'ہمارے صنم کدوں' کے بت ہو گئے پرانے

قوموں کی قیادتیں وہ الو العزم ہستیاں کرتی ہیں جو بے پناہی کے گرم تھپیڑوں میں پلتے ہوئے مظلومیت کی زنجیروں کو توڑدینے کا جنون رکھتی ہیں۔ یہ وہ سر پھرے لوگ ہوتے ہیں جن کو سردیوں میں برف کا بستر اور گرمیوں میں دھوپ کی چادر ملتی ہے

یاور رحمن

 اس وقت جن متفرق ہاتھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ان میں سے اکثر کی عمر یں آزاد ہند کے آس پاس کی ہوں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنکو مسلمانوں کی مختلف بھیڑ عمر کے اس دور میں وراثت کے طور پر مل چکی تھی جب وہ بکریوں کے ریوڑ تک سے ناآشنا تھے۔ بس 'حضرت زادگی' کا شوخ و شنگ زمانہ تھا اور دیوان خانے کو ہر دم گھیرے ہوئے دیوانے معتقدین کی بھیڑ تھی جو 'عطار کے لونڈوں' میں ہی ملک و قوم کا سنہرا مستقبل دیکھنے کی عادی ہو چکی تھی۔ مسلک و عقائد کے دائروں میں بٹی ہوئی یہ بھیڑ  آج بھی یہی مانتی ہے کہ سردار کا بچہ 'اثر دار' ہو نہ ہو مگر سردار ہی ہوتا ہے۔ اور سرداری کے لئے بس کھوپڑی کا ہونا کافی ہے جس پر 'دستار فضیلت خاندانی' ٹکائ جاسکے۔ باقی کسی اہلیت کا ہلکا سا مطالبہ بھی 'خلاف مسلمانی' مانا جاۓ گا۔  

لہذا انہیں اک لٹی پٹی بے گھر بے در قوم کی رہنمائی کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ بلکہ یہ کہئے کہ 'قومی منگنی' کی ایک انگوٹھی تھی جو رسم رونمائی کے طور پر کم سن شہزادوں کو پہنا دی گئی تھی۔ اور پھر ایک قومی نظریے کے پنجرے میں قید کر کے نئے آقاؤں کو بیچی جاچکی اس اندھی، بہری اور گونگی بھیڑ کے ساتھ وہی ہوا جو بگڑے ہوئے نوابزادے اپنی پشتینی جائیداد کے ساتھ کرتے ہیں۔ 


بچے باپ سے محروم ہو جائیں تو گھر کا صرف شیرازہ نہیں بکھرتا بلکہ ہر ایرا غیرا ہوشیار والد بننے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ ایسا ہی کچھ اس قوم کے ساتھ بھی ہوا۔ رہبری کا دعوی لیکر اٹھنے والے  'جیسے تیسے لوگوں' کی بھیڑ کیسے کیسے مخلصوں کو ہڑپ کر گئی۔ پہلے پہل تو قوم کے "دانشوروں" کو جرات بھی نہیں ہوئی کہ وہ "متقی علما" کے ہوتے ہوئے خدمت قوم کے حوالے سے خود الگ سے کچھ کرنے کی سوچ بھی سکیں۔ جس کسی نے ایسی کوئی ہمّت کی اس سے مدرسے کی سند فراغت کا سوال ہوا اور ناکامی کی صورت میں فتووں کے کوڑے مار مار کر "ادھ موا"  کر کے کنارے کر دیا گیا۔  

پھر آخر کار ایک دن 'دانشوری ' کلیساے مسلمانی' سے بغاوت کر کے میدان میں کود ہی پڑی۔ مگر تاریخ گواہی دیگی کہ یہ 'مسلم دانشوری' آج بھی آزاد نہیں ہے۔ اپنی عوامی خدمات کے لئے سند مسلمانی اسے وہیں سے لینی پڑتی ہے۔ بہر حال، ان دانشوروں نے قوم کو 'کانفرنس'  'سیمینار'  اور 'سمپوزیم' کی نئی اور فیشنیبل اصطلاحات سے روشناس کرایا اور "جلسہء ختم بخاری"، "عید میلاد النبی" اور "جلسۂ دستار بندی" سے آگے کی بھی راہ سجھائی۔ بھلے ہی اصل مسائل آج بھی اپنی جگہ منہ پھاڑے کھڑے ہوں مگر ان چیزوں سے کروڑوں کی تعداد پر مشتمل اس 'سڑک نورد قوم' کے علم و فہم میں بے شمار اضافہ ہوا۔ نوجوان نسلوں کو آپس میں علمی اور فکری مباحث کے لئے کافی کچھ مواد ملا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ نہیں ملا جو ملنا چاہیے تھا۔ اچھی بات یہ ہے کہ انکے اندر اس کا احساس بھی نہیں کہ انھیں کیا کیا ملنا چاہیے۔

