أم عماره نسيبہ بنت كعب - جب مردوں كے اوسان خطا ہو گئے

عماره رضوان – جامعہ سينئر سيكنڈرى اسكول – نئى دہلى

" الله تعالى كى رحمتيں نازل ہوں تم پر اور پور ے گهر والوں پر – الله كى نعمتيں حاصل ہوں گهر كے ہر فرد كو "

يہ وه كلمات ہيں جو رسالت مآب – صلى الله عليه وسلم – كے زبان مبارك سے ادا ہوئے  ام عمار ه اور ان كے گهر والوں كے بارے ميں 

 ام عماره نے اس بشارت پر قانع نہ ہوئيں بلكہ ايك اور فرمائش كر ڈالى – " اے الله كے رسول ! ہم تو جنت ميں آپ كى رفاقت اور معيت چاہتے ہيں ، آپ ہمارے لئے دعا كردى جئے "

رسول پاك – صلى الله عليہ وسلم – كے ہاتھ اسى وقت دعا كے لئے اٹھ گئے اور يہ دعا كى – " اے الله ! ان سب كو جنت ميں ہمارى معيت عطا فرما "

أم عماره كا چہره خوشى سے دمك اٹها اور زور سے پكا ر اٹهيں – " اب تو كسى چيزكا كوئى غم نہيں - چاہے اس راستے ميں كو ئى بهى مشكل كيوں نہ پيش آئے "

يہ مكالمہ ہے غزوه احد كے موقع كا جب پہلے مرحلے ميں مسلمانوں كا پلڑا بهارى تها مگر اچانك  پانسہ پلٹ گيا 

 يہ كيا ہوا ؟  اب تو مشركين ميدان مار رہے ہيں – جوابى حملہ بڑا شديد ہے ، مومنين كى جماعت ميں دراڑ پڑ چكى ہے 

حضرت عمر بن الخطاب رضى الله عنہ سے مروى ہے كہ رسول الله – صلى الله عليہ وسلم – غزوه احد كو يا د كرتے ہوئے  ;ہوئے كئى بار ذكر فرمايا  كہ "اس دن  ميں جدهر نگاه دوڑاتا تها – آگے ، پيچھے ، دائيں ، بائيں – ميں ہر طرف ام عماره كو ديكهتا تها ، وه  بڑى بے جگرى سے كافروں كا مقابلہ كررہى تهيں اور مردانہ وار كافروں پہ پل پڑتى تهى "

  ام عماره غزوه احد ميں اپنے شوہر اور دو بيٹوں كے ساتھ شريك ہوئيں  اور نبى كريم صلى الله عليہ وسلم كے دفاع ميں باره سے زياده زخم اپنےجسم پر سہے 


 أم عماره  ،  ان دو خواتين ميں سے ايك تهيں جب تہتر (73) نفوس قدسيہ   كا قافلہ نبى صلى الله عليہ وسلم سے ملاقات كے لئے حج كے ايام ميں مكہ كى جانب روانہ ہوا، اور نبى صلى الله عليہ وسلم كے ہاتهوں پر ہرحال ميں سمع وطاعت ، تنگى وخوشحالى ميں راه خدا ميں انفاق اور امربالمعروف ونهى عن المنكر كى بيعت كى تهى   

 أم عماره -رضى الله عنها –  نے اس وقت بهى اس عہدكى پاسدارى كى جب درخت كے نيچے حديبيہ كے مقام پر نبى كريم – صلى الله عليہ وسلم   ايك بار پهر تجديد عہد كر رہے تهے اور جان كى بازى  پر جنت كى بشارت دے رہے تهے ،  صرف نبى كى زبان سے ہى نہيں بلكہ خود رب العالمين كى زبانى  "

( لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا (

بيعت عقبہ ثانيہ كے موقع پر پورے گهر نے بيعت كى تهى 

الله كے راستےميں سب كچھ قربان كرنے كى 

اسلام كى حميت اور اس كى مدافعت كى 

الله اور اس كے رسو ل كى اطاعت كى 

اور  سچ مچ يہ پورا گهرانہ اپنے وعدے پر كهرا اترا ، حبيب بن زيد -رضى الله عنہ – آپ كے ہى بطن سے پيدا ہوئے تهے ، اور أم عماره نے اپنے دودھ كے ساتھ اخلاص ووفا كا دودھ بهى پلايا تها . تبهى تو حبيب بن زيد مسيلمہ كذاب  كے سامنے   صدق ووفا كى مثال رقم كى ، مسيلمہ آپ كے ايك ايك عضو كو كاٹتا جاتا تها اورپوچهتا جاتا تها كہ كيا تم اب بهى مجھے الله كا رسول نہيں مانتے اور حبيب بن زيد كا يہ جواب ہوتا كہ تو كذاب ہے ، جهوٹا ہے  ، نبى صادق تو صر ف محمد -صلى الله عليہ وسلم ہيں جن پر ہم ايمان لائے ،- مسيلمہ كى تعذيب سے آپ نے سرِمو  انحراف نہ كيا اور راه حق ميں شہيد ہو گئے 

 الله راضى ہو

  ام عماره سے

زيد بن عاصم سے 

حبيب بن زيد سے ، - رضى الله عنهم أجمعين

 

0 comments

Leave a Reply