جب میں بے راہ روی کا رہنما بنا

سید محمد متین الدین : کریم گنج گیا جی 
 
زندگی میں بہت کچھ بننا چاہتا تھا مگر قسمت نے کچھ اور ہی لکھ دیا۔ کبھی سوچا تھا کہ بڑا آدمی بنوں گا، لوگ میری بات سنیں گے، میرے پیچھے چلیں گے۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا – میں بنا تو صحیح "بڑا آدمی" بنا، مگر راستہ دکھانے والا نہیں، بلکہ راستے سے بھٹکانے والا بن گیا۔ ہاں، میں بے راہ روی کا رہنما ہوں اور آج اپنی اس خداداد صلاحیت پر فخر کرتا ہوں۔
میری شہرت اب صرف محلے تک محدود نہیں۔ حال ہی میں ایک بین الاقوامی تنظیم "گمراہی کے فروغ کے لیے عالمی فورم" نے مجھے "بہترین گمراہ کن شخصیت" کا ایوارڈ دیا۔ میں نے ایوارڈ تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا: "آج مجھے یہ ایوارڈ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ میں نے ساری عمر جو کیا، وہ غلط نہیں تھا... بلکہ تھوڑا سا غلط تھا، مگر صحیح سمت میں غلط!" سامعین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں، حالانکہ ان میں سے کسی کو سمجھ نہیں آئی کہ میں نے کہا کیا۔
اب تو میں نے اپنی "انٹرنیشنل یونیورسٹی آف مس گائیڈنس" قائم کر لی ہے۔ اس میں داخلے کے لیے شرط صرف یہ ہے کہ امیدوار کے پاس کوئی شرط نہ ہو۔ نصاب کچھ یوں ہے:
· شعبہ جھوٹ: ہم سکھاتے ہیں کہ جھوٹ کو اس طرح بولیں کہ سننے والا سوچے "کاش یہ سچ ہوتا!"
· شعبہ منطق: ارسطو، سقراط اور دیگر فلسفیوں کو گراؤنڈ پر لے کر ان کی منطق کی دھجیاں اڑانا ہماری تخصص ہے۔
· شعبہ تاریخ : ہم تاریخ کے واقعات پر اتنی "پلاسٹک سرجری" کرتے ہیں کہ چنگیز خان رومیو اور کلون ظہیر الدین بابر جیسا نظر آنے لگتا ہے۔
میرا ایک طالب علم، جس نے "تاریخ کی سرجری" میں ماسٹرز کیا ہے، اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "نوح علیہ السلام کی کشتی دراصل ٹائٹینک تھی، جو ڈوبی تو نوح علیہ السلام نے اسے دوبارہ تعمیر کیا!" اس نے اس نظریے پر ایک کتاب بھی لکھ دی ہے، جس کا انتساب میرے نام کیا ہے۔
میرا تازہ ترین نظریہ "ٹیڑھی لکیر کا فلسفہ" ہے۔ میں کہتا ہوں:
"سیدھی لکیر تو ہر کوئی کھینچ سکتا ہے، مگر ٹیڑھی لکیر کھینچنا حقیقی فن ہے۔ اگر تم نے زندگی میں کبھی کوئی کام سیدھا کیا، تو سمجھو تم نے فن کی توہین کی۔ ہمارے معاشرے کی تمام خوبصورتی اس کی ٹیڑھ میں پوشیدہ ہے۔ سیدھے راستے تو جانور بھی ڈھونڈ لیتے ہیں، انسان کو تو ٹیڑھے راستوں پر چلنا چاہیے!"
اس فلسفے کے بعد میرے شہر کی تمام سڑکیں ٹیڑھی کر دی گئی ہیں تاکہ "انسانی خوبصورتی" برقرار رہے۔ اب لوگ گھر سے نکلتے ہی چکرا جاتے ہیں اور واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں۔ میں نے اسی صورتحال کو "سیاحتی مواقع" قرار دے کر ایک نیا بزنس کھول لیا ہے۔
میرے پاس مخالفین کو ختم کرنے کا جدید ترین طریقہ ہے۔ میں سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں ایسی پوسٹیں کرتا ہوں:
