حماس کی کارروائی میں کوئی حیران کن بات نہیں ہے / سوم دیپ سین
حماس کا یہ مزاحمتی عمل فلسطین پراسرائیلی جارحیت اور قبضے کی وجہ سے ہوا ہے
تحریر : سوم دیپ سین
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی حکام ہفتے کے روز حماس کے آپریشن الاقصیٰ فلڈ کی وجہ سے چوک گئے ۔ راکٹ فائر کرنے کے علاوہ فلسطینی دھڑے نے غزہ کی پٹی سے اپنے جنگجوؤں کو جنوبی اسرائیل میں بھیجا، جہاں انہوں نے فوجی اہداف پر حملہ کیا، کچھ اسرائیلی بستیوں پر مختصر طور پر کنٹرول حاصل کیا اور درجنوں شہریوں اور فوجیوں کو یرغمال بنا لیا۔ کچھ لوگوں نے حماس کے حملے کو اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس آلات کی "بڑی ناکامی" قرار دیا ہے ۔
لیکن اس آپریشن میں کوئی سرپرائز نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ صرف اسرائیلی حفاظتی اقدامات میں کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسا ردعمل ہے جس کی توقع فلسطینی عوام سے کی جانی چاہیے، جو کئی دہائیوں سے اسرائیلی استعمار اور قبضے کا شکار ہیں۔

کچھ لوگوں نے حماس کے حملے کو اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس آلات کی "بڑی ناکامی" اور "دہشت گردانہ" عمل قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کو "اپنے دفاع کا حق" حاصل ہے۔
نہ ہی یہ صرف اسرائیلی حفاظتی اقدامات میں خامیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسا ردعمل ہے جس کی فلسطینی عوام سے توقع کی جانی چاہیے، جو کئی دہائیوں سے اسرائیلی آبادکار استعماری حکومت اور اسکے قبضے کا سامنا کررہی ہے۔
بین الاقوامی قانون ریاستوں کو "کسی بھی فوجی قبضے سے منع کرتا ہے، چاہے وہ عارضی ہو"۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 37/43 بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں کو "مسلح جدوجہد سمیت تمام دستیاب ذرائع" کا استعمال کرتے ہوئے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔ دوسرے لفظوں میں، آپریشن الاقصیٰ فلڈ فلسطینیوں کی مسلح جدوجہد ہے جسے اسرائیلی قبضے اور استعمار نے اکسایا ہے۔

فلسطینی دنیا کی سب سے طاقت ور مسلح افواج میں سے ایک کے خلاف ہیں۔
یہ آپریشن غزہ سے شروع کیا جانا بھی حیران کن نہیں ہے فلسطینی نژاد امریکی اسکالر مرحوم ایڈورڈ سعید نے ایک بار غزہ کو فلسطینی جدوجہد کا " مرکز" کہا تھا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں 1948 کے نکبہ کے دوران اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ اس نے پہلے انتفاضہ کو جنم دیا تھا اور گزشتہ چند دہائیوں سے فلسطینی مسلح مزاحمت کا مرکز بنا ہوا ہے ۔
غزہ 16 سال سے اسرائیلی محاصرے کی زد میں ہے، جس نے اس کے لوگوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے لیکن مزاحمت کرنے کی ان کی خواہش کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ ناکہ بندی 2006 میں فلسطینی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حماس کے جیتنے کے بعد عائد کی گئی تھی لیکن اس کے فلسطینی حریف الفتح نے اسرائیل اور اس کے حامیوں کے ساتھ مل کر اسے اقتدار میں آنے سے روکنے کی سازش کردی تھی ۔
کئی مہینوں کی لڑائی کے بعد، حماس جون 2007 میں غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، تب اسرائیل اور اس کے شراکت داروں نے وہاں رہنے والے فلسطینیوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے کا فیصلہ کیا۔
16 سال سے زائد عرصے سے غزہ کے باشندوں کو نقل و حرکت کی آزادی نہیں ہے۔ وہ اسرائیل کے زیر کنٹرول چوکیوں کے ذریعے جا سکتے ہیں اگر ان کے پاس اسرائیلی ورک پرمٹ ہے۔ طبی علاج کے لیے اجازت ملنا ان کے لیے بے حد مشکل بنا دیا گیا ہے ۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے میں جانے کے لیے ویزا ہونا ضروری ہوتا ہے جس کا حصول ان بے وطن لوگوں کے لیے بے حد مشکل ہے، اور پھر مصری حکام کے رفاہ بارڈر کراسنگ کو بند کرنا الگ مسئلہ ہے ۔ (مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے 2012 میں اسی بارڈرکو کھولنے کا اعلان کر دیا تھا )
ناکہ بندی نے غزہ کی معیشت کو تقریباً ٹھپ کر دیا ہے۔ آج تقریباً نصف آبادی بے روزگار ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ محاصرے کی وجہ سے خوراک کی فراہمی بھی محدود ہے۔ 2007 سے 2010 تک، اسرائیلی حکام نے غزہ کے لوگوں کے لیے خوراک تک رسائی کو محدود کر رکھا ہے ۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ کی آبادی کا ایک اہم حصہ غذائی قلت کا شکار ہے۔ 2022 میں، پورے فلسطین میں 1.84 ملین افراد آبادی کا ایک تہائی کے پاس کھانے کے لیے پوری خوراک نہیں تھی۔ ان حالات میں جینے والے لوگوں سے آپ کیا توقع کرسکتے ہیں ۔
نوٹ : سوم دیپ سین۔ ڈنمارک کی روسکلڈ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، ان کا یہ مضمون الجزیرہ انگریزی میں شائع ہوا ہے ، ایشیا ٹائمز نے اسے اردو میں ترجمہ کرکے شائع کیا ہے ۔ اصل مضمون کو پڑھنے کے لیے آپ الجزیرہ کی لنک پر کلک کر سکتے ہیں ۔

Azharuddin
حقائق پر مبنی تجزیہ بہت خوب مدلل اور غیر جانبدار تجزیہ دنیا کو ایسی بے باک صحافت کی ضرورت ہے .