میڈیا بھی ایک مد ہے جو فی سبیل اللہ کے اندر شامل ہے جس میں صدقات وزکوٰۃ کی رقم کا استعمال کیا جانا چاہیے

قمرفلاحیؔ

اسلام میں مدات زکوۃ طے شدہ ہیں اور آٹھ ہیں۔ (1) فقرائ،(2)مساکین،(3)زکوۃ وصولنے والے،(4)تالیف قلب،(5)گردن چھڑانے میں،

(6)دیوالیہ شدہ شخص،(7)فی سبیل اللہ، اور (8)مسافر۔ سورۃ التوبہ 60۔

ان میں چند کا تعلق لوگوں کی انفرادی امداد سے ہے اور چند کا تعلق حکومت کو مضبوط کرنے کیلئے ہے۔مثلا فقرائ مساکین تالیف قلب گردن چھڑانا دیوالیہ شدہ شخص کی مدد کرنا اور مسافرین کی مدد کرنا یہ سب انفرادی امداد ہیں لیکن زکوٰۃ وصول کرنا اور فی سبیل اللہ ایسے مدات زکوٰۃ ہیں جوکسی نظام حکومت کو مستحکم کرنے کیلئے ہیں۔


فی سبیل سے اصلا مراد تو جہاد ہی ہے جو مظلوموں کی مدد کیلئے وجود میں آتا ہے جسے عام طور پر جنگ کا ترجمہ کرکے ساری روح نکال لی جاتی ہے ۔جہاد کا مطلب خون بہانا ہرگز نہیں ہے ،حکومت کی توسیع بھی نہیں ہےاور مال غنیمت میں اضافہ بھی نہیں ہے بلکہ کسی کی جان کی حفاظت کرنا ہے، اور انفرادی آزادی دلانے کی کوشش کرنا ہے ۔

 
آپ اگر غور کریں تو کیا یہی مدات ہیں جس میں ہم زکوٰۃ کی رقم لگاتے ہیں؟اور کیا ان مدات کے علاوہ کوئی اور مد نہیں ہے جہاں زکوٰۃ کی رقم لگائ جاسکتی ہے ؟ تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہیکہ اللہ پاک نے ان مدات میں ایک مشترک معنی رکھا ہے جو ہر مد کے اندر موجود ہے وہ ہے ضرورت مندوں کی مدد خواہ یہ ضروت فرد کی ہو، سماج کی ہو،یا حکومت کی۔ کیوں کہ انسانوں کی حالتیں انہیں تین کے درمیان ہوتی ہیں۔

 
مساجد میں زکوٰۃ کی رقم نہیں لگائی جاسکتی،مدارس میں تعمیرات کے نام پہ زکوٰۃ کی رقم نہیں لگائی جاسکتی اس پہ تقریبا علمائ کا اتفاق ہے ،اگر کہیں لوگ اس کا استعمال تعمیرات کیلئے کرتے ہیں تو حیلہ سے کام لیتے ہیں براہ راست ایسا نہیں کرتے۔

 
مدارس میں زکوٰۃ کی رقم دی جائے یا نہیں اس بابت بھی کوئی صریح روایت اور نص موجود نہیں ہے ،اہل مدارس فی سبیل اللہ کے مد کا استعمال اس کے جواز کیلئے کرتے ہیں اور زکوٰۃ وصدقات وصولتے ہیں ۔

 
دراصل سورہ توبہ کی آیت نمبر ساٹھ میں جو مدات زکوٰۃ بیان ہوئے ہیں اس میں زکوٰۃ کا لفظ ہی نہیں ہے بلکہ صدقات کا لفظ ہے،اب اگر صدقات و زکوٰۃ دونوں الگ الگ ہیں تو بات درست ہے اور اگر صدقہ ہی زکوٰۃ ہے تویہ بات قابل غور ہے کیونکہ مسلمانوں پہ زکوٰۃ فرض ہے صدقات نہیں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں یہاں لوگ صدقہ کا ترجمہ زکوٰۃ کرتے ہیں اور اقیموالصلوٰۃ و آتوالزکاۃ میں زکوٰۃ کا ترجمہ صدقہ کرڈالتے ہیں ؟

