مسلمانوں کی مذہبی دل آزاری کا سلسلہ یونہی باقی رہے گی

عظیم اختر

حرف نیم کش

آج جب کہ ملک کے کچھ مخصوص علاقوں میں سرکار کی چھتر چھایہ میں سیکولرازم کا پودا قریب قریب مرجھا چکا ہے، مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی روپہلی کرنیں اپنی چمک دمک کھو چکی ہیں، باہمی اخوت اور اعتماد ویقین بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، ایسے میں ہندوتوا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، جس کی آڑ میں تعصب زدہ گودوں میں پلے بڑھے اور فرقہ پرستی کی لوریاں سنے ہوئے عناصر نے اسلام دشمنی اور مسلم مخالفت میں اٹھتے بیٹھتے ہرزہ سرائی کرنا اور اپنی ذہنی خباثتوں کو زبان پر لانا اپنا شعار بنا لیا ہے۔

 

سر پر ٹوپی ، چہرے پر داڑھی اور جسم پر کُرتے پاجامے کو دیکھ کر کرونا کا چلتا پھرتا جرثومہ سمجھنا یا دیش دروہی قرار دینا ایک عام مزاج بن گیا ہے۔ اس عام مزاج کی وجہ سے ضمیر فروش ٹی وی چینلوں، سوشل چیٹنگ کے پردے میں فیس بک اور انسٹرگرام وغیرہ پر فرقہ پرستی پھیلانے ، مذہبی نفرت کو ہوا دینے اور عدم رواداری کو ہر سطح پر فروغ دینے کا بازار اس طور گرم ہو چکا ہے کہ اگر پانچ دس سال ایسے ہی اور گزر گئے تو عوام کے ذہنوں سے مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کا تصور نہ صرف ختم ہو جائے گا بلکہ ملک کی یہ دوسری بڑی اکثریت نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی کگار پر کھڑی ہوئی نظر آئے گی۔

 یہ صورتِ حال امن و آشتی اور پیار و محبت اور اہنسا کا گہوارہ کہلوائے جانے والے اس ملک کے لیے نہایت ہی افسوسناک ہوگی جہاں مسلم دورِ حکومت کے چھ سو سات سو سال میں ہندووں، مسلمانوں کے درمیان نفرتوں کی دیوار کبھی کھڑی نہیں ہوئی اور مذہبی دل آزاری اور عدم رواداری کی گرم ہوا کبھی نہیں چلی۔ اگرچہ آج ان مسلم حکمرانوں کی شبیہ مسخ کرنے اور ان کے دورِ حکومت کو تاریک دور قرار دینے کی منصوبہ بند کوششیں کی جا رہی ہیں ،حتیٰ کہ ٹیپو سلطان جیسے رعایا پرور اور ملک کی آزادی کے لیے میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے حاکمِ وقت پر بھی ہندوتوا کے ان نام نہاد علمبرداروں نے دیش دروہی اور اینٹی ہندو ہونے کا ٹھپہ لگا کر مذہبی نفرت اور عدم رواداری کے ان بد ترین جذبوں کا ثبوت دیا ہے جس کی مثال کسی بھی مہذب ملک میں تلاشِ بسیار کے بعد بھی شاید نہ مل مل سکے۔

 

چھ سو سات سو سالہ مسلم دورِ حکومت کی تاریخ اور اس کے صفحات شاہد ہیں کہ مطلق العنان اور طاقتور مغل فرمانرواوں نے اس ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی غیر مسلم رعایا اور یہاں کی اکثریت کے مذہبی جذبات کا نہ صرف احتراز کیا بلکہ پوجا کی صدیوں پرانی روایتوں کے مطابق دیوی دیوتاوں کی پرستش اور پوجا کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ مغل حکمراں گرچہ دینِ حق کی تبلیغ کرنے کے لیے ہندوستان پر حملہ آور نہیں ہوئے تھے اپنی مملکت کی حدود کو وسیع سے وسیع تر کرنے کا جذبہ ان کو یہاں کھینچ لایا تھا، لیکن یہ قرآنی تعلیمات کا اعجاز ہی تھا کہ مطلق العنان اور غیر معمولی طاقتور حکمراں ہونے کے باوجود انھوں نے یہاں کی اکثریت کے معبودوں اور دیوی دیوتاوں کی شان میں کسی بھی قسم کی بے حرمتی کو جنم ہونے نہیں دیا، یہی وجہ ہے اس دور کے عام مسلمانوں نے اپنے ہم مذہب حکمرانوں کے زعم میں یہاں کی اکثریت کی مذہبی دل آزاری کبھی نہیں کی اور ان کے مذہبی جذبات اور رسم و رواج کا ہمیشہ احترام کیا جس کی وجہ سے صدیوں پر محیط اس دور کی تاریخ میں ہندو مسلمان اور دوسرے مذہب کے لوگ شانہ بشانہ کھڑے اسی لیے نظر آتے ہیں اور مذہبی منافرت کا چھوٹا سا حوالہ بھی تلاشِ بسیار کے بعد نظر نہیں آتا۔

یہ اس ملک کے ماضی بعید و قریب کا وہ روشن اور تابناک حوالہ ہے جسے ہندو توا کے نام نہاد علمبرداروں کی شدت پسندی اور بد ترین تنگ نظری نے دھندلا دیا ہے اور ملک کو ایک ایسے دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں اقتدار کے نشے میں چور ہو کر مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے صرف بہانے ڈھونڈے جارہے ہیں اور ہر کس و ناکس اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرنے کے لیے اُدھار کھائے ہوئے بیٹھا ہے۔

