظری و مذہبی تعصب کی چنگاریاں دھیرے دھیرے سلگتی ہی رہیں۔ جن کو عوامی انتخاب کے موقع پر کیش کیا جا سکے۔ موصوف کا زیرِ تذکرہ بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کی مخالفت اور مذمت میں مسلم دانشوروں، مفکروں کے ہی نہیں بلکہ ہمہ شما کے با تصویر بیانات اردو اخبارات کی زینت بن رہے ہیں، کوئی مکھیا جی کو مغل دورِ حکومت کی تاریخ پڑھنے کا مشورہ دے رہا ہے تو کوئی دستورِ ہند کا مطالعہ کرنے کا صور پھونک رہاہے۔ ان با تصویر اخباری بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اپنی پستی و زبوں حالی سے کوئی علاقہ نہیں ہے، وہ صرف اس قسم کے لایعنی اور لچر بیانات کا نوٹس لینے اور پھر مذمتی و مخالفانہ بیانات جاری کرنے کے لیے ہمہ وقت قلم بہ دست رہتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بھگوار بریگیڈ کے نیتاوں اور ہندوتو کے علمبرداروں میں ایسے نیتاوں اور بڑبولوں کی کمی نہیں جو مذہبی رواداری، حسن سلوک اور احترامِ آدمی کے مبادیات سے بھی واقف نہیں ہیں اس لیے ان سے مذہبی رواداری، حسنِ سلوک اور خیر کی توقع رکھنا فضول ہے۔ لیکن مسلمانوں میںبیان بازی کا شوقین اور عادی طبقہ شاید اس حقیقت کو کبھی سمجھ نہ پائے۔

رابطہ ؛ M: 9810439067

 

0 comments

Leave a Reply