ہمارے بچپن کا جمعہ
جمعہ ہمارے لیے محض ایک عبادت کا دن نہیں تھا بلکہ پورے ہفتے کا سب سے اہم، بابرکت اور منتظر دن ہوا کرتا تھا
ٹی ایم ضیاء الحق
اسلام کی بنیاد نظم و ضبط (ڈسپلن) پر قائم ہے اور ڈسپلن صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ نمازوں کے اوقات ہوں، روزے کا نظام ہو، زکوٰۃ کی ادائیگی ہو یا حج کے مناسک، اسلام اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبے میں وقت کی پابندی، نظم اور اجتماعی شعور کا درس دیتا ہے۔ انہی اسلامی تعلیمات کا سب سے خوبصورت مظہر جمعہ کا دن ہوا کرتا تھا، جب پورا محلہ ایک خاص نظم و ضبط اور روحانی فضا میں ڈھل جاتا تھا۔
آج جب ماضی کے دریچے کھولتا ہوں تو بہار کے ضلع گیا کی گلیاں، محلے، مسجدیں، دوست احباب اور جمعہ کی وہ روح پرور ساعتیں پوری تازگی کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہیں۔ ہمارا بچپن گیا شہر کے دو قدیم محلّوں، نئی کریم گنج اور پرانی کریم گنج میں گزرا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زندگی میں سادگی تھی، تعلقات میں خلوص تھا اور مذہبی شعائر سے ایک فطری وابستگی پائی جاتی تھی۔
جمعہ ہمارے لیے محض ایک عبادت کا دن نہیں تھا بلکہ پورے ہفتے کا سب سے اہم، بابرکت اور منتظر دن ہوا کرتا تھا۔ جمعہ مسلمانوں کے لیے ایک چھوٹی عید کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی لیے اس دن گھر کے ماحول میں بھی ایک خاص خوشی اور تازگی محسوس ہوتی تھی۔ کھانے پینے کا اہتمام عام دنوں کے مقابلے میں کچھ بہتر ہوتا تھا۔ گھر کی خواتین خصوصی توجہ کے ساتھ کھانا تیار کرتیں اور دسترخوان بھی روزمرہ کے مقابلے میں زیادہ پُررونق نظر آتا۔ یوں عبادت، روحانیت، خاندانی اجتماع اور بہتر کھانے کا امتزاج جمعہ کے دن کو واقعی ایک چھوٹی عید کا رنگ دے دیتا تھا۔
اس دن کی تیاری دراصل جمعرات ہی سے شروع ہو جاتی تھی۔ گھر کے بڑے اس دن کی عظمت کا خاص خیال رکھتے تھے اور بچوں کو بھی اس کی اہمیت کا احساس دلاتے تھے۔ جمعرات کی شام ہی کو ہمارا کرتا پاجامہ دھل کر اور استری ہو کر تیار ہو جاتا۔ سر پر کبھی کالی رامپوری ٹوپی ہوتی اور کبھی لکھنوی ٹوپی۔ گویا اُس دور کے عام مسلمانوں کا ایک غیر تحریری ’’جمعہ ڈریس کوڈ‘‘ تھا۔ محلے کے بیشتر لوگ اسی لباس میں مسجد کا رخ کرتے تھے۔
جمعہ کی صبح ایک خاص چہل پہل کے ساتھ طلوع ہوتی تھی۔ فجر کی نماز کے بعد ہی گھر میں ایک الگ سی مصروفیت شروع ہو جاتی۔ غسل کا اہتمام کیا جاتا، کپڑے نکالے جاتے اور خوشبو لگائی جاتی۔ ہم بچے بھی غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ تیاری کرتے اور اذانِ جمعہ سے کافی پہلے تیار ہو کر بیٹھ جاتے۔ دل میں ایک عجیب سی خوشی اور روحانی مسرت ہوتی تھی جو صرف جمعہ کے دن محسوس ہوتی تھی۔ اُس زمانے میں نہ موبائل فون تھے، نہ سوشل میڈیا اور نہ ہی تفریح کے لاتعداد ذرائع۔ اس لیے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی اپنی ایک الگ ہی اہمیت تھی۔
نئی کریم گنج کی مسجد ہمارے محلے کی دینی اور روحانی زندگی کا ایک اہم مرکز تھی۔ اس مسجد میں حضرت مولانا حکیم سید امین الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ امام و خطیب تھے۔ نہایت نفیس مزاج، دبلے پتلے جسم کے مالک اور باوقار شخصیت کے حامل تھے۔ شیروانی زیبِ تن کیے، ہاتھ میں عصا لیے جب وہ ممبر کی جانب تشریف لاتے تو مسجد کا ماحول اور بھی پُروقار ہو جاتا۔ ان کی سنجیدگی، متانت اور اندازِ خطابت نمازیوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتا تھا۔ خطبے کے دوران مسجد میں ایسی خاموشی چھا جاتی کہ گویا ہر شخص پوری توجہ سے ان کی باتوں کو اپنے دل میں اتار رہا ہو۔