 
اب آپ یہاں غور کریں گے تو یہ بات کھل کر سامنے آئیگی کہ زکوٰۃ کے لئے نصاب ہے مگر صدقات کیلئے نصاب نہیں ہے ۔اور اسی طرح ضرورت مندوں کیلئے کوئی نصاب نہیں ہے کہ ایک ضرورت مند کو یہ اور یہ کرائی ٹیریا پورا کرنا ہوگا جب ہی وہ صدقات کی رقم لے سکتا ہے۔ ان کا صرف ایک کرائی ٹیریا ہے وہ ہے ضرورت۔ یہ ضرورت جس کسی کو پڑیگی جسے وہ اپنے مال سے پورا نہیں کرسکتا وہ صدقات کی رقم لینے کا اہل ہوجائے گا۔

 
فی سبیل اللہ کی مد میں انسانوں کی جان ومال کی حفاظت بھی شامل ہے اور یہ کام میڈیا کے لوگ بھی کرتے ہیں کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتےہیں لوگوں کو جاگرک اور بیدار رکھتے ہیں ،ارد گرد میں ہونے والے فراڈ اور مظالم پہ نشاندہی کرتے رہتے ہیں، جبکہ اصلا یہ کام حکومت کا ہے مگر اسے انفرادی طور پہ بہت ساری جماعتیں انجام دے رہی ہیں ۔کسی کے خلاف آواز بلند کرنا اپنے آپ میں جان جوکھم میں ڈالنا ہوتا ہے ،اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ کسی نہ کسی میڈیا والے کو ٹارگٹ کیا جاتاہے ۔

 
لہذا اس طور پہ میڈیا بھی ایک مد ہے جو فی سبیل اللہ کے اندر شامل ہے جس میں صدقات وزکوٰۃ کی رقم کا استعمال کیا جانا چاہیے ایسا میرا ماننا ہے۔
فی سبیل اللہ سے مراد پہریداری بھی ہے اور یہ میڈیا والے پہریداری کا کام کرتے ہیں ۔

 
اس وقت پوری دنیا کو ایک غیرجانبدار میڈیا کی ضرورت ہے یہ ضرورت مومن ہی پورا کر سکتے ہیں اور مومن کے پاس ناجائز مال نہیں ہوتا ہے لہذا انہیں صدقات کی رقم ہی اس میں لگانے ہوں گے اس طرح صدقات کا میڈیا میں لگانا جائز ہوا۔ یا یوں سمجھیں کہ مومن جو مال میڈیا کی مد میں لگائے گا ان کا مال صدقہ میں شمار ہوگا۔

 
کسی بھی مسلم جماعت کا کوئی نا کوئی آرگن ہوتاہے جس میں وہ اخبارات مضامین اور تجزیہ کو شامل کرتے ہیں اور اس کا سارا خرچ زکوٰۃ وصدقات سے ہی پورا کیا جاتاہے ۔لہذا اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ صدقات کو میڈیا میں استعمال کرنا جائز ہے۔


یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور نہایت کم لاگت میں ایک میڈیا چینل کو شروع کیا جاسکتاہے لہذا میری گزارش ہوگی کہ مدارس کے فارغین،ائمہ مساجد،اور عمائدین شہر اس میں آگے آئیں اور اپنے علاقائی پیمانہ پہ ایک میڈیا چینل شروع کریں اور اہتمام سے ان خبروں کو دیکھا کریں تاکہ حالات سے آگہی ہوسکے۔
مدارس کے نصاب میں میڈیا کو شامل کیا جائے اور اس کی بنیادی معلومات طلبائ کو فراہم کرائے جائیں۔


اللہ تعالی نے سورۃ حجرات اور سورہ نسائ میں میڈیا سے متعلق رہنمائی فرمادی ہے کہ کس خبر پہ کان دھرناہے اورکس پہ نہیں اور یہ فرمایا کہ خبروں کو جانکاروں تک بھی پہونچاناچاہیے تاکہ وہ تجزیہ کر کے کسی نتیجے پہ پہنچ سکیں ۔اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھد ھد کو خبر لانے کیلئے بیھجا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جاسوس بھیجنے کااہتمام کیا اور اس سے آگے کی منصوبہ بندی کی۔

0 comments

Leave a Reply