مسلم ملت اپنی سیا سی شناخت کے ساتھ سیاست میں حصہ لے /مجتبیٰ فاروق
مجتبیٰ فاروق سے خصوصی انٹر ویو
مسلم ملت اپنی سیا سی شناخت کے ساتھ سیاست میں حصہ لے /مجتبیٰ فاروق
گزشتہ دنوں حیدرآباد میں ویلفیر پارٹی آف انڈیا کی فیڈرل باڈی کی میٹنگ ہوئی جس میں نئے صدر کا انتخاب عمل میں آیا ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کو دوسری چار سالہ میقات کے لیے پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا ہے ۔ یہ وسط مدتی انتخاب پارٹی کے سابق صدر جناب مجتبیٰ فاروق کےاستعفے کے بعد عمل میں آیا۔ لیکن انتخاب کے بعد اردو اخبارات میں سابق صدر کے استعفے اور نئے صدر کے انتخاب کے تعلق سے کچھ ایسی خبریں آئیں جنہوں نے وابستہ افراد کے ذہنوں میں کچھ سوالات پیدا کر دیے ، بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت نہیں برتی گئی ، تو بعض کا خیال ہے کہ سابق صدر کے کام کرنے کا طریقہ پارٹی کی طے شدہ پالیسی کے مطابق نہیں رہا اس سلسلے میں ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس صاحب کا انٹرویو شائع ہو چکا ہے ، جس میں اگرچہ انہوں نے پارٹی کی پالیسی ،آئندہ امکانات اور ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال سے بحث کی ہے ،ضمنا یہ مسائل بھی زیر گفتگو آئے تھے اب مجتبیٰ فاروق صاحب کے ساتھ اشرف علی بستوی کی گفتگو پیش ہے ۔
سوال: آپ نے گزشتہ دنوں پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دےدیا ،کیا اس کے پیچھے کوئی خاص سبب تھا ؟
جواب- میں نے خود پارٹی سے استعفی دیا ہے ، اور یہ رائے میں نے بہت پہلے سے قائم کر لی تھی ، مجھ سے کسی بھی جانب سے استعفی کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا ، میں نے کچھ ذاتی وجوہ کی بنا پر معذرت کی تھی۔ البتہ اس پر عمل ہونے میں کچھ وقت لگا اس درمیان ایسی خبریں میڈیا میں آتی رہیں ، لیکن مجھے بخوبی یاد ہے میں نے کسی خبر پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی دراصل اردو میڈیا نے اسے غیر ضروری طور پر طول دیا جس کی وجہ سے تھوڑی سی بدمزگی ہوئی اور اب بھی وقفے وقفے سامنے آتی رہتی ہے حالانکہ یہ معاملہ اب ختم ہو چکا ہے ۔
سوال: کہا جارہا ہے کہ پہلی میقات ایڈہاک تھی ، پارٹی کا مکمل ڈھانچہ قائم ہونے تک کے لیے تھی ؟ کیا ایسا کوئی فیصلہ پارٹی نے قیام کے وقت کیا تھا ؟
جواب - دراصل اس پورے معاملے میں کنفیوزن کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے ۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ، بات صرف سمجھنے اور سمجھانے کی ہے دستور میں شروع سے ہی چار سال کی مدت طے کی گئی تھی اور اس وقت انتخاب کا جو طریقہ ممکن تھا اپنا یا گیا ۔ انتخاب کے اس طریقے کو تو ایڈہاک کہہ سکتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ آج بھی وہی صورت حال ہے ابھی بھی پوری طرح پارٹی کا ریاستی ڈھانچہ نہیں بن سکا ہے ۔ ایسا کوئی فیصلہ پارٹی نے کسی سطح پر نہیں کیا تھا ۔یہ مدت کار چار برس کی تھی جب میں نے ایک سال قبل معذرت کرلی تو اب پھر سے چار سال کے لیے نیا انتخاب ہوا ہے لیکن یہ نہ پہلے ایڈہاک تھا اور نہ اب ہے اور نہ پہلے پارٹی کا مکمل نیٹ ورک تھا اور نہ اب ہے ۔