حضرت مولانا حکیم سید امین الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق بہار کے ضلع نوادہ کے گاؤں بڈوسر سے تھا۔ آپ نے نئی کریم گنج کی مسجد میں طویل عرصے تک امامت و خطابت کی خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ ایک مکتب اور مطب بھی چلاتے تھے۔ دین اور دنیا، دونوں میدانوں میں آپ کی خدمات نمایاں تھیں۔ ایک طرف آپ بچوں کو قرآنِ کریم اور دینیات کی تعلیم دیتے تھے، تو دوسری طرف اپنے حکیمانہ علم اور تجربے سے لوگوں کا علاج بھی کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دستِ شفا عطا فرمایا تھا۔ چنانچہ لوگ جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی آپ کے پاس آتے اور روحانی سکون و رہنمائی کے متلاشی بھی آپ ہی کے در پر حاضر ہوتے۔ آپ کی شخصیت میں ایک عالمِ دین کا وقار، ایک استاد کی شفقت اور ایک معالج کی ہمدردی یکجا ہو گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ محلے اور اطراف کے علاقوں میں آپ کو بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
حضرت مولانا حکیم سید امین الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی یادیں، خدمات اور تربیت یافتہ افراد آج بھی ان کے زندہ نقوش ہیں۔ اپنے پیچھے آپ چار بیٹوں اور دو بیٹیوں پر مشتمل ایک بھرپور خاندان چھوڑ گئے۔ اس کے علاوہ آپ کے بے شمار شاگرد اور مستفیدین بھی آپ کا قیمتی سرمایہ ہیں، جو آج ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سرکاری افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آج بھی جب ان کے شاگرد اپنے استاد کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ انہیں اپنے استاد کی شفقت، دعا، نصیحت اور تربیت کے وہ دن یاد آ جاتے ہیں جنہوں نے ان کی زندگی کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
جمعہ کے دن ہماری ایک مخصوص ٹولی بھی ہوا کرتی تھی۔ سید محمد متین الدین، افروز عالم، اعجاز سلطان اور دیگر دوستوں کے ساتھ میں بھی اس حلقے کا ایک رکن تھا۔ ہم سب تقریباً ایک ہی عمر کے تھے اور جمعہ ہمارے لیے عبادت کے ساتھ ساتھ ملاقات اور رفاقت کا دن بھی ہوتا تھا۔ مسجد جاتے ہوئے راستے بھر گفتگو ہوتی، کبھی اسکول کے قصے بیان ہوتے، کبھی محلے کے حالات زیرِ بحث آتے اور کبھی آئندہ ہفتے کے منصوبے بنتے۔ لیکن جیسے ہی مسجد کا دروازہ سامنے آتا، سب کے چہروں پر سنجیدگی آ جاتی اور ہم ادب و احترام کے ساتھ اندر داخل ہوتے۔
پرانی کریم گنج کی مسجد کا ماحول بھی اپنی مثال آپ تھا۔ اس مسجد کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ دن کے کسی بھی وقت وہاں چلے جائیں، کوئی نہ کوئی قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہوا ضرور مل جاتا تھا۔ تلاوت کی آواز مسجد کے ماحول میں ایک روحانی کیفیت پیدا کر دیتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ مسجد صرف نماز کے لیے نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن کی دائمی محفل ہو۔
اس مسجد میں مولانا محمد شمیم صاحب امام تھے۔ وہ نہایت باوقار، سنجیدہ اور علم دوست شخصیت کے مالک تھے۔ امامت کے ساتھ ساتھ وہ گیا کے معروف ہادی ہاشمی ہائی اسکول میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتے تھے۔ اس وجہ سے محلے کے لوگوں میں ان کا خاص احترام تھا۔ ان کی گفتگو میں ایک استاد کی سنجیدگی اور ایک عالمِ دین کی شفقت دونوں جھلکتی تھیں۔ بچے ہوں یا بڑے، سب ان سے عقیدت اور محبت کا تعلق رکھتے تھے۔