واے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

"علما اور دانشور" اپنے ناموں کے لحاظ سے یوں تو ہم معنی ہیں مگر اس سے قوم مطمئن ہے کہ اسے عرب اور فارس دونوں جگہ سے آیا ہوا اسلام میسر ہے۔ ہو سکتا ہے اسی اطمینان قلب کے لئے یہ بندش تیار کی گئی ہو۔ بہر حال، ان دونوں کے درمیان سیمیناروں اور جلسوں کی حد تک بڑا مثالی اتحاد ہے۔ جب سروں میں 'جوئیاں' حد سے زیادہ کاٹنے لگتی ہیں تو یہ "علماء اور دانشور" کسی منہگے سے ہال میں سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سروں میں رینگتی ہوئی ایک ایک جوں کو رگڑ کر ختم نہ کر دیں۔ شاید ان کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے 'علما' سے علم برگشتہ ہو گیا اور 'دانشوروں' دانش روٹھ گئی۔

 

مسلمانوں کی رہبری کے دعوے کے ساتھ کچھ 'مولوی نما' حضرات بھی اٹھے۔ مولوی نما اس لئے کہ اپنی سیاست میں مذہب کا مکھن لگانے کے لئے انہوں نے اپنی شکل و شباہت اور زبان و آواز کو خواہ مخواہ نقلی بنا لیا۔ جبکہ اسکی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یہ لوگ 'سیاست براۓ اقلیت' کے بڑے سے بورڈ کے ساتھ سیاست کی چھوٹی سی دکان کھول بیٹھے۔  ایک بیمار اور مظلوم و مقہور معاشرے میں انکو وہی اہمیت ملنے لگی جو کسی ہسپتال کے آس پاس والی دواؤں کی دکان کو ملتی ہے۔ اب فکر ہے تو بس اتنی ہے کہ انکی یہ 'دکانیں' ملکی سطح کا درجہ حاصل کر لیں بس۔ باقی ہمارے بیانات اور ہماری طرز سیاست قوم کو فائدہ پہنچا رہی ہے یا الٹا نقصان؟ اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔

 ملک و قوم کی بد حالی دور کر نے کے لئے کھڑے ہو جانا بڑے نصیبے کی بات ہے۔ یہ قابل صد رشک بات ہے کہ کوئی شخص عام انسانوں کی فلاح و بہبودی کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔ وہ ظلم و زیادتی اور غیر برابری کو ختم کر کے عدل و انصاف سے بھرے ایک معاشرے کے قیام کے لئے اٹھے۔ مگر مسلہ یہ ہے کہ جن 'عظیم ہستیوں' کے خلاف میرا یہ قلم دوڑ رہا ہے ان میں سے غالباً کوئی بھی صرف اور صرف اسی نیت و ارادے سے نہیں اٹھا۔ سب کی تاریخ پیدائش معلوم و معروف ہے۔ ہوا یہی کہ 'امیر زادے' یونہی سیر سپاٹے کو نکل پڑے، کچھ کام یاد آ گیا تو کر ڈالا۔ یعنی یہ وہ 'نماز قیادت' ہے جسکی نہ نیت تھی، نہ وضو یاد آیا اور نہ اذان و اقامت ہوئی۔ بس ہاتھ باندھے اور  پورے زعم کے ساتھ 'زمام امامت' سنبھال لی۔ اسی لئے، اور صرف اسی لئے ہمارا یہ حال بنا ہے کہ اب کوئی ان سے یہ پوچھتا تک نہیں کہ

