ایشیا ٹائمز کی خبر پر مشاورت (رجسٹرد) کے صدر نے وضاحتی بیان جاری کیا : کہا ،میری قانونی لڑائی مشاورت کے خلاف نہیں بلکہ افراد کے خلاف ہے

ڈاکٹر خان نے کہا کہ ایشیا ٹائمز کی 16 اگست کے مسلم کنونشن سے متعلق رپورٹ "بڑی حد تک درست" تھی لیکن اس میں کچھ نکات حقائق کے برعکس بیان ہوئے ہیں۔


نئی دہلی، 18 اگست (ایشیا ٹائمز) – آل انڈیا مسلم  مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) کے مسلم کنونشن سے متعلق  ایشیا ٹائمز کی حالیہ رپورٹنگ پر اعتراض کرتے ہوئے سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن  و مشاورت (رجسٹرڈ) کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے آج ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی قانونی کارروائیاں مجلسِ مشاورت کے خلاف نہیں بلکہ بعض افراد کی آمرانہ روش اور ان کے ذاتی الزامات کے خلاف ہیں۔

 
ڈاکٹر خان نے کہا کہ ایشیا ٹائمز کی 16 اگست کے مسلم کنونشن سے متعلق رپورٹ "بڑی حد تک درست" تھی لیکن اس میں کچھ نکات حقائق کے برعکس بیان ہوئے ہیں۔

 

ڈاکٹر خان کے خط کو ہم یہاں پبلش کررہے ہیں ۔

ملاحظہ فرمائیں 

اس سے قبل ایشیا ٹائمز کی وہ رپورٹ دیکھیں جس پر ڈاکٹر خان نے اعتراض کیا ہے 

 

https://youtu.be/ocQ31w6IFT8?si=ZRan-kXDXEj7VCw4


................................................



برادرم اشرف بستوی صاحب


السلام علیکم
آپ کی ۱۶؍ اگست کے مسلم کنونشن کے بارے میں رپورٹ دیکھی۔ بڑی حد تک ٹھیک تھی لیکن اس میں جان بوجھ کر یا انجانےمیں کئی غلط بیانیاں ہیں جو آپ جیسے مجھے ہوئے صحافی کے لئے زیب نہیں دیتی ہیں، مثلا:
۔ انیس درانی کا مقدمہ خود مشاورت کے خلاف نہیں  تھا بلکہ نویدحامد کی دھاندلیوں اور آمرانہ حرکتوں کے خلاف تھا۔
۔ انیس درانی کا مقدمہ سنہ۲۰۱۸  کے شروع میں دائر کیا گیا تھا اور ۲۰۱۹ میں نوید کی مدت ختم ہونے سے پہلے واپس لے لیا گیا تھا  تاکہ دوبارہ الیکشن ہو سکے جو دسمبر۲۰۱۹ کے آخر میں ہونا چاہئےتھے۔  لیکن نوید نے انتخابات نہیں کرائے۔

 
۔ نوید حامد نے مقدمے کا بہانہ بنا کر سپریم گائیڈنس کاؤنسل کے صدر مولانا جلال الدین عمری سے ایک ”مشورہ“ لکھوا لیا کہ ان کی مدت میں دو سال کی تجدید کر دی جائے کیونکہ مقدمہ کی وجہ سے ان کی صدارت متأثر ہوئی تھی۔ اول تو سپریم گائڈنس کاؤنسل اس طرح کا ”مشورہ“ دینے کی کسی طرح مجاز نہیں تھی، دوسرے یہ بات بالکل غلط تھی کہ ان دو سالوں (۲۰۱۸ - ۲۰۱۹)میں نوید حامد نے صدارت کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ نویدحامد کا انتخاب بلامقابلہ عمل میں آیا تھا کیونکہ مخالف امیدوار محمدادیب صاحب نے اس وقت جاری خلفشار اور نویدحامد کی آمرانہ حرکتوں کی وجہ سے اپنا نام بحیثیت صدارتی امیدوار واپس لے لیا تھا۔ یوں عدالت کی طرف سے بندش صدراتی انتخاب پر نہیں بلکہ صرف مجلس عاملہ کے انتخاب پر تھی اور عدالت نے نویدحامد کو مشاورت کی عام سرگرمیاں کرنےکی اجازت دی تھی جس کا انھوں نے پورا فائدہ اٹھایا ۔  ۱۶؍ فروری۲۰۱۹ کی  سپریم گائڈنس کاؤنسل  کی میٹنگ میں، میں نے ۲۰۱۸ ۔  ۲۰۱۹ کی میقات کے دوران مذکورہ  صدر کے مختلف کاموں کی تقریبا سو(۱۰۰) صفحات پر مشتمل ایک ضخیم فائل  صدر سپریم گائیڈنس کاؤنسل کوپیش کی  تھی جس سے ثابت ہے کہ اس عرصے میں نویدحامد نے ہر وہ کام کیا جو صدر مشاورت کرتا ہے۔


