ہنگامہ ہے کیوں برپا : قومی کونسل، اردو اور قومی ذمہ داری ؛ اختلاف رائے یا بدزبانی؟
جب ہندی اور انگریزی میں سرکاری تقاریر اور دستاویزات کی اشاعت معمول سمجھی جاتی ہے تو اردو میں اسی عمل پر اعتراض کیوں؟
اشرف علی بستوی کی تجزیاتی رپورٹ
نئی دہلی ( ایشیا ٹائمز نیوز ڈیسک ) قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے بعض حالیہ اقدامات پر اٹھنے والے سوالات دراصل صرف ایک ادارے پر نہیں بلکہ اردو زبان کے قومی کردار پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اردو سے وابستہ سرکاری اداروں کو قومی پالیسی، ریاستی بیانیے یا سرکاری خطابات سے فاصلہ رکھنا چاہیے۔ یہ سوچ نہ صرف حقیقت سے دور ہے بلکہ اردو کو دانستہ طور پر قومی دھارے سے الگ کرنے کے مترادف بھی ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ این سی پی یو ایل کوئی نجی، ادبی یا مذہبی تنظیم نہیں بلکہ حکومتِ ہند کا ایک باقاعدہ سرکاری ادارہ ہے۔ ایک سرکاری ادارے سے یہ توقع رکھنا فطری ہے کہ وہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ریاست کے اجتماعی وژن، قومی ترجیحات اور عوامی مکالمے کی ترجمانی کرے۔ اردو زبان کے حوالے سے یہی ذمہ داری قومی کونسل پر عائد ہوتی ہے۔
یہ محض رسمی بیانات نہیں بلکہ قوم سے براہِ راست مکالمہ ہیں
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعظم کے خطابات ہوں یا دیگر اہم قومی دستاویزات، یہ سب محض رسمی بیانات نہیں بلکہ قوم سے براہِ راست مکالمہ ہوتے ہیں۔ ان میں ملک کی سمت، ترقیاتی منصوبے، سماجی انصاف، تعلیم، خواتین اور نوجوانوں کے حوالے سے وژن پیش کیا جاتا ہے۔ اگر یہ پیغام اردو زبان میں بھی پیش کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد کسی فرد یا حکومت کی مدح سرائی نہیں بلکہ اردو داں شہریوں کو قومی گفتگو کا حصہ بنانا ہے۔
ہر شہری کو ملک کی قومی پالیسی اور ریاستی وژن اپنی زبان میں جاننے کا پورا حق ہے
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جب ہندی اور انگریزی میں سرکاری تقاریر اور دستاویزات کی اشاعت معمول سمجھی جاتی ہے تو اردو میں اسی عمل پر اعتراض کیوں؟ لسانی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اردو کو بھی وہی مقام اور سہولت حاصل ہو جو دیگر قومی زبانوں کو حاصل ہے۔ اردو بولنے والے شہری بھی اسی ملک کے برابر کے شہری ہیں اور انہیں قومی پالیسی اور ریاستی وژن اپنی زبان میں جاننے کا پورا حق ہے۔
این سی پی یو ایل کا کردار صرف ماضی کے ادبی سرمائے کے تحفظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے
این سی پی یو ایل کا کردار صرف ماضی کے ادبی سرمائے کے تحفظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اردو کو حال اور مستقبل کے تقاضوں سے جوڑنا، اسے عصری قومی مباحث کا حصہ بنانا اور نئی نسل کے لیے بامعنی بنانا بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ قومی نوعیت کی کتابوں اور دستاویزات کی اشاعت اسی سمت ایک مثبت قدم ہے۔
اختلاف رائے یا بدزبانی؟
اس تناظر میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بعض تبصروں نے ایک اور تشویشناک پہلو کو بے نقاب کیا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کی آڑ میں گالی، تہمت، مذہبی اشتعال اور ادارہ جاتی تضحیک کسی بھی مہذب مکالمے کا حصہ نہیں ہو سکتی۔
کیا اردو داں وزیرِ اعظم کے خطبات پڑھ کر کسی خاص سیاسی نظریے کا حامی بن جائے گا؟
یہ سوال کہ ’’کیا اردو داں وزیرِ اعظم کے خطبات پڑھ کر کسی خاص سیاسی نظریے کا حامی بن جائے گا؟‘‘ دراصل اردو پڑھنے والوں کی فکری صلاحیت پر ہی سوال اٹھانے کے مترادف ہے۔ کیا اردو داں اتنے کمزور شعور کے حامل ہیں کہ ایک سرکاری خطاب کا مطالعہ ان کی سیاسی وابستگی طے کر دے؟ اگر ایسا ہوتا تو پھر ہندی اور انگریزی میں شائع ہونے والے ہزاروں سرکاری بیانات پر بھی یہی اعتراض ہونا چاہیے۔
کچھ تبصروں میں کتاب کو ’’اسلام دشمن‘‘، ’’لغویات‘‘ یا ’’بکواس‘‘ قرار دیا گیا، جو تنقید کم اور اشتعال زیادہ ہے۔ کسی سرکاری پالیسی یا خطاب سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر ایک آئینی ادارے کے اقدام کو مذہبی دشمنی سے جوڑ دینا نہ علمی دیانت ہے اور نہ اردو کے مفاد میں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض افراد نے اردو مراکز، تعلیمی اسکیموں اور سابقہ پروگراموں کے تسلسل پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے سوالات جائز ہیں اور ان پر وضاحت آنی چاہیے، مگر ان مطالبات کو ذاتی حملوں اور گالی گلوچ کے ساتھ جوڑ دینا خود ان کی اخلاقی بنیاد کو کمزور کر دیتا ہے۔
سب سے افسوس ناک بات
سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ کچھ آوازیں قومی اردو کونسل جیسے ادارے کو ختم کرنے تک کی بات کر رہی ہیں۔ یہ رویہ دراصل اردو کے ادارہ جاتی وجود سے انکار کے مترادف ہے۔ اگر اردو کو سرکاری اور قومی دائرے سے باہر دھکیل دیا گیا تو پھر اسے محض جذباتی نعروں یا ماضی کی یادگار بنا کر رکھ دیا جائے گا۔
سوال اٹھائیے، مگر
آخر میں یہ بات پوری وضاحت سے کہنی ہوگی کہ قومی کونسل اگر سرکاری خطابات، قومی دستاویزات اور ریاستی وژن کو اردو میں پیش کرتی ہے تو یہ نہ کسی ادارہ جاتی انحراف کی علامت ہے اور نہ کسی خوشامد کا عمل۔ یہ اردو کے ساتھ انصاف، اردو داں شہریوں کی شمولیت اور ایک ذمہ دار سرکاری ادارے کی آئینی و قومی ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔ اختلاف کیجیے، سوال اٹھائیے، مگر اردو، اداروں اور مکالمے کے وقار کو مجروح کیے بغیر۔

0 comments