جب امام صاحب کو اپنی بچی کی فیس اداکرنے کے لیے سودی قرض لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا

ہاں ! اب یہ خبر پڑھ کرمحمد نوشاد اختر کا پتہ پوچھنے اور انہیں تلاش کرنے کے بجائے اپنے اپنے محلے کی مساجد کے امام صاحبان کی خبر گیری کیجیے، تاکہ آپ کے محلے کی مسجد کے امام صاحب کو اپنے بچے کی فیس ادا کرنے کے لیے سودی قرض لینے پر مجبور نہ ہونا پڑے

سلام ! ملک کے ہونہار سپوت سنیل کمار کے حوصلے اورعزم کو جنھوں نے نہ صرف اپنے محلے کے درجنوں مسلمانوں کی جان بچائی بلکہ 'ہندوستان'  کو قتل ہونے سے بچالیا

 

نئی دہلی  : (ایشیا ٹائمز / اشرف علی بستوی )  محمد نوشاد اختر آج سے سات ماہ قبل یعنی 24 فروری 2020 تک پیشے کے اعتبار سے کل وقتی امام تھے، شیووہار فیز تھری میں طیبہ مسجد میں امامت کرتے تھے ۔  لیکن اب 12 اکتوبر 2020 کے بعد سے معاشرے میں ان کی شناخت ایک کاروباری کی ہوگی ۔ انہوں نے اب امامت چھوڑ کر کاروبار اپنانے کی ٹھانی ہے۔  ان کی ترقی کی یہ کہانی بڑی دلخراش بھی ہے اور سبق آموز بھی ۔ محمد نوشاد اختر نے ایشیا ٹائمزسے اپنا جو درد ساجھا کیا اسےسن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے ۔

 

پہلے دہلی فسادات میں اخترکا گھر بار تباہ ہوا ، اور پھر مسجد کے متولیوں کے ظلم وجبر کے شکار بھی ہوئے  فسادات کے فورا بعد کرونا لاک ڈاون آگیا مسجد بند کر دی گئی لیکن ڈیوٹی جاری رہی لیکن پھر بھی مسجد انتظامیہ نے انہیں یہ کہہ کر اجرت نہیں دی کہ نمازی نہیں آئے جس کی وجہ سے چندہ نہیں آ سکا ۔  اختر نے لاک ڈاون کے یہ ایام کن مشکل حالات میں گزارے وہ بتاتے ہیں کہ ایک وقت تو  فاقہ کشی تک کی نوبت آگئی تھی ۔

 

 اختر کہتے ہیں کہ جناب کیا کیا بتائیں بڑی بیٹی زائد کالج شاہین باغ سےعالمیت کا کورس کر رہی ہےاس کی فیس  3500 روپئے ماہانہ ہے جسے بھرنے کے لیے مجھے پانچ فیصد کی شرح پر سودی قرض لینا پڑتا تھا اب آپ ہی بتائیں دہلی جیسے شہر میں 7 ہزار روپے ماہانہ  تنخواہ پرکرائے پررہنا اور بچوں کو پڑھانا کتنا مشکل ہے ۔

 

محمد نوشاد اختر جماعت اسلامی ہند کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا بھلا کرے جماعت اسلامی ہند کے لوگوں کا کہ جب انہیں میری حالت کاپتہ چلا تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ میرے گھر کی تعمیر نو کرایا مجھے کاروبار کرنے کے لیے 'ای لوڈر' گاڑی  بھی دیا ہے  ۔ دعاکریں کہ اللہ میری کمائی میں برکت دے اوراب مجھے اپنی بچی کی فیس ادا کرنے کے لیے سود نہ لینا پڑے۔

 

ہم نے دیکھا کہ محمد نوشاد اختر اپنی گفتگو میں بار بار سنیل کمار کا ذکر کرتے جاتے ہیں ۔ سنیل سے ان کا کیا تعلق ہے اسے بھی جان لجیے ۔ امام صاحب اور سنیل کی دوستی کی ایک الگ کہانی ہے اختر بتاتے ہیں کہ میں شیو وہار فیز تھری میں  گزشتہ 18 سال سے رہتا ہوں یہاں سنیل سے میری پہلے دن سے دوستی ہے سنیل کا اور ہمارا تعلق تقریبا 18 سال کا ہے اور ہم ایک دوسرے کے لئے جان نچھاور کرتے ہیں۔

 

 یہ وہی سنیل ہیں جنہوں نے ہمارے محلے میں فسادات کے دوران درجنوں مسلمانوں کو بچانے میں اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔  سنیل نے فسادات سے قبل مجھے 8 لاکھ روپے میں 25 گززمین اپنے پیسے سے خرید کر اس پر ڈیڑھ منزل عمارت تعمیر کر کے گفٹ کیا تھا فسادیوں نے اس میں آگ زنی کردی تھی بعد میں اسی مکان کی مرمت جماعت اسلامی ہند نے کرائی ہے اورانہوں نے مجھے ایک ای  لوڈر گاڑی بھی  دی ہے میں اب انشاءاللہ آنے والے دنوں میں اپنے بچوں کے لیے  روزگار کی تلاش کر لوں گا ۔

 

محمد نوشاد اختر کی یہ دل دوز کہانی ہمارے معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے ، ہمارے منھ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے ۔ ایک مسجد کا امام معاشی تنگی کا اس قدر شکار ہواکہ اسے اپنی بچی کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے سود پر رقم قرض لینا پڑا ۔ مساجد کی تزئین کاری میں لاکھوں بہا دینے والے مسلم معاشرے کو مسجد کے امام کی فکر نہیں ۔ آخر معاشرے کو یہ کیا ہو گیا ہے ہم یہ کیا کر رہے ہیں؟

 مسجد کی زیب وزینت پر لاکھوں خرچ کرنا ہمارے لیے باعث فخر ہے  قالین ،قمقمے ، کولر، گیزر، ایئرکنڈیشن سے آراستہ کرنے میں لاکھوں روپے خرچ کرنا ہمارے لیے کس نے ضروری قراردیا ہے، درصل امام صاحب کی حالت زندگی کو آسان بنانے کے بجائے اسے پریشان رکھنے میں متولی صاحبان کی انا کی تسکین ہوتی ہے ۔

 یہ ایک کہانی نہیں بلکہ ہمارے ہر محلے میں ایسی کہانی موجود ہے ،اختر جیسے امام کسی اور نام سے آپ کے محلے میں بھی ہوں گے ، آئندہ سے ذرا خیال کیجیےگا، اور ہاں خبر پڑھ کرمحمد نوشاد اختر کا پتہ پوچھنے اور انہیں تلاش کرنے کے بجائے اپنے محلے میں موجود مسجد کی امام صاحب کی خبر گیری ضرور کیجیے گا ۔  اللہ ہم سب کو ہدایت دے ۔ آمین 

0 comments

Leave a Reply