ہندوستانی مسلمانوں کے لیے دہلی کے ساکیت کورٹ سے ایک قابل اطمینان خبرآرہی ہے
ایشیا ٹائمز کی خبرکا اثر؛ مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ کے ٹرسٹی صاحبان نے لیا نوٹس چیئرمین کے خلاف عدالت پہونچے ، عدالت نے عمارت فروخت کرنے پر لگائی روک
نئی دہلی :( ایشیا ٹائمز /اشرف علی بستوی ) ہندوستانی مسلمانوں کے لیے دہلی کے ساکیت کورٹ سے ایک قابل اطمینان خبرآئی ہے کہ گزشتہ 37 برس سے ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے کام کرنے والی تنظیم مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ/ ایس آئی ٹی کی عمارت کو فروخت کرنے کے خلاف عدالت نے اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے ۔
ایشیا ٹائمز نے جولائی کے دوسرے ہفتے میں کی تھی اسٹوری
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق چئیرمین کی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے بے چین ٹرسٹی صاحبان ایشیا ٹائمزکی خبر منظرعام پر آنے کے بعد سے حرکت میں آئے اور دہلی کے ابوالفضل انکلیو واقع صدر دفترکی عمارت کو ٹرسٹ کے چیئرمین امان اللہ خان کے فروخت کرنے کے فیصلے کے خلاف دہلی کی ساکیت عدالت کو رجوع کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے عمارت فروخت کرنے یا عمارت میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے سے روک لگا دی ہے۔
واضح رہے کہ ایشیا ٹائمزنے جولائی کے دوسرے ہفتے میں عمارت کو فروخت کیے جانے کی خبر پا کر ایک ویڈیو اسٹوری کی تھی ۔ اس کے بعد یہ معاملہ ملی حلقوں میں زیر بحث آیا تھا ۔
چیئرمین کی من مانی کے خلاف ٹرسٹی صاحبان نے مورچہ کھولا
ٹرسٹ کے چیئرمین کی من مانی کے خلاف اب ٹرسٹی صاحبان نے مورچہ کھول دیا ہے ، مزید اطلاعات یہ ہیں کہ میڈیا میں خبر آنے سے پیدا پریشر کے بعد حال ہی میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں چیئرمین امان اللہ خان نے آنا فانا میں ٹرسٹی صاحبان کی میٹنگ بلالی تاکہ معاملے کوکسی طرح رفع دفع کیا جا سکے لیکن ٹرسٹی صاحبان نے ان کی ایک نہ سنی اور سبھوں نے ایک آواز ہو کرعمارت فروخت کرنے کی پرزور مخالفت کی اورچیئرمین پر اعتماد کو ٹھیس پہونچانے کاغذات میں گڑبڑی کرنے کا الزام لگایا ہے۔
علی گڑھ میں ٹرسٹ کی 15000 گززمین ہے، اس کے کاغذات کہاں ہیں ؟
پتہ چلا ہے کہ اس درمیان ٹرسٹی صاحبان کی کوشش جاری ہے کہ معاملہ عدالت سے حل کرنے کے بجائے چیئرمین کو سمجھا بجھا کر باہمی گفت وشنید سے حل کر لیا جائے اوریہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ کی علی گڑھ میں بھی 15000 گز زمین ہے ۔ چیئرمین کی بد نیتی ظاہر ہونے کے بعد سے ٹرسٹی صاحبان کی تشویش علی گڑھ کی زمین کے مستقبل کو لیکر بڑھ گئی ہے ۔ لہذا ٹرسٹی صاحبان اب اس زمین کے کاغذات بھی چیئر مین سے طلب کیے ہیں اس کی تلاش جاری ہے ،خدا کرے اس زمین کے کاغذات صحیح سلامت مل جائیں او ملت اسلامیہ ہند کا یہ اثاثہ محفوظ رہے ۔
दिल्ली में अल्पसंख्यक छात्रों को Scholarship देने वाले संस्थान पर लगा ताला
سوال صرف امان اللہ خان سے ہی کیوں ، ٹرسٹی صاحبان سے کیوں نہیں ؟