جمعہ کے روز مسجدوں میں صرف عبادت کا ماحول نہیں ہوتا تھا بلکہ پورا محلہ ایک روحانی اور سماجی مرکز میں تبدیل ہو جاتا تھا۔ دور دراز میں رہنے والے رشتہ دار اور جاننے والے بھی نمازِ جمعہ کے موقع پر مل جاتے۔ مصافحے ہوتے، خیریت دریافت کی جاتی اور بزرگوں کی دعائیں حاصل کی جاتیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جمعہ صرف ایک دن نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے اور رشتوں کو مضبوط بنانے کا ایک خوبصورت وسیلہ ہے۔
نمازِ جمعہ کے بعد محلے کے بہت سے لوگ کریم گنج قبرستان کا رخ کرتے تھے۔ اپنے مرحوم والدین، بزرگوں، عزیز و اقارب اور دوست احباب کی قبروں پر حاضر ہو کر فاتحہ خوانی کرتے، دعا کرتے اور کچھ دیر خاموشی کے ساتھ وہاں گزارتے۔ یہ صرف ایک روایت نہیں تھی بلکہ اپنے اسلاف سے تعلق اور ان کی یاد کو زندہ رکھنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی تھی۔ قبرستان کی پُرسکون فضا انسان کو زندگی کی ناپائیداری اور آخرت کی حقیقت کا احساس دلاتی تھی۔
قبرستان سے واپسی کے بعد گھر پہنچتے ہی دسترخوان کی رونق دیکھنے کے لائق ہوتی۔ اگر سالن میں گوشت بنا ہوتا تو گویا جمعہ کا دن مکمل ہو جاتا۔ اُس زمانے میں گوشت روز روز نہیں بنتا تھا، اس لیے جمعہ کے دن گوشت کے سالن کی اپنی ایک خاص اہمیت تھی۔ گھر کے تمام افراد ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے، کھانا کھاتے، بزرگوں کی باتیں سنتے اور یوں عبادت، دعا، فاتحہ خوانی اور خاندانی محبت کا ایک حسین امتزاج سامنے آتا۔ گوشت والے سالن کی خوشبو آج بھی ان یادوں کے ساتھ نتھی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
نماز کے بعد بازار میں بھی ایک الگ سی رونق ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے، خیریت دریافت کرتے اور محلے کے حالات پر گفتگو کرتے۔ دکانوں پر چہل پہل بڑھ جاتی، بچے ٹولیوں کی شکل میں گھومتے پھرتے اور بزرگ سایہ دار جگہوں پر بیٹھ کر گپ شپ کرتے۔ بزرگوں کی دعائیں، نوجوانوں کا احترام اور بچوں کی معصوم شرارتیں مل کر ایک ایسا سماجی منظر پیش کرتی تھیں جو آج کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ مسجدیں صرف عبادت گاہیں نہیں تھیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، اخلاقی تربیت اور اجتماعی زندگی کا مرکز بھی تھیں۔
آج جب زندگی کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے اور مصروفیات نے انسان کو اپنے حصار میں لے لیا ہے تو وہ دن کسی خواب کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔ نہ وہ سادگی رہی، نہ وہ بے تکلفی اور نہ ہی محلے کی وہ اجتماعی روح باقی رہی۔ مگر یادوں کی دنیا میں وہ سب کچھ آج بھی زندہ ہے۔ نئی کریم گنج اور پرانی کریم گنج کی گلیاں، جمعہ کی تیاری، استری شدہ کرتا پاجامہ، رامپوری اور لکھنوی ٹوپیاں، دوستوں کی ٹولی، حضرت مولانا حکیم سید امین الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کی باوقار شخصیت، مولانا محمد شمیم صاحب کی علمی عظمت، کریم گنج قبرستان کی خاموش فضائیں اور گوشت والے سالن کی خوشبو—یہ سب میرے حافظے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
جب کبھی جمعہ کا دن آتا ہے تو ماضی کی یہ تصویریں پھر سے آنکھوں میں اتر آتی ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ جمعہ صرف ایک عبادت کا دن نہیں تھا بلکہ پورے محلے کی تہذیبی، سماجی اور روحانی زندگی کا محور تھا۔ ان یادوں میں اپنائیت بھی ہے، عقیدت بھی اور ایک گزرے ہوئے خوب صورت زمانے کی مہک بھی، جو وقت گزرنے کے باوجود آج تک دل و دماغ کو معطر کیے ہوئے ہے۔ شاید اسی لیے بچپن کے وہ جمعے آج بھی میری زندگی کے سب سے روشن، سب سے پُرسکون اور سب سے خوب صورت دنوں میں شمار ہوتے ہیں۔
9971143174/9718043174

0 comments