ممبئی ہائی کورٹ کا یہ اہم فیصلہ : امیر جماعتِ تبلیغ کی یہ مصلحت آمیز خاموشی کب ٹوٹے گی؟

حرف نیم کش

 

عظیم اختر

 

                تبلیغی جماعت اور کرونا وائرس کے حوالے سے گزشتہ راجیہ سبھا میں حکومت کی طرف سے دیے گئے ایک بیان کی روشنی میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر حقائق کو توڑ مروڑ کراور الیکٹرانک میڈیا کی پھیلائی ہوئی فیک نیوز کو بنیاد بنا کر ہندوستانی مسلمانوںکو کسی نہ کسی بہانے حاشیہ پر کھڑا کرکے ان کو ڈی گریڈ کرنے اور ذہنی ہیجان میں مبتلا کرنے کا یہ مسئلہ یونہی جاری رہا تو دس بیس سال کے بعد ہی نہیں اگلے چند سالوں میں اسکولوں میں سوشل اسٹڈیز کے مضمون میں بچوں کو پڑھایا جائے گا کہ” اب سے چند سال پہلے دنیا میں کرونا وائرس کی شکل میں مہاماری پھیلی تھی، جس میں دنیا کے بہت سے ملکوں کے لوگ مارے گئے۔ ہمارے ملک میں چونکہ گﺅماتا کے پوتر موت سے گھروں، دکانوں اور کارخانوں میں چھڑکاو کیا جاتا ہے، جس سے ایسی بیماریاں نہیں پھیلتیں، اس سے اتیرکت ہمارے یہاں ایسی مہاماریوں سے بچنے کے لیے تھالیاں، پلیٹیں آدی بجانا اور رات کو گھروں کے باہر دیپ جلانا پراچین کال کی ایک دھارمک پرمپرا ہے جس سے ایسی مہاماری کا ناش ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک کے پردھان منتری نے بھارت کے نواسیوں سے اس پرمپرا پر عمل کرنے کو کہا اور سارا ملک تھالیاں، پلیٹیں وغیرہ بجانے کی آوازوں سے گونج اٹھا اور ملک کا ہر چھوٹا بڑا قصبہ اور شہر روشنی سے جگمگا اٹھا، کرونا جسے ورلڈ ہیلتھ آرکنائزیشن نے کووڈ۔19 کا نام دیا ہے شاید ہمارے ملک میں نہ پھیلتا پرنتو دہلی میں تبلیغی جماعت کے سالانہ جلسے میں بھاگ لینے کے لیے ایسے بہت سے ملکوں کے لوگ آئے جہاں کرونا وائرس پھیلا ہوا تھا، جس کے کارن یہاں کے سینکڑوں لوگ کرونا وائرس سے پربھاوِت ہوئے۔ تبلیغی جماعت ایک دھارمک سنستھا ہے جس کے ماننے والے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، اس سنستھا کے لوگ دنیا بھر میں اسلام کا پرچار کرتے ہیں اور دوسرے دھرم کے لوگوں کو دھرم پریورتن کی دعوت دیتے ہیں۔ ہمارے ملک کسی دوسرے دھرم کی ایسی کوئی سنستھا نہیں ہے جو یوں کھلے عام اپنے دھرم کا پرچار کرتی ہو اور دھرم پریورتن کی دعوت دیتی ہو۔ تبلیغی جماعت کے اس وارشک جلسے میں بھاگ لینے کے لیے آنے والوں کی وجہ سے سینکڑوں لوگ کرونا وائرس سے پربھاوِت ہوئے اور یہ مہاماری ہمارے ملک میں پھیلی۔“

 

تبلیغی جماعت کے سالانہ جلسے کے نام پر کرونا وائرس کے پھیلنے کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پر پھوڑتے ہوئے اسکول کے بچوں اور عام لوگوں کو یہ کبھی نہیں بتایا جائے گا کہ تبلیغی جماعت کے سالانہ اجتماع سے چند دن پہلے گجرات میں نمستے ٹرمپ کے بینر تلے منعقد کی جانے والی ایک زبردست ریلی میں شرکت کرنے کے لیے امریکہ کے مہاراج دھیراج ڈونالڈ ٹرمپ ڈیڑھ دو ہزار افراد پر مشتمل اپنے لاو


¿ لشکر کے ساتھ گجرات بھی آئے تھے اور ان دنوں امریکہ کا ہر چھوٹا بڑا شہر کرونا وائرس سے بُری طرح متاثر تھا اور کرونا سے متاثر لاکھوں افراد ہسپتالوں میں موت و زیست کی جنگ لڑ رہے تھے۔

 

 