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے

قوموں کی قیادتیں وہ  الو العزم ہستیاں کرتی ہیں جو بے پناہی کے گرم تھپیڑوں میں پلتے ہوئے مظلومیت کی زنجیروں کو توڑدینے کا جنون رکھتی ہیں۔ یہ وہ سر پھرے لوگ ہوتے ہیں جن کو سردیوں میں برف کا بستر اور گرمیوں میں دھوپ کی چادر ملتی ہے۔ اور پھر بھی بے سرو سامانی کے اس عالم میں آنے والی نسلوں کے لئے سامان زندگی فراہم کر نا انکا مقصد حیات ہوتا ہے۔ وہ اپنے اس خواب گراں مایہ کو سچ کر دینے کے لئے اپنی آنکھوں کو بے خواب، دلوں کو بے چین اور دماغ کو بے آرام کر دینے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ ریت پھانک کر سراب پیتے ہیں پھر بھی انکا کرب انکے ظرف کو زیر نہیں کر پاتا۔ وہ رخصتوں سے گریزاں اور عزیمتوں کے فدائی ہوتے ہیں۔ وہ لکیروں کے فقیر نہیں بلکہ خاردار پگڈنڈیوں کے پر شوق مسافر ہوتے ہیں۔ وہ کسی دادا، نانا،  ابّا، تایا، ماموں اور خالو کی خالی مسندوں کے مجا ور نہیں ہوتے بلکہ اپنے خون جگر سے خوش آئند زمانوں کی آبیاری کرتے ہیں۔ ان کا جنون شوق نسلوں کے کام آتا ہے۔ ان ہی کے ذکر سے تاریخ اپنے مقدمے کا آغاز کرتی ہے۔ 

 ان ہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے

جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے گئے

انکے بعد ان کے عقیدت مندوں کے حواس پر مسلط ہو جانے والے یہ حضرت زادے، بزرگ زادے، نواب زادے، پیر زادے، مجلس زادے، جماعت زادے اور جمیعت زادے  عظیم الشان تحریکوں اور کارناموں  کا بیڑا غرق کردیتے ہیں۔ یہ کوئی نیا کام نہیں کرتے بلکہ تمام عمر اپنے اجداد کے نام کا 'دام' قوم سے وصول کرتے رہتے ہیں۔ اور یہ سب دو چار نسلوں تک تو چلتا ہی رہتا ہے۔ انکو ایندھن وہی بھکت فراہم کرتے رہتے جو اپنی دنیا و آخرت کو بس 'حضرت' کی ایک جنبش ابرو میں دیکھنے کے عادی بن چکے ہیں۔ اپنی تمام عمر اسی عقیدت میں گزار دیتے ہیں یہانتک کہ دنیا سے جاتے جاتے یہی 'وائرس' اپنی اگلی نسل میں چھوڑ جاتے ہیں۔  وہ سوچتے بھی نہیں کہ پوری قوم کی رہبری کا بوجھ محض 'نطفے' کی بنیاد پر نہیں اٹھایا جا سکتا۔ وہ اس عظمت  کے متحمل ہو ہی نہیں سکتے  جو ذاتی کارناموں کے جلو میں پروان چڑھ کر تاریخ کا زریں باب بن جاتی ہے۔ بزبان اقبال یہ تو وہ خرمن ہیں جس میں بجلیاں آسودہ ہوتی ہیں اور جو اپنے اسلاف کے مدفن بیچ کھاتے ہیں۔ کسی نظر میں کوئی بچا ہو تو بچا ہو، ہماری نظر کو تو کوئی جچا ہی نہیں۔ اگر کوئی ایک بھی ایسا ہوتا تو اس قحط زدہ میدان  میں کہاں چھپ پاتا۔

 

 آپ اس ملک کے لگبھگ تیس کروڑ مسلمانوں کی حالت زار دیکھئے اور سوچئے کہ ایسا کون سا چہرہ ہے جسے دیکھ کر نگاہیں پر امید ہو جائیں؟ جسے دیکھ کر زخم چیخ اٹھیں کہ لو، میرا مسیحا آ گیا ؟ جسے دیکھ کر دشمن ذرا دیر کو ٹھٹھک جاۓ اور جسے پاکر مظلوم کو لمحے بھر کے لئے ہی سہی قرار آ جاۓ ؟ کوئی ایسا مسلمان قائد آپ کو دکھائی دیتا ہے جسے ایک عام غیر مسلمان دیکھ کر پکار اٹھے کہ دیش کو اور سماج کو ایسے نیتا اور ایسے مہاتما کی ضرورت ہے ؟ یہاں تو قومی ذلتیں اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہیں۔ کیا کیا ہو رہا ہے بلکہ یہ کہیں کہ کیا کیا نہیں ہو رہا ہے!

