امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی گہری خلیج میں دھکیل دیا ہے

اشرف علی بستوی

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک وقتی جھڑپ ہے یا ایک طویل اور ہمہ گیر تصادم کا آغاز؟

حالیہ بحران کی شدت اس وقت بڑھی جب ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی شہادت کی خبر سامنے آئی۔ تہران نے اسے محض ایک سیکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ اپنے نظام اور خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ اس ردعمل نے واضح کیا کہ ایران اس واقعے کو محدود دائرے میں رکھنے کے بجائے ایک بڑے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

گزشتہ برس جون میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی، جسے “Midnight Hammer” کہا گیا، پہلے ہی تعلقات میں زہر گھول چکی تھی۔ تاہم اس بار ایران کا ردعمل زیادہ منظم اور وسیع تردکھائی دیتا ہے۔ ابتک کی اطلاعات کے مطابق خلیجی خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا اور بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کو صرف اپنی سرزمین تک محدود رکھنے کے بجائے اسے علاقائی سطح پر لے جانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

ایران کی موجودہ حکمت عملی تین نکات پر مبنی ہے ٹارگیٹیڈ جوابی کارروائیاں، نفسیاتی دباؤ اور اندرونی استحکام کا مظاہرہ ۔ تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ فوری جذباتی ردعمل کے بجائے طویل مزاحمت کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ یہی پہلو اس کشیدگی کو ایک طویل بحران میں بدل سکتا ہے۔

دوسری طرف امریکہ کی حکمت عملی عموماً فوری اور فیصلہ کن نتائج پر مبنی ہوتی ہے۔ لیکن اگر ایران غیر روایتی اور طویل مزاحمتی ماڈل اختیار کرتا ہے تو واشنگٹن کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ نہ صرف مالی اور عسکری بوجھ بنے گی بلکہ امریکی عوامی رائے پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

اس تنازع کے عالمی اثرات بھی کم نہیں ہوں گے۔ خلیج میں کشیدگی بڑھنے کا مطلب ہے تیل کی سپلائی خطرے میں پڑنا۔ Saudi Aramco جیسی تنصیبات پہلے بھی حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ اگر تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی معیشت دباؤ میں آ سکتی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔

ہندوستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر حساس ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک سے توانائی کی ضروریات وابستہ ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ لاکھوں بھارتی شہری خلیج میں کام کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں نئی دہلی کو نہایت محتاط اور متوازن سفارت کاری اپنانا ہوگی۔

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ بحران مکمل جنگ میں تبدیل ہوگا یا کوئی سفارتی راستہ نکل آئے گا۔ تاہم ایک بات واضح ہے، طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور خطہ ایک نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر حالات قابو میں نہ آئے تو یہ کشیدگی برسوں تک اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

سوال اب صرف یہ نہیں کہ کون مضبوط ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون طویل قوت برداشت رکھتا ہے۔ کیا ایران واقعی ایک لمبی لڑائی کے لیے تیار ہے؟ اور کیا امریکہ اور اسرائیل اس جنگی کھیل کو جاری رکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ آنے والے دن اس کے جواب دیں گے، مگر فی الحال مشرقِ وسطیٰ ایک غیر یقینی دور میں داخل ہو چکا ہے۔

مضمون نگار ایشیا ٹائمز کے چیف ایڈیٹر ہیں  

0 comments

Leave a Reply