۔ اسی سپریم گائڈنس کاؤنسل  میٹنگ میں، میں نے مولانا عمری، مولانا نظام الدین اصلاحی اور مولانا اصغرامام مہدی سلفی کو حَکَم ماننے کی تجویز پیش کی کہ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، وہ مجھے منظور ہو گا لیکن نویدحامد نے اس تجویز کو ماننے سے قطعا انکار کر دیا۔


۔ سپریم گائڈنس کاؤنسل کے صدر کا غیرمجاز ”مشورہ“ بھی دسمبر۲۰۲۱ میں ختم ہو گیا لیکن نویدحامد نے کوئی انتخاب نہیں کرایا۔ اسی مدت میں یکطرفہ طور سے اور بغیر مناسب مشوروں کے بیلٹ کے ذریعے نیا دستور پاس کرا لیا جس میں ”پسماندہ“ لوگوں کے لئے مشاورت میں رزرویشن دیا گیا جو کسی مسلم تنطیم کے لئے کلنک ہے۔ ہم کو اس قسم کے امتیازی سلوک کو ختم کرنا ہے نہ کہ اس کو ایک دستوری حیثیت دینا۔
۔ نویدحامد نے آمرانہ طور سے مشاورت کے ۶۹؍ قدیم ممبران کی ممبرشپ کو یک لخت ختم کر دیا تاکہ تنظیم پر ان کا مکمل تسلط ہو سکے۔


۔ اس کے بعد انھوں نے ایک ایسے انسان کو صدر بنایا جو مشاورت کی میٹنگوں میں کبھی شریک نہیں ہوا اور جس کی تنظیم کا مشاورت میں کاغذی  ممبرشپ کے علاوہ کوئی رول نہیں رہا۔ مقصد تھا کہ اس طرح وہ مشاورت پر بدستور قابض رہیں  اور یہ سلسلہ  اب بھی چل رہا ہے۔


۔ میں نے مشاورت کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں کیا ہے۔ میں نے صرف  نویدحامد اور بعد میں شیخ منظور احمد کے خلاف ذاتی طور سے مقدمہ کیا ہے کیونکہ ان لوگوں نے  مجھ پر مشاورت کی دستاویزات کی چوری کا الزام لگایا ہے اور اس کو مختلف طریقوں سے پھیلایا ہے۔ یہ مقدمہ مشاورت کے خلاف نہیں  ہے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک  غیررجسٹرڈ تنظیم ہونےکی وجہ سے مشاورت (نویدگروپ) کے خلاف کسی عدالت میں مقدمہ کیا ہی نہیں جا سکتا ہے بلکہ قانونی طور سے اس کے تمام ممبران  کو نامزد کرکے  ہی  مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔


۔ پچھلے دنوں نویدحامد نے پریس کانفرنس بلا کربیرونی  فنڈنگ کے عنوان سے میرے  اور مشاورت (رجسٹرڈ) کے خلاف ایک نیا الزام عائد کیا ہے اور حکومت و ایجنسیوں کو ورغلانے کی کوشش کی ہے کہ میرے اور مشاورت (رجسٹرڈ) کے خلاف کارروائی کریں۔ اس مجرمانہ ہتک عزت کے خلاف بھی میں جلد نویدحامد کے خلاف ایک اور  مقدمہ درج کرنے والا ہوں۔ فیروزانصاری کے خلاف بھی ، جو ان الزامات کو دہرا رہے ہیں ،مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔ ایک مہذب سماج میں لڑائی جھگڑے کے بجائے قانونی اور عدالتی راستہ ہی مسائل کو مہذب طریقے سے سلجھانے کا ہے۔


والسلام


ڈاکٹر ظفرالاسلام خان


۱۸/۸/۲۰۲۵

0 comments

Leave a Reply