مولوی اور مولاناؤں میں شہرت و پبلسٹی کا یہ’ہوکا‘؟

حرف نیم کش

عظیم اختر
دینی رہنمائی کے پردے میں امتِ مسلمہ کو سیاسی، سماجی معاملات وقتاً فوقتاً اور عید، بقرعید، رمضان اور محرم جیسے اہم تیوہاروں کے موقعوں پر بالخصوص اپنے گراں قدر مشوروں سے نوازنے، ہدایتیں جاری کرنے اور شہری انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کو میمورنڈم دے کر سرکار سے اپنی صوابدید کے مطابق ناقابلِ عمل مطالبات کر کے اخبارات میں با تصویر بیانات چھپوانے والے مولوی او ر مولاناؤں کے حلقوں میں ہماری یہ تحریر یقینا ناگوار گزرے گی لیکن گزشتہ ہفتے منائی جانے والی بقرعید سے قبل دہلی سے چھپنے والے اردو کے ہر چھوٹے بڑے روزنامے میں عید کی نماز اور قربانی کے حوالے سے دہلی اور اتر پردیش کے چھوٹے بڑے شہروں کی اہم مساجد کے مفتیوں، قاضیوں اور مدارسِ دینیہ کے ذمہ داروں کے با تصویر بیانات کی باڑھ کو دیکھنے کے بعد ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے آج کے دینی رہنماؤں اور ملی قائدین کے مقابلے میں گزشتہ چالیس پچاس برس پہلے کے علماء حضرات اپنے بوریہ نشیں اسلاف کی طرح نہ صرف فہم و فراست کے مالک تھے بلکہ صحیح معنوں میں صاحبِ کردار تھے اور نام و نمود، شہرت و پبلسٹی کی علت ان کو چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔


آج کی طرح اس زمانے میں بھی جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں قومی پریس خاص کر انگریزی اور ہندی کے اخبارات مسلم مسائل اور مسلمانوں کے ردِ عمل کو قابلِ اشاعت نہیں سمجھا جا تا تھا۔ اردو اخبارات میں بھی صرف مسلم مالکان کے اخبارات میں ہی مسلمانوں کے مسائل اور ان مسائل پر صاحب الرائے حضرات کے بیانات بطورِ خاص شائع کیے جاتے تھے تاکہ اربابِ اقتدار کو مسلم طبقے کے ردِ عمل کا علم ہو سکے۔ ہمہ شما اور مذہبی طبقے کے غیر معروف اور گمنام مولوی مولاناؤں کے بیانات اور فرمودات کو عام طورپر خطوط کے کالم میں کھپا دیا جاتا تھا تاکہ مساجد اور مدارسِ دینیہ کا یہ طبقہ بھی خوش رہے اور اخبار سب کو ساتھ لے کر اپنے صحافتی سفر پر گامزن رہے، لیکن آج سے دو ڈھائی دہے پہلے اردو دنیا میں قدم رکھنے والے کارپوریٹ گھرانے کے ایک نوزائیدہ اخبار کے مدیر نے اردو اخبار پڑھنے والوں میں سیندھ لگانے اور خاص طور پر مسلمانوں کے سماجی اور دینی حلقوں میں اپنی اور اپنے اخبار کی جگہ بنانے کے لیے ایک ایسی روایت کو جنم دیا جس کا اس وقت تک اردو اخبارات کی دنیا میں کوئی تصور نہیں تھا۔ نومولود اخبار کے مالکان اردو زبان تو کجا اس کے حروفِ تہجی سے بھی نا آشنا تھے۔ یہی حال مدیرِموصوف کا تھا جو اردو دنیا میں بذاتِ خود گمنام اور اردو صحافت میں طفلِ نو تھے، لیکن آدمی تھے ذہین اور اس حقیقت کا ادراک رکھتے تھے اردو صحیح معنوں میں مدارسِ دینیہ اور مذہبی طبقے کی بدولت ہی زندہ ہے اور یہی طبقہ اخبارات کو زندہ رکھنے کے لیے قارئین کی شکل میں آکسیجن فراہم کرتا ہے۔


چنانچہ اس حلقے پر اخبار کے صفحات وا کر دیے اور مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل پر معتبر اور صاحب الرائے افراد کے بجائے دہلی اور اس کے قرب و جوار کے شہروں کے مدارس اور مساجد کے گمنام اور غیر معروف اساتذہ اور ائمہ حضرات کے با تصویر بیانات اخبار کے صفحات کے زینت بننے لگے۔ صحافت کی اعلیٰ قدروں کی دھجیاں اڑاتی ہوئی اس بدعت نے ہماری مساجد کے ائمہ حضرات اور مدارسِ دینیہ کے ذمہ داروں کا نہ صرف شہرت پسند بنا دیا بلکہ اردو کے چھوٹے بڑے تمام اخبارات مسلمانوں کے اس بڑے حلقے میں جگہ بنانے اور ریڈر شپ قائم رکھنے کے لیے گمنام سے گمنام مولوی اور مولاناؤں کے باتصویر بیانات چھاپنے کے لیے مجبور ہو گئے ہیں۔