 حال یہ ہے کہ

کوئی امید بر نہیں آتی

 کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

7 سال قبل سب ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا، جلسے، جلوس، سیمینار اور سمپوزیم دھڑا دھڑ چل رہے تھے۔ مسلم محلوں کی دیواریں مذہبی پوسٹروں اور اشتہاروں سے پٹی رہتی تھیں۔ گویا مذہبی جلسوں کے یہی رنگین پوسٹرز قوم کی آنکھوں کا سرمہ بنے ہوئے تھے۔ ہر قسم کے مذہبی اور مسلکی اشتہارات پر 'دین بچاؤ،دستور بچاؤ"، "عظمت صحابہ کانفرنس"،  "عید میلاد النبی" اور 'مسلک فلاں حضرت و ادارہ' کے نعروں کے  موٹے موٹے حروف چیخ چیخ کے کہتے تھے کہ ہمارے جلسے میں پہنچ کر اپنی 'حمیت اسلامی' کا ثبوت پیش کرو۔ سرمہ لگا کر، ٹوپی پہن کر اور باوضو ہو کر آؤ اور نذرانہء عقیدت پیش کرکے ثابت کرو کہ تمہارے اندر ایمان ابھی باقی ہے اور اسلام ابھی زندہ ہے۔  پھر عقل کے غریب اور دیہاڑی کے مزدور بسوں اور ٹرکوں میں سامان کی طرح پیک ہوکر ثبوت دینے میدانوں میں پہنچ جاتے تھے۔ اور رات کے پہر حضرت اپنی تمام تر آسودگی سمیت چاروں شانے چت پڑے جونیئر 'مولویوں' سے فرماتے کہ الحمد لللہ! عوام آ گئے اور جلسہ کامیاب رہا۔ پھر اسکے بعد حضرت کی تقریر کے ایک ایک جملے یکے بعد دیگرے دہرا دہرا کر حضرت کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ پریس نوٹس تیار ہوتے، صبح کے اردو اخبارات کے لئے سرخیاں  تک طے کر دی جاتیں اور پھر حضرت کے 'بیانات' ان سنجیدہ قارئین تک پہنچ جاتے جو حضرت کے بیانات کو ایسے پڑھتے ہیں جیسے نوکری سے ریٹائرمنٹ ہی اسی خبر کو پڑھنے کے لئے لی ہو !