کرونا سے بری طرح متاثر امریکہ کے کئی ہزار افراد پر مشتمل صدرِ امریکہ کے قافلے نے پہلے گجرات اور پھر دہلی میں کیا قدم رکھا کہ یہ وائرس امر بیل کی طرح پھیل گیا۔ ٹرمپ مہاراج دھیراج کے لاو


¿ لشکر کے ساتھ کرونا وائرس کا بھارت میں پہنچنے اور پھیلنے کے امکانات کو کسی بھی حالت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان امکانات کو زبان پر لانے کی ہمت کس کو ہو سکتی تھی، چنانچہ ہمارے حکمرانوں نے امریکی قافلے کی آمد کو اس طرح بھلا دیا گویا ٹرمپ صاحب اور ان کے قافلے نے گجرات اور دہلی کی سرزمین پر قدم بھی نہ رکھا ہو۔ لیکن جب اس وبا نے تیزی سے پیر پھیلائے اور ملک گیر پیمانے پر لاک ڈاون کے ساتھ تبلیغی جماعت کے سالانہ اجتماع اور مرکز میں پھنسے ہوئے ہزاروں ملکی و غیر ملکی شرکاءکا معاملہ سامنے آیا تو’ برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر‘ کے مصداق حکومتِ ہند کے ڈھنڈورچی الیکٹرونک میڈیا نے تبلیغی جماعت کے مرکز کو کرونا وائرس کا مرکز قرار دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی اور من گھڑت اور فیک نیوز کا وہ طومار باندھا اور ایسا صور پھونکا کہ پورے ملک میں سرپر ٹوپی اور چہرے پر داڑھی والا ہر شخص کرونا کا چلتا پھرتا جرثومہ نظر آنے لگا۔مذہبی تعصب اور تنگ نظری کی گود میں پروردہ عناصر کھل کھیلنے لگے۔اتر پردیش اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں کرونا پھیلانے کے الزام میں تبلیغیوں اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ اس قسم کے امراض پھیلائے نہیں جاتے بلکہ غیر محسوس طریقے سے خود بخود پھیلتے ہیں، لیکن یہاں کے الیکٹرونک میڈیا نے اقتدار میں بیٹھے ہوئے اپنے آقاوں کو خوش کرنے اور حقِ نمک ادا کرنے کے لیے سرکار کی ناقص پالیسیوں اور انتظامی کوتاہیوں پر نہ صرف پردہ ڈال دیا بلکہ اس موذی مرض کے پھیلنے کی تمام تر ذمہ داری تبلیغی جماعت کے پیروکاروں کے نام پر مسلمانوں پرڈال دی۔ اتر پردیش کے مکھیہ منتری جی مہاراج ہمیشہ ایسے ہی موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں، جہاں مسلمان کٹہرے میں کھڑا ہوا نظر آئے۔ چنانچہ موصوف نے پہلی فرصت میں ایک آرڈیننس جاری کر کے اس قسم کے موذی امراض پھیلانے والوں کو تاعمر جیل میں رہنے کا انتظام کر دیا تاکہ کرونا پھیلانے والے تبلیغیوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا جا سکے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست کے مکھیا کو اس موٹی سی حقیقت کا بھی علم نہیں کہ اس قسم کے موذی مرض کا نظر نہ آنے والا وائرس پھیلایا نہیں جا سکتا بلکہ یہ خود بخود پھیلتا ہے، کرونا بھی ایک ایسا ہی وائرس ہے جو نظر نہیں آتا، گہری جانچ پڑتال اور متعدد ٹیسٹوں کے بعد ہی اس کا پتہ چلتا ہے۔ کرونا پھیلانے کے الزام میں تبلیغیوں اور ان کے ہمدردوں کوسلاخوں کے پیچھے بھیجنے والے مکھیا نے ایک انسان کے طورپر یہ سوچنے کی آج تک ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس قسم کے موذی مرض میں مبتلا شخص اپنی جان بچانے کے لیے علاج کرائے گا یا سماج میں اس مرض کو پھیلانے کا کرتویّہ ادا کرے گا۔؟

 