اسے اخبارات کی مجبوری ہی کہا جائے

اسے اخبارات کی مجبوری ہی کہا جائے گا کہ ہر صبح اردو اخبارات میں نام و نمود کے خواہشمند اور شہرت و پبلسٹی کے بھوکے مولوی حضرات کے ایسے با تصویر بیانات نظر آتے ہیں، جن کو پڑھ کر ان کی عقل و خرد اور فہم و فراست پر آنسو بہانے کو دل چاہتا ہے۔کرونا پھیلنے اور ملک گیر پیمانے پر لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود سے محدود تر ہو گئی تھی۔ حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ پابندی کسی انتقامی جذبے کی وجہ سے نہیں بلکہ مفادِ عامہ میں تھی اور مجموعی طورپر مسلمانوں کے ہی ہِت میں تھیں۔تاکہ عام نمازی اس متعدی مرض سے بچ سکیں لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے کہ عام دنوں میں مساجد میں نمازیوں کی کمی کا شکوہ کرنے والے ہمارے مولوی حضرات نے اس پابندی کو دوسرے معنیٰ پہناتے ہوئے عام نمازوں کے وقت اور بالخصوص عید الفطر کی نماز کی  ادائیگی کے لیے مساجد کے دروازے کھلوانے کا اتنی شدت سے مطالبہ کیا اور اخبارات میں تسلسل کے ساتھ اس قدر با تصویر بیانات چھپوائے کہ سمجھ دار اور عقل مند طبقہ حیران رہ گیا۔ صحتِ عامہ کے مفادکے پیش نظر بھلا اعلیٰ سرکاری افسران ایسے مطالبات کو کیسے منظور کر سکتے تھے، چنانچہ وہ سارے مطالبات صحرا میں اذان ثابت ہوئے لیکن با تصویر بیان بازی کا شوق پورا ہوتا رہا۔ یہی صورتِ حال عید الاضحیٰ کے موقع پر نظر آئی جب حکومتِ اتر پردیش نے مساجد میں نماز کی ادائیگی اور ممنوعہ جانوروں کی قربانی پر پابندی عائد کرتے ہوئے گائڈ لائنس جاری کیں۔

ممنوعہ جانور کی قربانی نہ کرنے کی ہدایت مفادِ عامہ میں ایک اہم ضرورت تھی

ان گائڈ لائس کے جاری ہوتے ہی ہمارے مذہبی طبقے کی طرف سے بیان بازی اور مطالبات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔حکومتِ اترپردیش کی گائڈ لائنس میں ممنوعہ جانور کی قربانی نہ کرنے پر خاصا زور دیا گیا تھا۔ دنیا جانتی ہے کہ اتر پردیش میں ممنوعہ جانور سے صرف گائے مراد ہے اور آج کے سیاسی، سماجی حالات میں کوئی بھی مسلمان شمالی ہندوستان بالخصوص اتر پردیش میں جہاں گائے کا گوشت کھانے یا رکھنے کے شبہے میں بھگوا بریگیڈ کے جیالے بہادر قانون کو فوراً اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں، گائے کی قربانی کی ہمت نہیں کر سکتا۔ تقسیمِ وطن سے پہلے تو اتر پردیش میں عید کے موقع پر گائے کی قربانی ایک عام بات تھی، لیکن جب سے گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد کی گئی مسلمان اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کے پیشِ نظر از خود گائے کی قربانی کو مکمل طورپر فراموش کر چکے ہیں اور آج  ریاستِ اتر پردیش میں عید الاضحی کے موقع پر گائے کی قربانی کا تصور بھی محال ہے۔ حکومتِ اتر پردیش کی گائڈ لائنس میں ممنوعہ جانور کی قربانی نہ کرنے کی ہدایت مفادِ عامہ میں ایک اہم ضرورت تھی اور صحیح تھی، لیکن اتر پردیش کے ہر چھوٹے بڑے قصبے اور شہر کے مولویوں اور مفتیوں نے جوشِ بیان بازی میں مسلمانوں کو یہی مشورہ دیا کہ ممنوعہ جانور کی قربانی سے اجتناب برتا جائے جس سے صرف یہی تاثر قائم ہوتا ہے کہ عام مسلمان حکومتی قوانین اور اکثریت کے مذہبی جذبات کی کوئی قدر نہیں کرتے اور گائے کی قربانی کرنے سے باز نہیں آتے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج مسلمان کھل کر تو کجا چھپ کر بھی گائے کی قربانی کر کے اپنے اور اپنے لواحقین کے لیے مسائل پیدا کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ ہمارے مفتیانِ کرام مولوی حضرات کو اس حقیقت کا بخوبی علم ہے لیکن اس شوقِ بیان بازی کو کیا کہا جائے، جو ہر چھوٹے بڑے مولوی کو نام و نمود حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے لا یعنی بیانات دینے کے لیے اکساتا رہتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے مذہبی طبقے کے غیر معروف اور گمنام حضرات کے اس قسم کے بیانات سے اخبارات کے قارئین کوئی اثر قبول نہیں کرتے اور اکثر پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے.

 

لیکن المیہ یہ ہے کہ اردو اخبارات کے ذمہ دار حضرات مدارسِ دینیہ اور ائمہئ مساجد کے طبقوں پر اپنی پکڑ بنائے رکھنے کے لیے نام و نمود پانے اور شہرت و پبلسٹی کرنے والے اس جذبے کو فروغ دے رہے ہیں جسے دنیوی اصطلاح میں ’ہوکا‘ کہا جاتا ہے اور نائبِ رسول ؐ سمجھے جانے والے حضرات کو کسی بھی طور زیب نہیں دیتا۔ اس جذبے کی شدت نے بہت سے غیر معروف اور گمنام مولویوں کو ٹی وی چینلز کے بحث و مباحثے کے پروگرام میں پہنچا دیا، جہاں ان کی سطحی علمیت اور تھتھلی واقفیت نے پروگرام دیکھنے والے غیر مسلم ناظرین پر اسلام کا کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوا۔


M: 9810439067

0 comments

Leave a Reply