صدر ٹرمپ کے لیے فاقہ کرنے والا کسان چل بسا

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت یابی کے لیے کھانا پینا چھوڑ دینے لیکن فاقہ کشی کے بعد مرنے والے ایک انڈین کسان  کے گاؤں کے لوگ افسردہ ہیں۔  
اپنا نام بدل کر ٹرمپ کرس رکھنے والے بسا کرشنا راجو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کورونا وائرس کے انفیکشن کی خبروں کے بعد کھانے پینے سے پرہیز کر رہے تھے۔ 
انہوں نے یہ جان کر ہفتہ کے روز فاقہ کشی کی کہ صدر ٹرمپ  بہتر ہیں۔ تاہم اگلے دن  چائے پیتے ہوئے وہ دنیا سے گزر گئے۔ 
انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ کے ضلع جانگون کا گاؤں ان کی موت پر سوگوار ہے۔  
مقامی صحافی ویرا گوڈ نے عرب نیوز کو بتایا  ٹرمپ کرس کی ہلاکت اس علاقے میں ایک خبر ہے۔ ’وہ ٹرمپ کو حد سے زیادہ پسند کرتے تھے اور امریکی رہنما کے ساتھ اپنی لگن کی وجہ سے  انہوں نے اپنا نام تبدیل کرکے بسا کرشنا راجو سے ٹرمپ کرس رکھ لیا تھا۔ 
راجو 32 سال کے تھے جب ان کی موت ہوئی۔ ان کے لواحقین نے بتایا کہ ان موت حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوئی۔ 

چائے پیتے ہی وہ گرا اور فوت ہوگیا- فوٹو نیویارک ٹائمز
راجو کے کزن بکا وجے کمار نے عرب نیوز کو بتایا  ’وہ پانچ دن سے اتنے پریشان تھے کہ انہوں نے کھانا چھوڑ دیا تھا۔‘  
’وہ اپنے کمرے سے صرف اس وقت باہر آئے جب انہیں معلوم ہوا کہ صدر ٹرمپ صحت یاب ہو گئے ہیں  تاہم  وہ اس وقت گر گئے جب وہ چائے پی رہے تھے۔ 
نوئیڈا میں مقیم پلمونولوجسٹ ڈاکٹر لولین منگلا کے مطابق  عام جسم 30 دن تک بھوک کا مقابلہ کر سکتا ہے۔  
منگلا نے عرب نیوز کو بتایا  ’ہوسکتا ہے کہ وہ کسی دل کی بیماری کی وجہ سے مرے ہوں۔‘ ’یہ ضرور ایک طویل عرصے سے رہا ہو گا اور کسی نے انہیں نہیں دیکھا تھا۔‘ 
ٹرمپ کی امریکی انتخابات میں کامیابی کے بعد  راجو کا ٹرمپ کرس بننے کا سفر 2016 میں شروع ہوا تھا۔ 

ٹرمپ کے مجسمے کی تعمیر پر دو لاکھ انڈین روپے خرچ کیے تھے فوٹو عرب نیوز
کہانی یہ ہے کہ چار سال پہلے ایک دن ٹرمپ، راجو کے خوابوں میں آئے اور انہوں نے امریکی رہنما ٹرمپ کا مجسمہ بھی تیار کیا۔ 
ان کے کزن بسا سنجے کمار نے عرب نیوز کو بتایا  ’اس مجسمے کی تعمیر کے لیے انہوں نے 200000 انڈین روپے  خرچ کیے۔ 
کونے گاؤں کی آبادی 3000 افراد اور خواندگی کی شرح 50 فیصد سے کم ہے۔ یہ ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد سے تقریبا 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔ کونے کے رہائشیوں نے راجو کے بارے میں کچھ سال پہلے تک نہیں سنا تھا جب اس نے اپنا نام تبدیل کیا۔ 
سنجے نے کہا  ’جب انہوں نے اپنا نام ٹرمپ کرس سے بدل لیا تو علاقے کے لوگوں نے انہیں اس نام سے پکارنا شروع کیا۔‘ سنجے نے مزید کہا ’راجو نومبر کے انتخابات میں امریکی صدر کے جیتنے پر اپنی امید لگا رہے تھے۔‘ 
گاؤں کے سربراہ وینکٹ وروملہ گوڑ نے بتایا کہ راجو اس سال کے شروع میں ٹرمپ کے انڈیا کے دورے کے دوران ان  سے ملنے کے لیے بھی گئے تھے۔ 
 
گوڑنے عرب نیوز کو بتایا  ’راجو حیدر آباد کے قونصل خانے گئے اور ان سے امریکی صدر سے ملاقات طے کرنے کی درخواست کی لیکن ایسا نہیں ہوا اور وہ غمزدہ تھے۔‘ 
اتوار کی رات دیہاتیوں نے راجو کی موت پر دکھ کا اظہار کرنے کے لیے موم بتی مارچ کیا۔ 
کونے کے رہائشی سرینواس ریڈی نے عرب نیوز کو بتایا ’ہمارے ٹرمپ کے مرنے پر کونے گاؤں اور آس پاس کے علاقے افسردگی کی حالت میں ہیں۔‘ 
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنا ٹرمپ کھو بیٹھے۔ ’راجو نے ہمارے گاؤں میں قومی توجہ دلائی۔‘

 

0 comments

Leave a Reply