عالمی کتاب میلہ 2025: مسلم دانشوران کونسل کے سیمینار کا اختتام، "ایمان اور ماحولیات" پر فکر انگیز مکالمہ
نئی دہلی، 8 فروری 2025 – عالمی کتاب میلہ 2025 کے موقع پر مسلم دانشوران کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سیریز کا اختتام ایک اہم اور فکر انگیز مباحثے کے ساتھ ہوا۔ سیمینار کا عنوان "ایمان اور ماحولیات: پائیدار مستقبل کے لیے مشترکہ ذمہ داریاں" تھا، جس میں مختلف مذاہب، سماجی علوم، اور بین الاقوامی سفارت کاری سے وابستہ ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
یہ سیمینار نہ صرف ایک سنجیدہ علمی مکالمے کا موقع فراہم کرتا رہا بلکہ ماحولیاتی تحفظ، ایمان، اور شہری ذمہ داری کے درمیان تعلق پر بھی روشنی ڈالتا رہا۔ اس اختتامی نشست میں سامعین نے متحرک انداز میں شرکت کی اور ماحولیاتی انحطاط کے خلاف اجتماعی اقدامات کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
ممتاز شخصیات کی شرکت
سیمینار کی صدارت انڈیا عرب کلچرل سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ذکر الرحمن نے کی۔ مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر شبھدا چوہدری (اسسٹنٹ پروفیسر، دہلی یونیورسٹی اور بانی، مڈل ایسٹ انسائٹس)، کے. پی. فیبین (سابق سفیر اور مہاتما گاندھی یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر)، اور پروفیسر ڈاکٹر سید عرفان حبیب (معروف مؤرخ اور دانشور) شامل تھے۔
مقررین کے خیالات
پروفیسر ڈاکٹر شبھدا چوہدری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ مختلف مذاہب کی روایات فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا:"پائیداری محض ایک خارجی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک داخلی قدر ہے جو ذاتی ذمہ داری سے جڑی ہوئی ہے۔ ایمان پر مبنی ماحولیاتی شعور کا فروغ سماجی انصاف کے لیے بھی ضروری ہے، خاص طور پر خواتین کے کردار کو تسلیم کرنے کے حوالے سے، جیسا کہ چیپکو تحریک میں نظر آیا۔"
کے. پی. فیبین نے تاریخ میں موجود ماحولیاتی دانش پر روشنی ڈالی اور کہا:"مہاتما گاندھی کا یہ قول کہ ’دنیا ہر کسی کی ضرورت کے لیے کافی ہے، لیکن ہر کسی کی لالچ کے لیے نہیں‘ آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے۔ اگر ہم تاریخ سے سبق لیں اور عالمی تعاون کو فروغ دیں، تو ایک پائیدار مستقبل ممکن ہے۔" انہوں نے تہذیبوں کے مابین ماحولیاتی تعاون پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کی بھی تجویز دی۔
پروفیسر ڈاکٹر سید عرفان حبیب نے ماحولیاتی تحفظ کو ایمان کی عملی شکل قرار دیتے ہوئے کہا:"ماحولیاتی بحران کسی مخصوص مذہبی شناخت سے منسلک نہیں، بلکہ یہ ایک مشترکہ انسانی مسئلہ ہے۔ ہمیں سب سے پہلے ایک انسان کی حیثیت سے کام کرنا ہوگا اور اپنے طرز زندگی میں وہ تبدیلیاں لانی ہوں گی جو قدرتی وسائل کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں۔"
مسلم دانشوران کونسل کا کردار
یہ تیسرا مسلسل سال تھا جب مسلم دانشوران کونسل نے عالمی کتاب میلہ میں شرکت کی۔ علمی مکالمے، ثقافتی تبادلے، اور بقائے باہمی کے فروغ کے لیے کونسل کا عزم اس کی متنوع اشاعتوں، ترجمہ شدہ کاموں، اور مباحثوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔
سیمینار کے اختتام پر پروفیسر ذکر الرحمن نے امید ظاہر کی کہ اس مکالمے کے اثرات علمی اور عملی سطح پر مزید مثبت اقدامات کا سبب بنیں گے۔ سیمینار کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کریں گے اور پائیدار طرز زندگی کو فروغ دینے میں کردار ادا کریں گے۔

0 comments