سوال: ویلفیر پا رٹی کا قیام کن حا لات میں عمل میں آیا اوراس کے اغراض و مقا صد کیا تھے ، کام کی ترجیحات کیا طے کی گئی تھیں ،اس کے قیام میں جماعت کیا رول رہا ہے ؟ آپ نے پارٹی کو طے شدہ بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیےاور کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب- میں یہ سمجھتا ہوں کہ پارٹی بنانے کی تحریک جماعت اسلامی نے شروع کی تھی اور ہم جماعت اسلامی کے افراد ہیں ، ہماری ترجیح اور بنیاد تو جماعت اسلامی ہی ہے۔ دراصل ہمارے درمیان دو مسئلے ہیں پہلا مسئلہ ہماری فکر کا اور دوسرا اس فکر کی تعبیر کا ۔ جماعت ایک زمانے تک انتخابی سیاست سے دور رہی لیکن بعد میں اس نے نہ صرف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا بلکہ باقاعدہ ایک پارٹی قائم کرنے کے لیے کام کیا ۔ ووٹ نہیں دینے کی بھی بنیاد تھی اور جب ووٹ دینے کا فیصلہ لیا تواس کے لیے بھی جواز تھا ۔ اور یہ جواز ہمارے لیے ایک جملے کا فتوی سمجھا جا سکتا ہے ، وہ یہ کہ موجودہ نظام غیر اسلامی ہے اس میں شرکت ناجائز ہے لیکن اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس میں شرکت کی جاسکتی ہے ۔ یہی بنیادی بات ہمیں یاد رکھنے کی ہے۔ جب ہم اس کو دین کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور دین یہ جواز فراہم کرتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے تحفط کے لیے ہم جو بھی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں اسی کی ایک اہم کڑی سیاسی پارٹی بھی ہے ۔
جب ہم سیاسی پارٹی رجسٹرڈ کراتے ہیں تو اس کی کچھ لازمی شرائط ہیں جو ہمیں ملک کے دستور سے وفاداری اوراس کی پابند بناتی ہیں، سیکولرزم اور جمہوری نظام سے وفاداری کا اظہار ضروری ہوتا ہے ۔ اس طرح ہماری پارٹی ایک سیکولر بنیاد پر کھڑی ہوگی اور ہمارے نزدیک سیکولر کے معنی بے دینی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شمولیت ہے بدقسمتی یہ ہے کہ ہندوستان میں سیاست ذات برادری کی بنیاد پر ہوتی ہے اور ہر سیاسی جماعت یہ کام کر رہی ہے یہاں تک کہ بائیں بازو کی جماعتوں میں بھی یہ عنصر پایا جاتا ہے ۔ ہم اپنی سیاست کی بنیاد ذات برادری کو نہیں بنا سکتے ۔ ہم ملکی سیاست کو ذات برادری کی سوچ سے نکالنے کی کوشش کریں گے ۔
سوال: ہندوستان میں مسلمانوں کی زیر قیادت سیاسی جماعت کے کام کرنے کا طریقہ اور اس کی ترجیحات کیا ہو نی چاہیے؟
جواب : ہمارا شمار ہندوستان کے محروم طبقات میں ہوتا ہے لہذا ہمیں محروم طبقات کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے ۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ آج ہم جن کی بات کررہے ہیں وہ محروم طبقات ہم سے بہت پہلے ہی اپنی سیاسی قوت بنا چکے ہیں کسی نہ کسی نام سے سیاست میں سرگرم ہیں اس لیے وہ اب بالکل آزاد نہیں کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہیں ان کی اپنی پارٹیاں ہیں یا کسی سیاسی پارٹی میں ہیں اور اپنے حصے کا سیاسی حق وصول کر رہے ہیں ۔ اگر کوئی محروم طبقہ ہے تو وہ مسلمان ہیں ۔اب اسے حالات کی مجبوری کہیں یا وقت کی ضرورت کہ اس صورت حال میں اگر آپ کو سیاست کرنی ہے تومسلما نوں کو پہلے مرحلے میں آگے رکھنا ہوگا اگر ایسا نہیں کریں گے تو ہم کوئی این جی او تو چلا سکتے ہیں سیاسی جماعت نہیں چلا سکتے ۔ چونکہ اس کو چلانے والے لوگ مسلمان ہیں اس لیے ہمیں بنیادی ووٹ مسلمانوں کا ہی ملے گا اور ہماری پہچان مسلم سیا سی جماعت کی ہی ابھرے گی، اس کے لیے ہمیں مسلم مسائل پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی اگر ہم مسلمانوں کو ساتھ لینے میں کامیاب ہوئے تو دوسرے طبقات کی لڑائی بھی لڑیں گے اور وہ ساتھ بھی آئیں گے لیکن اپنی طاقت بنائے بغیر دوسرے ہمارے ساتھ نہیں آسکتے اس بات میں شرمندگی محسوس کرنا کہ اگر ہم مسلم ایشوز کو لیکر اٹھیں گے تو ہم پر فرقہ پرستی کا لیبل لگ جائے گا ، یہ ہماری نا سمجھی ہوگی ، اس لیے کہ اسلام کو سمجھنے اور ماننے والے فرقہ پرست ہو ہی نہیں سکتے ، ہمارا تو یقین ہی یہی ہے کہ سبھی انسان آدم کی اولاد ہیں اور اسلام ہمیں ساری انسانیت کی بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ۔ وقت کا تقضا ہے کہ ہمیں اپنے ووٹ بینک بنانے کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے اس کے بغیر دوسروں کی حمایت نہیں مل سکتی ۔ ہم دوسروں میں ضرور دلچسپی لیں ، لیکن مسلم ووٹوں کو متحد کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے ۔