اخباری خبروں کے مطابق راجیہ سبھا میں حکومت کی طرف سے ایک بیان میں بتایا گیا کہ نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں گزشتہ مارچ منعقدہ پروگرام میں سماجی فیصلے پر عمل نہ کرنے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو طویل عرصے تک وہاں رکھے جانے کی وجہ سے متعدد لوگوں میں کرونا وائرس کا انفیکشن پھیل گیا۔ اس معاملے میں ۳۳۲ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا محمد سعد کے خلاف تحقیقات بھی جاری ہیں اور انھیں تاحال گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔حکومتی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کووڈ۔۹۱ کی وبا کے سلسلے میں مختلف محکموں کے ذریعے رہنما خطوط وغیرہ جاری کیے جانے کے باوجود سماجی دوری پر عمل کیے بغیر نیز ماسک اور سنیٹائزر کا اہتمام کیے بغیر بہت بڑا ہجوم ایک بند کیمپس میں طویل عرصے تک جمع تھا، اس کی وجہ سے متعدد افراد میں کرونا وائرس کا انفیکش ہوا۔“ حکومت کے مختلف محکموں کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط کے باوجود ان کو ان دیکھا کرنے کے بارے میں امیر جماعت سے بہتر وضاحت کرنے والا کوئی نہیں لیکن موصوف نے اس ہنگامے کے بعد خدا جانے کن مشیروں کی صلاح پر ایسی خاموشی اختیار کی ہے کہ آج تک کوئی وضاحت جاری نہیں کی، شاید یہ اس خاموشی کا ہی اعجاز ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور شاید ایسے ہی جاری رہے، یہ اور بات ہے کہ بہت سے مقامات پر پولیس کی گرفت میں آنے والے انگنت جماعتی حضرات قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور امیرموصوف بظاہر کسی پوشیدہ مقام پر آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے چیلے چانٹے اور نمک خوار فیس بک اور انسٹا گرام وغیرہ پر موصوف کو چاہنے والوں کا گروپ بنا رہے ہیں تاکہ کل جب ” حضرت جی“ کو سرکارِ دولتمدار کی طرف سے کلین چٹ مل جائے تو نام سے پہلے ” امام الہند“ کا سابقہ لگا دیا جائے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ”حضرت جی“ نے تبلیغی جماعت یعنی اللہ والوں کی تنظیم میں تفرقہ ڈال کر تقسیم کرنے اور کڑی آزمائش کے وقت اپنے ہزاروں پیرو کاروں کو پولیس اور انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرنے کے علاوہ ایسا کون سا بڑا اہم کارنامہ انجام دیا ہے جو ان کے نمک خواروں کا ٹولہ اور چاپلوس حوالی موالی مولوی سعد کو چاہنے والوں کا گروپ بنانے پر اُدھار کھائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ حضرت جی کے نمک خواروں اور چاپلوس حوالیوں موالیوں کی اس سعیِ لا حاصل کو دیکھ کر صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہنڈیا کا منہ چوڑا، کھانے والے کو لاج آنی چاہیے، لیکن جب بے حسی سوار ہو جائے اور غلط و صحیح میں فرق کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے تو پھر وہی ہوتا ہے جو آج تبلیغی جماعت جیسی تنظیم میں ہو رہا ہے اور عام مسلمان انگشت بدنداں ہیں کہ یہ کون سے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں۔؟

                ملک گیر پیمانے پر لاک ڈاون کے نفاذ اور مرکز کی مکمل تالہ بندی کے بعد ” حضرت جی“ تو خاموشی سے اپنے فارم ہاوس میں جا چھپے لیکن بے یار و مددگار جماعتی بالخصوص غیر ملکی بے چارے پولیس اور انتظامیہ کے ہتھے چڑھ گئے۔ اتر پردیش جیسی ریاستوں میں جہاں بھگوا بریگیڈ کا پرچم لہرا رہا ہے، تبلیغیوں بالخصوص غیر ملکی تبلیغیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈکر کرونا پھیلانے کے الزام میں پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا۔ ایسے موقعوں پر حکمرانِ وقت کی آنکھوں کے اشارے پر چل کر سرکاری فرائض انجام دینے والے پولیس اور انتظامیہ کے افسرون کی کارکردگی انتہائی بلندیوں پر ہوتی ہے، چنانچہ ایسی ریاستوں کے افسران نے غیر ملکی تبلیغی جماعت والوں پر ہر قسم کے قوانین کی خلاف ورزی کے تحت مقدمے قائم کیے تاکہ تبلیغی جماعت کے پردے میں عام مسلمانوں کو سبق سکھایا جاسکے۔ جس زمانے میں سارے ملک میں غیر ملکی و غیر ملکی جماعتیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ عروج پر تھا، اس وقت مہاراشٹر میں بھگوابریگیڈ کا پرچم لہرا رہا تھا، مہاراشٹر کی پولیس اپنے آقاو