جی ہاں بالکل ! یہ بات سمجھ سے بالا ترہے کہ ایک ایسا شخص جس نے ملت کی اتنے طویل عرصے تک خدمت کی ہو ہزاروں بچوں کی تعلیمی کفالت کے لیے اسکالر شپ کا نظم کیا ہو اب عمرکے آخری پڑاو پرایسا غیرمتوقع قدم کیوں اٹھا لیا ؟ سوال ٹرسٹی صاحبان سے بھی کیا جانا چاہیے جوایک لمبے عرصے سے امان اللہ خان کی قیادت میں کام کر رہے تھے انہوں نے کبھی ٹرسٹ کے داخلی معاملات کو جاننے سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟ یہ معاملہ ایک دن میں تو ہوا نہیں ہوگا ظاہر ہے یہ کشمکش مہینوں قبل شروع ہوئی ہوگی جسکا سبھی ٹرسٹی صاحبان کو علم ضرور ہواہوگا تو انہوں نے عمارت بلڈر کو دیے جانے سے قبل روکنے کی کیا کوشش کی ؟ جب معاملہ سمجھانے بجھانے سے آگے نکل رہا تھا تب اگر ایک پریس کانفرنس ہی کر لیتے تو اس جھمیلے سے ادارے کو بچا یا جا سکتا تھا ۔
اس ادارے سے مسلمانوں کوکیا کیا فائدہ پہونچ رہا تھا ؟
یہ ٹرسٹ 1989 میں قائم ہوا جس کا بنیادی مقصد ہندوستانی مسلم نوجوانوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھانا تھا ۔ خاص طور سے میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلہ لینے والے ہونہار مسلم طلبا کے تعلیمی اخراجات کے لیے اسکالرشپ دینا تھا ۔ ابتک 7500 سے زائد طلبہ یہاں سے اسکالر شپ پاکر اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں ۔اسکالر شپ کا 58 فیصد انجینئرنگ کے طلبا کو 40 فیصد میڈیکل کے طلبا کے لیے اور 2 فیصد دیگر کورسیز میں پڑھنے والوں کو دی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ تعلیم پر اہم سمپوزیم سمینار ہوتے ہیں اور ریسرچ کاکام ہوتا ہے ۔ مسلم کمیونٹی میں سائنس و ٹیکنالوجی کی سمجھ اعلیٰ تعلیم کا فروغ اس کے لیے اسکالر شپ کا نظم کے علاوہ دہلی کے پسماندہ آبادیوں میں اسکول کا قیام بھی اسکے مشن کا حصہ ہے۔ آرٹ، سائنس، کامرس سبھی اسٹریم کے طلبا کے لیے گرانٹ /لون اسکالر شپ کا نظم کرنا ، ریمیڈیل کی کوچنگ کلاسیز چلانے کے لیے مالی امداد ،اقلیتی طلبا کی صلاحیت سازی کے لیے اسپیشل ایجوکیشن سینٹرس کا قیام شامل ہے ۔
ایسے اہم ادارے دہائیوں میں بنتے ہیں
مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ جیسے ادارے دہائیوں میں بنتے ہیں، یہ بھی یاد رہے یہ ادارہ ملی سرمایہ ہے۔ اسے جس کسی نے بھی قائم کیا ہے وہ ملت کا ایک فرد ہے ،ملت اسلامیہ کے پیسے سے ملت اسلامیہ ہند کی فلاح و بہبود کے لیے ادارہ قائم کیا یہ اس کی ذاتی ملکیت کیسے بن گئی ؟ آخر ہمارے ملی ادارے گزرتے وقت کے ساتھ ذاتی ادارے میں تبدیل کیسےہوجاتے ہیں؟ ہمارے ادارے احتساب اور جوابدہی کے میکانزم کے دائرے میں خود کو کیوں نہیں لاتے؟ یاد رکھیے ملت اسلامیہ ہند کا ہر فرد کسی بھی ملی ادارے کے ٹرسٹی کی حیثیت رکھتا ہے اسے ادارے کے بارے میں جاننے کا پورا حق ہے۔ اس لیے اسے آگے بڑھانا اس کی خبر گیری کرنا اسے نظر بد سے بچانا ہر ہندوستانی مسلمان کا حق ہے اورسبھی کو اسے بچانے کے لیے اگے آنا چاہیے ۔

جاوید علی
ماشاءاللہ آپ بہت کام کر رہے ہیں۔ کچھ مشورے۔ ساکیت عدالت کے اسٹیشن کی تاریخ بھی آنی چاہیے۔ اگر اپ براہِ راست جناب برادر امان اللہ سے انٹرویو لے سکیں تو بہت بہتر ہو۔ تاکہ وہ اپنا موقف رکھ سکیں۔ .