نششتن،گفتن،برخاستن سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

اجلاس اور تقریریں بہت ہوچکیں، اب کچھ کام کیا جائے

عبدالغفار صدیقی

ملک میں گزشتہ دنوں چار اہم اجلاس ہوئے۔ایک اجلاس مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کا ہوا۔دوسرا اجلاس مسلم مجلس مشاورت کی جانب سے ہوا۔تیسرا اجلاس سابق ایم پی محمد ادیب کی دعوت پر ہوا اور چوتھااجلاس جمعیۃ العلماء ہند کی جانب سے ہوا۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ میں اس کے اراکین شریک ہوئے،دوسرے تیسرے اجلاسوں میں مختلف جماعتوں،تنظیموں کے ذمہ داران اور نمائندے شامل ہوئے،سیاسی اور سماجی مفکرین نے اظہار خیال کیا،جب کہ جمعیۃ کا اجلاس جمعیۃ کے ذمہ داران پر مشتمل تھا۔البتہ چاروں اجتماعات کا مقصد مشترک تھا۔ایک ہی موضوع تھا کہ ملک کے موجودہ حالات میں مسلمان کیا کریں؟اس پر غور کیا گیا۔حسب سابق مقررین نے اپنی شعلہ بیانی کے جوہر دکھائے۔وہی باتیں دہرائی گئیں جو ہمیشہ کہی جاتی رہی ہیں۔قراردادیں پاس ہوئیں۔حکومت سے عدل و انصاف سے کام لینے کی اپیلیں کی گئیں،مسلمانوں کو غیر اسلامی اور غیر ضروری رسوم سے اجتناب کرنے کی نصیحت کی گئی۔عوام کو صبر کی تلقین کی گئی۔وغیرہ وغیرہلیکن نہ یہ اجلاس نئے ہیں،نہ ان اجلاسوں میں شریک ہونے والے نئے ہیں،ہوسکتا ہے چند نئے چہرے شامل ہوئے ہوں.

اس لیے ان اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو بھی نئی نہیں تھی۔ملک میں مسلمانوں پر یہ حالات اگرچے تکلیف دہ ضرور ہیں مگر یہ تکالیف بھی نئی نہیں ہیں۔مسلمان ہر وقت آزمائش میں رہے ہیں۔حدیث کے مطابق دنیا مومن کے لیے ایک قید خانہ ہے۔ظاہر ہے قید خانے میں انسان کو نت نئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہی ہے۔اس لیے ان اجلاسوں کے بعد کوئی بڑی تبدیلی رونما ہونے کی توقع کرنا دیوانے کا خواب دیکھنے جیساہے، پھرتبدیلیاں باتوں سے نہیں آتیں،عمل سے آتی ہیں اور عمل کی دنیا میں سب کا نامہ ئ اعمال تقریباً خالی ہے۔

مسلم مجلس مشاورت جس کا قیام ہی مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی کم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔جس کا مقصد مسلمانوں کو سیاسی طور پر متحد کرنا تھا برسہا برس تک خود انتشار کا شکار رہی۔موجودہ اجلاس میں بھی شرکاء انتشار ذہنی و فکری کا شکار نظر آئے۔ایک بار تو اسٹیج پر ہی تلخ کلامی کا منظر دیکھنے کو ملا۔موجودہ صدر کے نام نہ ماضی میں کوئی بڑا کارنامہ رجسٹرڈ تھا اور ان آٹھ برسوں میں ہوا جس میں وہ صدر ہیں۔آخر اس ادارے کی ضرورت کیا ہے جس کا کوئی مؤثر رول سماج کی تعمیر میں نہیں ہے۔انڈیا اسلامک سینٹرمیں ہونے والے دوروزہ اجلاس میں تقریباً تین سو لوگ شریک ہوئے،جس میں سو سے زائد لوگ باہر سے آئے تھے۔جن کا قیام و طعام مختلف ہوٹلس میں کیا گیا تھا۔

محمد ادیب صاحب سابق ممبر آف پارلیمنٹ ہیں۔اب بوڑھے ہوچکے ہیں۔کوئی بھی سیاسی جماعت ان کا بوجھ ڈھونے کو تیار نہیں۔اس لیے وہ ملک کے دانشوروں کو جمع کرکے اپنا سیاسی مستقبل محفوظ کرنے کی فراق میں۔جس وقت وہ ایم پی تھے اس وقت ان کے دل میں قوم کا کتنا درد تھا مجھے نہیں معلوم،مگر اب موصوف قوم کے غم میں بیمار رہنے لگے ہیں۔اپنے اجلاس کو غیر سیاسی بتانے کے باوجود درجنوں سیاسی لوگ ان کے کنونشن میں شریک تھے۔موصوف کی طرف سے جو دعوت نامہ ہمارے ایک رفیق کو حاصل ہوا ۔اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ”صرف انھیں علماء کو بلایا گیا ہے جو کسی تنظیم سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔کیوں کہ تنظیموں نے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لیے اپنے وجود اور جماعت کو زندہ رکھنے کے لیے ملت کی فکر نہیں کی ہے۔“ان لفظوں میں موصوف نے ملک میں موجود تنظیموں اور جماعتوں پر ملت کو نظر انداز کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے۔لیکن یہ الزام سراسر جھوٹ بھی نہیں ہے۔کہیں نہ کہیں ادیب صاحب کی باتوں میں سچائی کی جھلک ہے۔اس کانفرنس میں بھی بہت سے لوگ ملک کے مختلف حصوں سے آئے تھے۔ظاہر ہے ان کے آنے جانے،کھانے پینے اور ہوٹلوں میں قیام کرنے پر خاصی رقم خرچ ہوئی ہوگی۔جہاں تک جمعیۃ العلماء ہندکی بات ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے اجداد نے ملک اور قوم کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔لیکن جمعیۃ کی موجودہ قیادت کا کوئی ایسا کارنامہ نہیں جس سے کوئی بڑی امید وابستہ کی جائے۔