دنیا کے دوسرے چھوٹے بڑے مذاہب کی طرح ہندو مت میں بھی کسی کی مذہبی دل آزاری پاپ سے کم نہیں۔ یہ ہندو مت کی بڑی واضح تعلیم ہے لیکن یہ المیہ سے کم نہیں کہ ہندو مت کی اس واضح تعلیم کو طاق پر رکھا دیا گیا ہے اور تھوتھے چنے خوب بج رہے ہیں۔ یہ حقیقت دنیا پر عیاں ہے کہ اس کرہارض پر سانس لینے والے کلمہ گو کے لیے قیامت تک ناموسِ رسول جان سے بھی زیادہ عزیز ہے اور حضورِ اکرم کی شان میں معمولی سی گستاخی برداشت نہیں کر سکتا، جس کی تازہ ترین مثال گزشتہ دنوں بنگلور میں نظر آئی جہاں پولیس کی گولیوں کے سامنے تین نوجوان مسلم لڑکوں نے ناموسِ رسول کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور سو سے زیادہ کلمہ گو حراست میں لے لیے گئے۔

 

مسلمانوں کے لیے ناموسِ رسول کا معاملہ غیر معمولی اہم اور حساس ترین نوعیت کا ہے، اسی لیے مسلم ممالک میں رسولِ اکرم کی شان میں گستاخی کرنے والوںپر وہاں کے مخصوص قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جاتا ہے اور سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں، لیکن دوسرے ممالک میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ضابطوں کے تحت ہی کارروائی کی جاتی ہے۔ تعزیراتِ ہند میں بھی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور مجروح کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی دفعہ موجود ہے لیکن ہم نے آج تک اہانتِ رسول کرنے والے کو کیفر کردار تک پہنچتے ہوئے نہیں دیکھا جس کی اصل وجہ اس دفعہ میں پیچیدگی اور قانونی سقم ہے، جس کی وجہ سے اہانتِ رسول کا مرتکب عدالتی کارروائی کے دوران کسی نہ کسی منزل پر بچ نکلتا ہے اور مسلمان صرف منہ تکتے ہوئے رہ جاتے ہیں۔

 

بنگلور میں رسول اکرم کی شان میں گستاخی کرنے والا بھی اس دفعہ کے لچکیلے پن کی وجہ سے کیفرِ کردارتک نہیں پہنچ پائے گا اور سزا سے بچ نکلے گا لیکن زبان کے جن سو ڈیڑھ سو مسلمانوں پر پولیس انتظامیہ نے بلوہ کرنے، سرکاری پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے مقدمے قائم کیے ہیں وہ نہ جانے کب تک عدالتوں کے نہ صرف چکر کاٹتے رہیںگے بلکہ مقدمات کے اخراجات سے بھی زیر بار ہونا پڑے گا۔

 

ممکن ہے ان میں سے بیشتر لوگوں کے قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑے کیونکہ جب پولیس انتظامیہ بلوائیوں کے نام پر مسلمان ہونے کی وجہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے لیے اپنی قانون دانی سے تمام گھوڑے کھول دیتا ہے تو خربوزے اور چھری کی کہاوت یاد آجاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ملک کے اس نئے سیاسی و سماجی ڈھانچے میں مسلمانوں کی مذہبی دل آزاری کا یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں یونہی جاری رہے گا۔ اینٹی مسلم عناصر کا کھیل یہی ہے کہ مسلمانوں کو ہیجان میں مبتلا کرو، بھڑکاو اور سڑکوں پر لے آو جہاں نظم و نسق برقرار رکھنے کے نام پر پولیس اور انتظامیہ ان کو زندگی بھر نہ بھولنے والا سبق اچھی طرح پڑھا دے گا۔ سوال یہ ہے کہ مسلمان اسلام دشمن عناصر کے اس ٹریپ کا کب تک شکار ہوتا رہے گا اور کب تک جان و مال کا مسلسل نقصان اٹھاتا رہے گا۔؟

نوٹ : محترم قائین ، مضمون نگار نے  یہاں  مسئلے کا  کوئی حل پیش کرنے کے بجائے آپ سے سوال کیا ہے، مضمون نگار کے خیال میں عین ممکن ہے کہ آپ کوئی بہتر حل پیش کر سکیں  ہم  بھی آپ سب سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس  ظلم کا کیا حل تجویز کرتے ہیں نیچے دیے گئے کمینٹ باکس میں ضرور درج کریں تاکہ ملت اسلامیہ کو اس ٹریپ سے نکالا جاسکے   ۔ 

 مضمون نگار سے رابطہ 

M: 9810439067

 

 

 

1 comments

  • Meher

    سب کو اپنی راۓ رکھنے کا حق ہے ۔کوئی سوال کرتا ہے کوئی جواب دیتا ہے۔
    مسلمانوں کو چاہئے کے اپنے اندر سے احساس کمتری کا ازالہ کریں اور منفی سوچ کے مقابلے مثبت سوچ اپنائے اور اپنی استطاعت بقدر سب جدوجہد کرتے رہے۔ یقیناً کوشش رائیگاں نہیں جاتی ،خواہ نتائج دیر سے ہی برآمد ہوں۔

    گرتا ہے شہ سوار ہی میدان جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے.

Leave a Reply