سوال: کیا آپ نی یہ باتیں پارٹی کے اندر اٹھائی تھیں ؟
جواب : ہم نے پارٹی کے اندر مندرجہ بالا ایشوز پر رائے ہموار کرنے کی مستقل کوشش کی لیکن اتفاق رائے نہیں ہو سکا استعفے کی ایک وجہ یہ بھی رہی جب ہم نے سمجھا کہ اگرہم بحیثیت صدر اس معاملے کو حل نہیں کر پا رہے ہیں تو بہتر یہ ہے کہ ذمہ داری سے الگ ہو جائیں دوسری وجہ یہ رہی کہ جماعت کے کیڈر کی جانب سے وہ تعاون نہیں مل سکا جس کی امید تھی جو لوگ جماعت سے آئے انہوں نے اپنے تک ہی پارٹی کو محدود کر لیا باہر نہیں نکلے اس کی وجہ سے باہر سے جو لوگ آئے تھے وہ جانے لگے دوسروں کو باہر سے لانے کا کوئی کام نہیں ہو سکا، بار بار توجہ دہانیوں کی باوجود ان میں کوئی سرگرمی نہیں دکھائی دی۔
سوال: آپ کے نزدیک ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں مسلمانوں کی سیاسی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے ؟
جواب : اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کو کوئی عزت نہیں دینا چاہتا اس لیے مسلمان خود اپنی سیاسی پہچان بنانے کے لیے بے قرار ہیں مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اس کے گواہ ہیں ایم آئی ایم جیسی ایک نئی سیاسی جماعت کو مسلمانوں نے ووٹ دیا ۔ اس وقت اگر مسلمانوں پر فوکس کریں تو پارٹی کے لیے مواقع ہیں ۔ ہم نے پہلے دن سے یہ طے کیا تھا کہ مسلم سیاسی جماعتیں جو پہلے سے کام کر رہیں ہیں ہم ان سے ٹکراو کی صورت اختیار نہیں کریں گے ، جہاں سے یہ لوگ کھڑے ہوں وہاں سے ہم اپنے امید وار نہیں کھڑے کریں گے ۔ ہم نے تو یہ کام کیا لیکن ان پارٹیوں نے ہمیں روکنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے کہیں کہیں ہم نے جواب میں ان کے خلاف امیدوار کھڑے کیے ۔ اس وقت لوگ اپنی سیاسی حصہ داری چاہتے ہیں ۔ بنگال میں ہم نے کچھ چھوٹی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم تشکیل دینے کی کو شش کی ہے ، کچھ اور پارٹیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے کوشش کی گئی اس کے امکانات روشن ہیں ۔
سوال: مستقبل میں آپ کی سیاسی و سماجی سر گرمیاں کیا رہیں گی ؟
جواب : کسی دوسری پارٹی سے وابستہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ، ہم جماعت اسلامی کے لوگ ہیں جماعت اسلامی کی جانب سے صرف ویلفیر پارٹی میں کام کرنے کی اجازت ہے ۔ ویلفیر پارٹی کے نئے ذمہ داران کام کر رہے ہیں انہیں اگر کوئی ضرورت پڑی تو ہم تعاون کریں گے ۔ ویسے میرے پیش نظر اب ملی اور سماجی ایشوز ہیں جن پر یکسوئی کے ساتھ کچھ کام کر نے کا ارادہ ہے ، میڈیا اور ایجوکیشن کے میدان میں کچھ کام کر نا چاہتا ہوں اس کے لیے کوشش جاری ہے۔ میڈیا میں مرحلے وار اردو ہندی اور الیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے کا منصوبہ ہے ساتھ ہی ملک بھر میں ۔ ایسے ایجو کیشن کمپلیکس جہاں بنیادی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک کا نظم ہو بنانے کی کوشش ہے ۔ بنیادی تعلیم کے لیے انگریزی میڈیم کے ایسے اسکول جن کے نصاب میں دینی تعلیم کا بھی نظم ہو اور یہاں کم خرچ میں معیاری تعلیم دی جا سکے ۔ کیونکہ بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو بے تحاشا مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم نہیں دلا پا رہے ہم ان کے لیے کام کریں گے، صاحب حیثیت طبقے کے لیے ہر طرح کے اسکول پہلے سے مو جود ہیں ۔ عنقریب اس کی شروعات کچھ منتخب شہروں سے کی جائے گی -
بشکریہ سہ روزہ دعوت دہلی

0 comments