¿ں کو خوش کرنے میں کسی سے پیچھے کیوں رہ جاتی چنانچہ بھگوا حکمرانوں سے اچھی کارکردگی کا تمغہ لینے کے لیے مہاراشٹر پولیس کے ذمہ داروں نے انتیس غیر ملکی جماعتیوں کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر پابندِ سلاسل کر دیا۔ اس زمانے کے بھاجپائی حکمرانوں نے ان تمام چھوٹے بڑے افسران کی یقینا پیٹھ تھپتھپائی ہوگی لیکن گزشتہ دنوں ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے ان تمام انتیس غیر ملکی جماعتیوں کو بری کرتے ہوئے نہ صرف مہاراشٹر پولیس کے ذمہ داروں کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا بلکہ اس قسم کے اقدامات کے لیے سرکارِ دولتمدار کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ ان تمام انتیس غیر ملکی جماعتیوں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو مسترد کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ” کرونا وائرس پھیلانے کے معاملے میں تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے اور ایک وبائی بیماری یا آفت کے دوران ایک سیاسی حکومت قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت نے سیاسی مجبوریوں کے تحت کام کیا ہے اور پولیس نے بھی ضابطہ کے مطابق ٹھوس قوانین کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرنے کی ہمت نہیں کی۔ عدالتِ عالیہ نے یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سی اے اے کے قانون کے خلاف ملک گیر پیمانے پر مسلمانوں کی مخالفت اور احتجاج کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ تبلیغی جماعت کے خلاف ایکشن لے کر مسلمانوں کے اندر خوف و دہشت بٹھایا گیا ہے اور ان کو بالواسطہ طورپر وارننگ دی گئی ہے کہ کسی بھی چیز کے لیے مسلمانوں کے خلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ سرکار دولتمدار اور اس ڈھنڈورچی الیکٹرانک میڈیا کی مہذب لفظوں میں دھجیاں اڑاتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے بڑا ور غیر مطلوبہ پروپیگنڈہ کر کے ایک ایسی تصویر بنانے کی کوشش کی گئی کہ جیسے یہ غیرملکی ہی کرونا پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ حکام کو توبہ کرنی چاہیے اور اس ایکشن سے جو نقصان ہو چکا ہے اس کی تلافی کرنی چاہیے۔

 

ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کا یہ فیصلہ بہت اہم ہے جو اتر پردیش اور دوسری ریاستوں کی جیلوں میں بند غیر ملکی جماعتیوں کی رہائی میں مدگار و معاون ثابت ہوگا۔ غیر ملکی تبلیغیوں کی رہائی کا تو یقینا ایک دروازہ کھل گیا لیکن ان ہندوستانیوں کا کیا ہوگا جنھوں نے شعائرِ اسلامی پر عمل کرتے ہوئے اور انسانی ہمدردی کے تحت ان غیر ملکی تبلیغیوں کے ساتھ بھرپور ہمدردی کا اظہار کیا، اپنے گھروں اور مسجدوں میں پناہ دی تھی، جس کی پاداش میں ان پر بھی سنگین دفعات کے تحت ہر جگہ مقدمات کیے گئے اور ان کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔ کیا تبلیغی جماعت کے اراکین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے والے یہ مقامی باشندے بے چارے عدالتی کارروائی کی دقتیں اور اس کے مصارف برداشت کرنے کے لیے اکیلے ہی رہ جائیںگے۔ ممبئی ہائی کورٹ کے زیرِ تذکرہ فیصلے کی روشنی میں مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرکار اب ان افسران کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے سیاستدانوں کی شہ پا کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ ہمارے خیال میں یہ ایک بے معنی مطالبہ ہے کیونکہ کوئی بھی حکومت اپنے افسران کے خلاف اس قسم کے مطالبات کو لائقِ اعتنا نہیں سمجھتی اور فائل داخلِ دفتر کر دیے جاتے ہیں۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ اب ”حضرت جی“ مہاراج مصلحت آمیز اور بذاتِ خود مسلط کردہ کرونٹائین یا دوسرے لفظوں میں اعتکاف سے باہر آئیں، ان کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ کبھی پورا نہیں ہوگا، اس عرصہ میں انھیں حکومتِ وقت کی طرف سے کلین چٹ مل ہی جائے گی۔ تبلیغی جماعت کو جو نقصان پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا، اس کی بھرپائی ممکن نہیں، لیکن تبلیغی جماعت کے ان ہمدرد اور مقامی باشندوں کی تالیفِ قلب کا سامان فراہم کیا جا سکتا ہے جنھوں نے اس آزمائش کی گھڑی میں غیر ملکی تبلیغیوں کو اپنے گھروں اور اپنی مساجد میں پناہ دی جس کی پاداش میں ان پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور وہ بے چارے خواہ مخواہ قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ مولانا ارشد مدنی صاحب اس طرف یقینا توجہ دیںگے اور ان غریب مسلمانوں کی ضرور مدد کریںگے جو اپنے تنگ وسائل کی وجہ سے زبردستی کے مقدمات کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس جذبہ ہمدردی اور اخوت کے اظہار کے لیے کیا صرف حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب ہی رہ گئے ہیں ، کیا امیر جماعت  ”حضرت جی“  کا کوئی اخلاقی فرض نہیں بنتا۔؟

 

M: 9810439067


0 comments

Leave a Reply