بلکہ جمعیۃ کو صرف ایک مسلک کی تنظیم بنانا،اس کے ٹکڑے کرنا،اصلی اور نقلی کے لیے عدالتوں کے رخ کرنا،اسی پس منظر میں دارالعلوم دیوبندکو تقسیم در تقسیم کرنا،خود راجیہ سبھا میں بیٹھ کر دوسروں پر سیاسی کا ٹھپہ لگاکر قوم کے درمیان بدگمانیاں پھیلاناان کے وہ کارنامے ہیں جن کو ہم ہی نہیں ہماری آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ملک کے موجودہ حالات میں پانچ ہزار لوگوں کو جمع کرنا بڑا کام ہے۔من جملہ اور باتوں کے ایک بات یہ اچھی سامنے آئی کہ جمعیۃ سدبھاؤنا گروپ بنائے گی،اس کے تحت ایک ہزار کانفرنسیں کی جائیں گی۔یہ اچھا قدم ہے۔

مگر بہت دیر سے اٹھایا یا گیا ہے۔ملک کی ایک اور دینی تنظیم نے جسے جمعیۃ نے دینی تنظیم کبھی تسلیم نہیں کیا بیس سال پہلے سدبھاؤنا منچ قائم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا۔اسی طرح جمعیۃ العلماء کے ذمہ داران نے برادران وطن کو مسجد اور نماز کے مناظر دکھانے کی بات کہی تھی،یہ نیک کام بھی اس جماعت نے بہت پہلے شروع کیا تھا۔ہندی میں اسلامی لٹریچر اور ترجمہ قرآن کی ضرورت کا اظہار بھی سید ارشد مدنی مد ظلہٗ العالی فرماچکے ہیں،مگر یہ کام بھی بقول شیخ ’گمراہ حضرات‘ اول دن سے کررہے ہیں۔اگر یہ سارے کام درست تھے تو کرنے والوں کی بروقت حوصلہ افزائی کیوں نہیں کی گئی۔آج تک اس جماعت کے تعلق سے کفر اور باطل کے فتوے کیوں دیے جارہے ہیں۔

؟سوال یہ ہے کہ ایک مہینے میں ہی چار اجلاس کا الگ الگ ہونا کیا اس بات کا اشارہ نہیں ہے کہ ملت میں اتحاد کا بھی فقدان ہے اور اعتماد کا بھی۔پھر آپ کس طرح عام مسلمانوں سے کوئی امید کرسکتے ہیں۔کیا مشاورت کے اجلاس سے ادیب صاحب کے مقاصد پورے نہیں ہوسکتے تھے۔کیا ان اجلاسوں پر جو رقم خرچ ہوئی اس کو کسی تعلیمی منصوبے پر خرچ نہیں کیا جاسکتا تھا۔شادی بیاہ میں غیر ضروری خرچ پر تنقید کرنے والوں کو غیر ضروری اجلاسوں پر ہونے والے شاہانہ اخراجات پر بھی لگام لگانا چاہئے۔میری رائے ہے کہ اب تقریروں اوراجلاسوں کو درکنار کیجیے اور عملی اقدام کیجیے۔

اپنے شعائر کو بچانے لیے قانونی کارروائی کیجیے۔برادران وطن تک اپنا موقف پہنچانے کے لیے سدبھاؤنا ریلیاں  اور کانفرنسیں بھی کیجیے مگر ساتھ ہی اپنے عمل سے ثابت کیجیے کہ اسلام انسانی بنیادوں پر بھائی چارہ کا حامی ہے۔جو لوگ اپنے اداروں سے کلمہ پڑھنے والوں کے خلاف کفر کے فتوے داغتے ہوں ان کے منھ سے سدبھاؤنا کی باتیں کچھ عجیب سی لگتی ہیں۔اس لیے پہلے اس بات کا اعلان کیجیے کہ حضرت محمد ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھنے ولاہر شخص مسلمان ہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ میں شامل ساری جماعتیں برحق ہیں،اس کے بعد سدبھاؤنا کا پیغام لے کر اٹھیے۔ الگ الگ اجلاس کرکے آپ قوم کا بے وقوف تو بنا سکتے ہیں,جیسا کہ گزشتہ ستر سال سے بناتے آرہے ہیں لیکن موجودہ حکمران ہماری اصلیت سے واقف ہیں وہ کسی دباؤمیں آنے والے نہیں ہیں۔حکومت سے انصاف کی امید کرنے والے پہلے اپنے اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اور کارکنان میں انصاف قائم کریں۔بھارت میں اقامت دین کا نصب العین رکھنے والے اپنے کیمپسزمیں اسلام کا نظام قائم کرکے دکھائیں۔اصلاح معاشرہ کی تحریک چلانے والے خود کی اصلاح فرمالیا تو غنیمت ہے،قوم کو متحد ہونے کی تلقین کرنے والے اپنے آپ کو کسی اجتماعیت میں ضم ہوکر دکھائیں۔


 نوٹ:مضمون نگار راشدہ ایجوکیشنل اینڈ سوشل ٹرسٹ کے چیرمین ہیں۔

9897565066



0 comments

Leave a Reply