کیا ہندوستان میں اردو کے فروغ کے لئے کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ اب بند ہو جائے گا ؟

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان پر لٹکی تلوار، شیخ عقیل خاموش، اردو کا کوئی سیمنار ممکن نہیں

نئی دہلی : (اشرف علی بستوی کی رپورٹ )  این سی پی یو ایل کی 2020-21 کی سالانہ رہورٹ میرے سامنے ہے اور ذہن میں شیخ عقیل کی وہ یاد دہانی تیر رہی  ہے 'سب کچھ ٹھیک ہے ہم کرلیں گے' ، 91 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ قومی سطح کا یہ ادارہ کس کس طرح اردو کے فروغ میں مصروف ہے ۔

لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ فروری کی 14 تاریخ گزر چکی ہے ،لیکن  ابھی تک آپکو واٹس ایپ یا فیس بک پر اردو کے فروغ پر سمینار میں شرکت کا کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہوگا ۔ 



کیا آپ جانتے ہیں اس سال اتنا سناٹا کیوں ہے ؟

اس کی بنیادی وجہ معلوم کرنے کے لیے میں نے کونسل کے ڈائریکٹر شیخ عقیل سے گزشتہ ماہ کے اواخر میں ایک ملاقات کی لگ بھگ ایک گھنٹے کی ملاقات میں وہ یہی کہتے رہے "سب کچھ ٹھیک ہے بہت جلد کمیٹی تشکیل ہوجانے کے بعد گرانٹ جاری کر دی جائے گی" ،لیکن ابھی تک  کسی درخواست دہندہ کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے ۔

یاد کیجیے ! آج سے پانچ سال قبل جب شیخ عقیل نے چارج لیا تھا ،بڑے جوش میں تھے اور کونسل کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی باتیں خوب کرتے تھے ، لیکن پانچ برس مکمل کر چکے ہیں چارج لینے کے دن جو پریس کانفرنس کی تھی اس کے بعد سے یک طرفہ پریس ریلیز سے کام چلا رہے ہیں ۔ اپنے آر ایس ایس کے تعلق کو کھل کر اظہار کرتے ہیں ۔  یہ قیاس تھا کہ وہ ضرور اردو کونسل کو اپنی سیاسی وابستگی سے فائدہ پہونچائیں گے 


یہ تو رہی شیخ عقیل صاحب کی بات 

اب ذرا ہم اردو والے بھی ایک لمحے کے لیے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں ۔ عام طور پر ہر سال دسمبر کے اواخر تک سمیناروں کی منظوری کی اطلاعات عام ہو جایاکرتی تھیں ،لیکن اتنا دیر ہونے کے بعد بھی سمینار پڑھنے والے پروفیسر صاحبان ، شاعر و ادیب اور صحافی حضرات سبھی خاموش ہیں ،کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے ،

آخر اس قدر خاموشی کیوں ؟

آخر کیا وجہ ہے اردو کے بڑے بڑے اخبارات میں ایک کالمی خبر بھی نہیں دیکھنے کو مل رہی ہے ؟ آج ہمارا سماج کے ایڈیٹرمرحوم برادر عامر سلیم خان صاحب بہت یاد آرہے ہیں ، وہ ایسی باتوں کا فوری نوٹس لیتے اور سوال کرتے، ہم سب سے باتیں کرتے معلومات جمع کرتے اور پھر لکھ دیتے۔

این سی پی یو ایل کا دفتر جسولا میں ہے جو جامعہ نگر کے پہلو میں واقع ہے ، کچھ لوگ ڈائریکٹر سے ملاقات کرتے ان سے بات کرتے ۔

رپورٹ پڑھنے کے لیے لنک کلک کریں 


آپ اس رپورٹ کو وقت لگاکر ذرا غور سے دیکھیے پھر سوچیے گا 

0 comments

Leave a Reply