"فلاں شخص کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ انسان اور بندر کے درمیان کوئی فرق نہیں... فرق صرف اتنا ہے کہ بندر کو پتہ ہے کہ وہ بندر ہے!"
یا
"فلاں شخص کی عقل پر تو پانی پھر چکا ہے، اب وہ صرف اس وقت بولتا ہے جب اس کا منہ کھلتا ہے!"
ایک بار ایک صاحب نے میری غلطی نکالی تو میں نے ان کی تصویر ایڈٹ کر کے ان کے ہاتھ میں "میں بے وقوف ہوں" کا بورڈ لگا دیا۔ اب وہ صاحب ہر جگہ یہ ثابت کرتے پھرتے ہیں کہ وہ بے وقوف نہیں ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ وہ واقعی بے وقوف ہیں۔
میرے نئے نعروں نے تو لوگوں کے ہوش گم کر دیے ہیں:
· "منزل کو بھول جاؤ، راستے سے پیار کرو!" (نتیجہ: لوگ ایک ہی چوراہے پر گھوم گھوم کر تھک گئے)
· "سچ اتنا بھاری ہے کہ اسے اٹھانے سے کمر ٹوٹ جاتی ہے، جھوٹ ہلکا پھلکا، آرام دہ!" (نتیجہ: لوگ اب سچ بولنے سے پہلے جم جیم کر لیتے ہیں)
· "غلط کام کرنے کا کوئی طریقہ صحیح نہیں، صحیح کام کرنے کا کوئی طریقہ غلط نہیں... تو پھر جو جی میں آئے کرو!" (نتیجہ: میرے شہر کا کوئی بھی شخص کسی بھی بات پر یقین نہیں رکھتا)
میرے مرید اب بین الاقوامی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔ ایک مرید نے تو "جھوٹ کی اولمپکس" میں گولڈ میڈل جیت لیا ہے۔ اس نے فائنل میں اتنا بڑا جھوٹ بولا کہ جج صاحب نے کہا: "اتنا بڑا جھوٹ، یقین کرنا مشکل ہے!" اور اسے پہلی پوزیشن دے دی۔
دوسرا مرید "چوری کی ایکسپریس ڈیلیوری" سروس چلا رہا ہے۔ وعدہ: "آپ بتائیں کس کا گھر ہے، ہم پانچ منٹ میں خالی کر دیں گے!" اس کا تازہ ترین کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ایک پولیس اسٹیشن سے چوری کر لی، اور چھوڑ گیا ہے "پولیس والوں کے لیے تعریفی الفاظ کا ایک بینر" جس پر لکھا ہے: "آپ کی غیر موجودگی میں ہم نے آپ کے دفتر کی صفائی کر دی!"
میری کوششوں سے اقوام متحدہ نے 1 اپریل کو "عالمی یوم گمراہی" قرار دے دیا ہے۔ اس دن دنیا بھر میں لوگ ایک دوسرے کو غلط راستے دکھاتے ہیں، غلط مشورے دیتے ہیں، اور ایک دوسرے کو راستے سے بھٹکانے کے مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ پچھلے سال اس موقع پر میرے شہر میں "سب سے بڑا جھوٹ بولنے" کا مقابلہ ہوا، جسے میں نے خود جیتا۔ میں نے کہا تھا: "میں نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا!"
اور ان تمام کارناموں کے بعد، میں اپنے پیارے مریدوں سے کہتا ہوں:
"دوستو! زندگی بہت چھوٹی ہے، اسے صحیح راستے پر برباد مت کرو۔ غلط راستوں پر چلو، کیونکہ غلط راستوں کا اپنا ایک الگ مزہ ہے۔ اور اگر کبھی کسی نے تم سے پوچھا کہ منزل کہاں ہے تو کہنا: 'منزل تو وہیں ہے جہاں ہم ہیں، کیونکہ ہم نے اپنی منزل خود بنا لی ہے!'"
 "یاد رکھو! صحیح راستہ وہ نہیں جو تمہیں منزل تک پہنچائے، صحیح راستہ وہ ہے جس پر چلتے ہوئے تمہیں پتہ ہی نہ چلے کہ تم کہاں جا رہے ہو!"

0 comments

Leave a Reply