مگر پچھلے سات برسوں میں تصویر ہی نہیں بدلی بلکہ پورا فریم ہی دیوار سے اتار کر پھینک دیا گیا۔ اب تقریباً سبھی خیمے کے 'حضرت'  'سیاسی چونچلوں' اور 'مذہبی نین مٹکوں' سے بھی محروم کر دیے گئے۔ انکے ناز اٹھانے والے سیکولر بہروپیے خود ہی پیدل ہو گئے تو جس ایوان سیاست میں حضرت کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی جایا کرتے تھے  اسی ایوان کے دروازے اب اکڑ کر گھورنے لگے کہ خبردار ! ادھر نگاہ اٹھا کے دیکھا بھی تو آنکھیں نوچ لی جائیں گی۔ وجہ یہی ہے کہ نئے موسم کے سیاسی خداؤں سے انکی جمی نہیں۔ یہ انکی ابتداۓ آفرینش سے ہی انکے مخالف بن گئے اور انکے ہر ذکر پر تمام تر کیفیت مسلمانی کے ساتھ 'لا حول' پڑھنے لگے۔ ایک مخصوص سیاسی جماعت سے نیا 'نظریہء توحید' اپنا کر دوسری جماعت سے جم کر 'کفر' کیا۔ اجداد کی مسندوں پہ تمام عمر چپک کر بیٹھنے والے ان نیم مذہبی اور نیم سیاسی  قائدین نے  سوچا بھی نہیں کہ ڈیموکریسی غیر یقینیت کی والدہ ہے۔ یہ کسی کی اجارہ داری زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہنے دیتی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ سیاسی کرسیوں کو مذہبی مسندوں کی طرح 'دیمک زدہ' نہیں ہونے دیتی۔ جو نہیں اٹھتا ہے اسے اچھال دیکر باہر پھینک دیتی ہے۔ اسکے باوجود قوم مسلم کے ان ' وفا پرست' رہنماؤں نے یہ جان کر ان سے 'سخت کفر' کیا کہ مٹی کے یہ 'خدا' جمہوریت کی ایک ہی بارش میں بہ کر بے نشان ہو جائیں گے۔ سوچا بھی نہیں کہ جمہور مذہب کا چشمہ پہننے کے بعد 'جمورے' بن جاتا ہے۔ اور دو ہی طرح کے لوگ اس 'جموریت'  کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، یا تو عیار اور زرپرست یا پھر حکیم اور انسان دوست۔ لیکن صرف پیشانی کی آنکھ سے دنیا اور اسکے عجائبات کو دیکھنے والے وہ سب کہاں دیکھ سکتے ہیں جسے دیکھے بغیر آگے بڑھا ہی نہیں جا سکتا۔ اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج کے سب رہنما 'ڈفلی والے' بن گئے اور قوم 'جمورے' بن گئی۔

سنا ہے بڑے دنوں بعد گزشتہ دنوں یہ اپنے ہی محلے کے کسی چھوٹے سے ہوٹل میں یکجا ہوئے تھے۔ شاید قومی فکر نے زیادہ ستا دیا تھا۔ دن بھر کی 'مغز ماری'  کے بعد شام میں "اتحاد ملت" کے نام سے ایک نسخۂ کیمیا لے کر باہر نکلے تھے۔ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے اس قدر پیچیدہ اور نیند اڑا دینے والے انبار میں انہیں صرف اور صرف مسلک ہی  نظر آیا۔ وہ 'مسلک' جو مارکس کے نظریے کی طرح مسلم علاقوں میں خود ہی بحمد لللہ دم توڑ رہا ہے۔ لیکن اتنے 'وڈے وڈے مفکرین' کا چشمہء نظر دیکھ کر فرط عقیدت سے آنکھوں میں پانی بھر آیا کہ ایسے 'عظیم حضرات'  کے ہوتے ہوئے بھی قوم ناحق پریشان ہے۔ لیکن اس 'سانحہ' سے بڑا 'حادثہ' یہ ہوا کہ کسی نئے 'جرثومے' نے بہت جلد ہی اس 'نسخۂ کیمیا' کو چاٹ کر 'بھس' بنا دیا۔

قصہ مختصر یہ کہ اس 'نسخۂ کیمیا' نے کم سے کم میری یہ بات تو ثابت کر ہی دی کہ ہمارے 'علما' اور 'دانشوروں' سے علم وعقل اور حکمت و دانش روٹھ کا لا پتا ہو چکے ہیں۔

 اب یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ ملت کے وہ مخلص اہل ثروت جنہیں اللہ نے مادی وسائل سے نوازاہے بے باک،  بے لاگ، بے لوث اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل مخلص جوان علما اور دانشوروں کے ساتھ میدان عمل میں اتر آئیں۔ نیت باندھ کر با ضابطہ اذان اقامت کے ساتھ 'باجماعت نماز قیادت' کا آغاز کریں۔ کیونکہ یہ کام بغیر مادی وسائل کے بڑے پیمانے پر منظم انداز میں نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے معاشرے کی اصل ذمہ داری ان ہی اہل علم اور اہل ثروت پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ہونا ضروری ہے و گرنہ فی الحال اتنا تو ہو کہ کوئی قیادت کی 'گمشدگی' کا اشتہار محلے کی دیواروں پر ہی لگا دیے ۔ کم سے کم کچھ کھو جانے کا احساس تو زندہ رہنا ہی چاہیے !!

1 comments

  • Ashraf Quamar

    The headline speaks a lot. By the way, I have personally experienced the current leadership, if any, is plagued by lack of accountability and vision. .

Leave a Reply